مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

جماعتِ اسلامی کو بیخ وبن سے اُکھاڑ پھینکنے کی مہم:

سوال: میں اپنے قصبہ… میں جماعتِ اسلامی کی طرف سے کام کررہا ہوں۔چند اور رفیق بھی میرے ساتھ ہیں۔انفرادی مخالفت پہلے بھی تھی جس کی رپورٹ میں اپنی جماعت کے مرکز کو بھیجتا رہا ہوں۔لیکن اب ایک معاملہ ایسا پیش آگیاہے کہ آپ سے استفسار کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔

پرسوں سے ایک مولانا صاحب جن کا نام ……ہے، یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں اور انھوں نے قصبے میں اپنے خاص اشتہارات(ایک نقل منسلک ہے ) [یہ ایک مطبوعہ اشتہار ہے جس میں تین دیوبندی علما کے فتوے درج ہیں]۔ کافی تعداد میں تقسیم کرائے ہیں۔پھر شام کو ایک بہت بڑے مجمع میں تقریر کرکے جماعتِ اسلامی کے خلاف بہت کچھ زہر اگلا ہے۔میں چند باتیں ان کی نقل کرکے ملتمس ہوں کہ ضروری تصریحات سے جلد ازجلد میری رہنمائی فرمائی جائے۔

مولانا مذکور کے ارشادا ت یہ تھے:

(۱) جماعتِ اسلامی کے بڑے امیر سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب نہ تو کوئی مستند عالم ہیں نہ کوئی مفسر۔ صرف اپنے ذاتی علم کی بنا پر ترجمہ اور تفسیر کرتے ہیں۔ اس کی مثال انھوں نے یہ دی ہے کہ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۝۰ۥۭ آل عمران3:92 کا ترجمہ ’’خطبات‘‘ میں یہ ہے کہ ’’نیکی کا مرتبہ تم کو نہیں مل سکتا جب تک کہ تم وہ چیزیں خدا کے لیے قربان نہ کر دو جو تم کو عزیز ہیں۔‘‘ اس کی تشریح میں مولانائے مذکور نے یہ فرمایا کہ دیکھو جماعتِ اسلامی تم کو نیک اور مسلمان نہیں سمجھتی جب تک کہ تم کل مال خدا کی راہ میں جماعت کو نہ دے دو۔ ورنہ اس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ تم نیکی میں کمال حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ اپنی پیاری چیز میں سے کچھ خدا کی راہ میں قربان نہ کرو۔ مطلب یہ ہے کہ نیک اور مسلمان تو تم ہر وقت ہو ہی، جب تک تم یہ کہتے ہو کہ ہم مسلمان ہیں، البتہ کامل جب ہو گے جب پیاری شے میں سے کچھ خدا کی راہ میں قربان کروگے۔

قرآن کے چند ترجموں میں میں نے بھی دیکھا ہے کہ لفظی ترجمہ یہی ہے جو انھوں نے کیا ہے۔ اس کی کیا تاویل ہو سکتی ہے؟

(۲) پھر انھوں نے یہ کہا کہ دیکھو جماعتِ اسلامی قرآن میں تحریف کرکے اس کو اپنے منشا کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے جو بہت بڑا ظلم ہے۔ اس کے ثبوت میں انھوں نے ایک رسالہ ترجمان القرآن جلد ۱۲، عدد۲، ماہ صفر مطابق اپریل ۱۹۳۸ء، ص ۱۳۹ پر سورۂ بقرہ، رکوع ۲۴ کی ایک آیت پیش کی ہے:

رسالۂ مذکور میں تحریر کردہ آیت یہ ہے: یایھا الناس ادخلوا فی السلم کافۃ…الخحالاں کہ قرآن پاک میں یہی آیت اس طرح درج ہے:

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً۝۰۠ …الخ البقرہ2:208 یہ ان کی ایسی دلیل ہے جو واقعی ہے اور مخالف لوگ اس تحریف سے جتنا بھی مشتعل ہوں کم ہے۔ چوں کہ یہ قرآن کا معاملہ ہے جس کی بقا کے لیے ہر مسلمان خواہ وہ بے عمل ہی کیوں نہ ہو، جان کی بازی لگا سکتا ہے۔ آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟

مولانا مذکور نے اپنی تقریر میں یہ بھی فرمایا ہے کہ میں نے جماعتِ اسلامی کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کا بیڑا اٹھایا ہے، اور جب تک اس کام میں کام یابی حاصل نہ کر لوں گا دوسرا کام اپنے اوپر حرام سمجھوں گا۔ اسی لیے انھوں نے چند علما کے فتاویٰ لے کر چھپنے کے لیے بھیجے ہیں جن کے ذریعے پروپیگنڈا کیا جائے گا۔

جواب: جو حالات آپ نے لکھے ہیں وہ اس سے کچھ مختلف نہیں ہیں جو پاکستان میں ہرجگہ رونما ہیں۔ ہم اور ہمارے مخالفین، دونوں اپنا اپنا نامۂ اعمال خود تیار کر رہے ہیں۔ جن اعمال کو ہم اپنے حساب میں درج کرانا چاہتے ہیں ان کے لیے کوشاں ہیں اور دوسرے فضول کاموں میں اپنا وقت ضائع کرنا پسند نہیں کرتے۔ اس کے برعکس ہمارے مخالفین نے اگر اپنے لیے یہی پسند کیا ہے کہ ان کے نامۂ اعمال میں ہماری مخالفت ہی سب سے نمایاں مقام پائے تو ضرور وہ اس کار خیر کو بڑھ چڑھ کر انجام دیں۔ ایک وقت آئے گا کہ ہم سب کے ہاتھ میں اپنا اپنا تیار کردہ کارنامۂ حیات دے دیا جائے گا اور حکم ہو گا کہ اقرأ کتابک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا

جومولانا صاحب آپ کے علاقے میں جماعتِ اسلامی کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کا بیڑا اٹھائے پھر رہے ہیں ان کے اعتراضات کا مختصر جواب یہ ہے:

(۱) خطبات کے جس مقام کو انھوں نے نشانۂ ملامت بنایا ہے،وہ ’’زکوٰۃ کی حقیقت‘‘ کے زیر عنوان آپ خود تلاش کرسکتے ہیں۔ لن تنالوا البر…الخ کا ترجمہ میں نے یہ کیا ہے: ’’تم نیکی کے مقام کو نہیں پاسکتے جب تک کہ وہ چیزیں خدا کی راہ میں قربان نہ کرو جن سے تم کو محبت ہے۔‘‘ اور اس سے میں نے مراد یہ لی ہے کہ اﷲ کا دوست بننے اور اس کی پارٹی(حزب اﷲ) میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اﷲ کی محبت پر جان،مال،اولاد،خاندان، وطن،ہر چیز کی محبت کو قربان کردے۔ اس کے ساتھ ذرامولانا اشرف علی تھانویؒ کے ترجمہ وتشریح پر بھی نگاہ ڈال لیں۔وہ ترجمہ یہ فرماتے ہیں کہ:’’تم خیر کامل کو کبھی نہ حاصل کرسکوگے،یہاں تک کہ اپنی پیار ی چیز کو خرچ نہ کرو گے۔‘‘ اور اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’شاید یہود کے ذکر میں یہ آیت اس واسطے فرمائی کہ ان کو اپنی ریاست عزیز تھی،جس کے تھامنے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نہ ہوتے تھے۔تو جب تک وہی نہ چھوڑیں، اﷲ تعالیٰ کی راہ میں درجۂ ایمان نہ پاویں۔‘‘ (ملاحظہ ہو معجز نما حمائل شریف، مطبوعہ ۳۵۷اھ، صفحہ۹۷) اب ہر شخص خوددیکھ لے کہ نہ میرا ترجمہ ہی مولانا ممدوح کے ترجمے سے کچھ زیادہ مختلف ہے اور نہ اس کی تشریح ہی میں معنی کے لحاظ سے کوئی بڑا فرق پایا جاتا ہے۔اس کے بعد معترض نے میرے ترجمہ وتشریح سے جو معنی نکالے ہیں، ان پر دوبارہ ایک نظر ڈال لیجیے۔ آخر میرے ترجمہ وتشریح سے یہ مطلب کیسے نکل آیا کہ جب تک کوئی شخص اپنا سارا مال خدا کی راہ میں جماعتِ اسلامی کے حوالے نہ کردے، یہ جماعت اس کو نیک اور مسلمان نہیں سمجھتی؟اس طرح جو لوگ دوسروں کو مطعون کرنے کے لیے اپنی طرف سے غلط باتیں گھڑکر ان کی طرف منسوب کرتے ہیں،ان کی یہ حرکت خود ہی ظاہر کردیتی ہے کہ وہ نفسانیت کی بنا پر مخالفت کررہے ہیں نہ کہ للہیت کی بنا پر۔

(۲) دوسری مثال جو انھوں نے دی ہے اس کو آپ کے دیے ہوئے حوالے سے میں نے اپریل۹۳۸اء کے ترجمان القرآن میں نکال کر دیکھا اور معلوم ہوا کہ یہاں آیت نقل کرنے میں واقعی مجھ سے سخت غلطی ہوگئی ہے اور افسوس ہے کہ اس غلطی کی وجہ سے ترجمہ بھی غلط ہوگیا ہے۔اس غلطی کو آج تیرہ سال گزر گئے۔ اس دوران میں آج تک نہ میری ہی نگاہ اس پر پڑی اور نہ کسی نے مجھ کو اس طرف توجہ دلائی۔ معترض بزرگ کا شکریہ کہ انھوں نے اس دیدہ ریزی کے ساتھ میری خطائوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور ایسی سخت غلطی پر ان کے ذریعے سے مجھے تنبہ ہوا۔اﷲ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔وہی بہتر جانتا ہے کہ یہ سہو تھا یا دانستہ تحریف۔ بہرحال میرا معاملہ تو اﷲ سے ہے۔معترض بزرگ اگر پبلک کو حاکم حقیقی سمجھتے ہیں تو انھیں پورا اختیار ہے کہ اس کو دانستہ تحریف قرآن کا جرم قرار دے کر لوگوں کے سامنے پیش کریں اور اس کا جتنا فائدہ اس دنیا میں اُٹھا سکتے ہوں،اُٹھائیں۔

اب چند کلمات ان فتووں کے متعلق بھی عرض ہیں جو آپ کے ارسال کردہ اشتہار میں درج ہیں اور جناب مولانا مہدی حسن صاحب،مولانا اعزاز علی صاحب اور مولانافخر الحسن صاحب کے قلم سے صادر ہوئے ہیں۔ان فتووں میں مجرد حکم بیان کیا گیا ہے،دلائل وشواہد درج نہیں ہیں۔ مولانا مہدی حسن صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ میری کتابوں اور مضامین میں کیا باتیں’’اہل سنت والجماعت کے طریقے کے خلاف ہیں‘‘ اور انھوں نے کہاں سے یہ نتیجہ نکالا کہ میں’’صحابۂ کرام اور ائمۂ مجتہدین کے متعلق اچھا خیال نہیں رکھتا‘‘،اور احادیث کے متعلق میرے کیا خیالات ہیں جو ان کے نزدیک ’’ٹھیک نہیں ہیں‘‘،اور میں نے کہاں یہ لکھا ہے کہ میں ’’بے عمل مسلمانوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتا‘‘۔ مؤخر الذکر دونوں بزرگوں نے بھی کچھ تھوڑی سی مزید تکلیف گواراکرکے وہ زہر پیش نہیں کیا جو جماعت کی جانب سے شہد میں ملا کر مسلمانوں کو استعمال کرایا جارہا ہے، اور نہ وہ دلائل ارشاد فرمائے جن کی بنا پر وہ مرزائیوں کو جماعتِ اسلامی کے’’اسلاف‘‘ (افسوس کہ دونوں صاحبوں کو شریف آدمیوں کی سی زبان لکھنے کی توفیق بھی میسر نہ ہوئی)قرار دیتے ہیں اور اس جماعت کو ان سے بھی زیادہ دین کے لیے ضررر ساں بتاتے ہیں۔اگر یہ اجمال واختصارمحض ’’ضیق وقت‘‘ کی وجہ سے ہے،جیسا کہ انھوں نے بیان فرمایا ہے،تو یہ بات نہایت افسوس ناک ہے کہ جن لوگوں کے پاس دلائل ووجوہ بیان کرنے کے لیے وقت نہیں ہے،ان کو دوسروں پر اس قسم کے لغو اور مہمل فتوے جڑنے کے لیے کافی وقت مل جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات اپنے فتووں کے لیے کوئی معقول دلیل اپنے پاس نہیں رکھتے،اس لیے انھوں نے محض چند سطری احکام جاری کرکے اپنے بغض کی تسکین کا سامان کیا ہے،تو میں اس کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ان کے حق میں خدا سے نیک ہدایت کی دعا کروں۔ بہرحال آپ موقع پائیں تو ان صاحبوں کو میرا یہ پیغام پہنچا دیں کہ آپ پر میرا اور جماعتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا،اور عام مسلمانوں کا یہ اخلاقی حق ہے کہ آپ اپنے فتوے کے دلائل ووجوہ بیان فرمائیں۔ان کی جو بات حق ہوگی،اسے قبول کرنے میںان شاء اﷲ دریغ نہ کیا جائے گا۔اور میں اپنی حد تک یقین دلاتاہوں کہ مجھے کبھی۱پنی غلطی تسلیم کرنے میں نہ تامل ہوا ہے نہ آئندہ ہوگا، بشرطیکہ میری غلطی دلائل سے ثابت کی جائے نہ کہ سبّ وشتم سے۔ اور اگر انھیں کوئی غلط فہمی لاحق ہوئی ہوگی تو اسے دلائل کے ساتھ رفع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔’’ترجمان القرآن‘‘کے صفحات خدمت کے لیے حاضر ہیں۔جس طرح مولانا حکیم عبدالرشید محمودصاحب گنگوہی کا مضمون بے کم وکاست یہاں شائع کرکے اس کا جواب دیا گیا ہے،اسی طرح ان کے ارشادات بھی کسی حذف وترمیم کے بغیر درج کیے جائیں گے اور جواب حاضر کردیا جائے گا۔ اشتہار بازوں کے لیے اوچھے ہتھیار فراہم کرنے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے علمی وقار کے ساتھ سامنے تشریف لائیں اور پوری بات کہہ کر دو سرے کا جواب سننے کے لیے تیار ہوں۔

دوسرے وہ حضرات بھی جو وقتاً فوقتاً اپنی مجلسوں میں میرے اور جماعتِ اسلامی کے خلاف اظہار فرماتے رہتے ہیں، میری اس گزارش کے مخاطب ہیں۔ ان سے کہیں سابقہ پیش آئے تو عرض کردیجیے کہ آپ کی شانِ تقویٰ اور جلالتِ قدر کے لحاظ سے یہ طریقہ کچھ موزوں نہیں ہے۔اولیٰ یہ ہے کہ شخص متعلق کو اپنے اعتراضات سے آگاہ فرمایئے تاکہ یا تو اس کی اصلاح خیال ہوجائے یا آپ کی غلط فہمیاں دو ر ہوجائیں۔ مجھے معلوم ہے کہ ان میں سے اکثر اصحاب نے جماعتِ اسلامی کی مطبوعات کو بالاستیعاب نہیں دیکھا ہے، بلکہ یا تو کچھ نیاز مندوں سے سنی ہوئی باتوں پر یقین کرلیا ہے یا بعض ہوشیار لوگوں نے خاص خاص عبارتیں پوری ہوشیار ی کے ساتھ انھیں دکھائی ہیں اور انھی کمزور بنیادوں پر بدگمانیوں کے بڑے بڑے قصر تعمیر کرڈالے ہیں۔اگر یہ حضرات کچھ اپنی ذمہ داری کو محسوس کرکے اور کچھ اخلاقی جرأت سے کام لے کر ہمیں اپنے اعتراضات سے مطلع فرمائیں،تو ہم پوری کوشش کریں گے کہ ان کو اپنے موقف سے اچھی طرح آگاہ کردیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اشتہار باز حضرات کو اور ان لوگوں کو جو اپنے رسائل وجرائد میں مسلسل کینہ توزی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں،ہم منہ لگانے کے قابل نہیں سمجھتے۔

(ترجمان القرآن۔ جمادی الاولیٰ تا رجب ۳۷۰اھ۔ مارچ تا مئی ا۹۵اء)