مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مزید عنایات:

سوال: جماعتِ اسلامی کے تحت قائم شدہ حلقۂ ہم درداں تو ہمارے علاقے میں پہلے سے تھا، لیکن باقاعدہ جماعتی کام حال ہی میں شروع ہوا ہے۔عوام کا رجحان جماعت کی طرف کثرت کے ساتھ دیکھ کر علمائے دیو بند، سہارن پور،دہلی اور تھانہ بھون نے جو فتاویٰ شائع کیے ہیں،وہ ارسال خدمت ہیں، اور علمائے دیو بند کا ایک فتویٰ جو کہ ابھی زیر کتابت ہے،مفصل کتابی شکل میں آنے والا ہے،آنے پر ارسال کردیا جائے گا۔

ان فتووں کے جواب میں سکوت مناسب نہیں ۔غور کرکے جواب دیجیے۔ یہ بھی تحریر فرمادیئے کہ اب آپ کا تعلق ہندوستان کی جماعتِ اسلامی سے کیا ہے؟کچھ تعلق ہے یا نہیں؟مولانا ابواللیث اصلاحی جو کہ ہندوستان کی جماعت کے امیر ہیں،حقیقت میں امیر ہیں یا صرف خانہ پری کے لیے فرضی ہیں؟ نیزیہ کہ اگر آپ نے کسی عالم سے فیض حاصل کیا ہو تو ان کا نام بھی تحریر فرمائیں، اور اگرکوئی اور وجوہ آپ کو ان کے فتووں کے بارے میں معلوم ہوں تو وہ بھی تحریر کریں کہ اس قدر شدت کے ساتھ یہ طوفان کیوں اُٹھ رہا ہے؟

جواب: میں نے آپ کے ارسال کردہ فتووں کو بغور پڑھ لیا ہے۔یہ کسی جواب کے لائق نہیں ہیں۔ صرف اس لائق ہیں کہ انھیں اُٹھا کر رکھ لیا جائے اور اس وقت کا انتظار کیا جائے جب اﷲ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ میں نے پوری کوشش کی کہ ان فتووں میں مجھے اپنی کسی ایسی غلطی کا نشان مل جائے جو واقعی میں نے کی ہو اور ان حضرات نے دلائل کے ساتھ ثابت کردی ہو۔ایسی کوئی چیز ملتی تو میں یقینا اس کا جواب دینے کے بجائے مان لیتا اور اپنی اصلاح کرلیتا۔میں نے یہ کوشش بھی کی کہ اگر فی الواقع ان حضرات کو کوئی ایسی غلط فہمی ہوئی ہے جو دیانتاً کسی شخص کو میری کسی تحریر یا کسی عمل سے ہوسکتی ہو تو اسے معلوم کروں۔ اگر ان فتووں میں اس طرح کی کوئی چیز نظر آجاتی تو میں اسے صاف کرنے میں بھی ہرگز تامل نہ کرتا۔ لیکن مجھے ان کے غائر مطالعے کے بعدیہ اطمینان ہوچکا ہے کہ یہ فتوے ان دونوں طرح کی باتوں سے بالکل خالی ہیں،اور ان میں بجز تحریف، بہتان اور الزام تراشی کے اور کچھ نہیں ہے۔ لہٰذا میں ان پر سکوت اختیار کرنے میںحق بجانب ہوں۔اگر کوئی مسلمان ان فتووں کو دیکھ کر مجھ سے بدگمان ہو یا اس خیر سے رک جائے جس کی طرف میں دعوت دے رہا ہوں، تو اس کی ذمہ داری سے میں عند اﷲ بری ہوں۔اس کی پوری ذمہ داری خالصتاً ان لوگوں پر ہے جو مناع للخیر بنے ہیں اور خدا ہی بہتر جانتاہے کہ کس نیت سے بنے ہیں۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ تم ان غلط بیانیوں اور تحریفات کا پردہ کیوں نہیں چاک کر دیتے جو دعوت الیٰ الخیر کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔میں عرض کروں گا کہ اگر کوئی ایک فتویٰ یا ایک اشتہار ہوتا تو شاید میں بادلِ ناخواستہ اُس کی غلطیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش بھی کر گزرتا،اگرچہ ایسی چیزوں کی طرف توجہ کرنا میرے لیے سخت کراہیت کا موجب ہوتا ہے۔ لیکن یہاں توپاکستان سے ہندوستان تک ہر طرف فتووں،پمفلٹوں،اشتہاروں اور مضامین کی ایک فصل اُگ رہی ہے جس میں کمیونسٹ، سوشلسٹ،فرنگیّت زدہ ملحدین، قادیانی، منکرین حدیث،اہل حدیث، بریلوی اور دیو بندی سب ہی اپنے اپنے شگوفے چھوڑ رہے ہیں اور آئے دن نئے نئے شگوفے چھوڑتے رہتے ہیں۔اس فصل کو آخر کون کاٹ سکتا ہے اور کہاں تک کاٹ سکتا ہے۔مجھے اگر دنیا میں اور کوئی کام نہ کرنا ہو تو اسے کاٹنے میں اپنی عمر کھپائوں،اور جماعتِ اسلامی اگراپنے مقصد اور کام سے دست بردار ہوجائے تو اس پر اپنی محنت ضائع کرے۔ہمارے مخالفین تو یہی چاہتے ہیں کہ ہم اس حماقت میں مبتلا ہوں اور اس جھاڑ جھنکار سے اُلجھ جائیں تاکہ فساق وفجار کی قیادت کو اپنا کام کرنے کے لیے صاف راستہ مل جائے۔لیکن ہم نے ایسی کچی گولیاں نہیںکھیلی ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ یہ شیطان کی فصل ہے،وہی اسے کاٹے گا،خودنہ کاٹے گا تو سنت اﷲ یہی ہے کہ بالآخر اس کو خود ہی اسے کاٹنا پڑے گا۔

آپ نے جو سوالات کیے ہیں،اُن کے مختصر جوابات یہ ہیں:

(۱) تقسیم کے بعد فروری۴۸ء میں جماعتِ اسلامی بھی مسلم لیگ کی طرح باقاعدہ تقسیم ہوگئی تھی۔اب ہندوستان کی جماعتِ اسلامی کا نظام پاکستان کی جماعتِ اسلامی سے بالکل الگ ہے۔ نہ اُس کی ذمہ داری میں ہم شریک ہیں اور نہ ہماری ذمہ داری میں وہ شریک ہے۔

(۲) مولانا ابواللیث صاحب جماعتِ اسلامی ہند کے ویسے ہی امیر ہیں جیسا میں جماعتِ اسلامی پاکستان کا امیر ہوں۔ اگر میں فرضی یا خانہ پری کا امیر نہیں ہوں تو آخر ان کے متعلق ایسا گمان کیوں کیا جائے۔اس طرح کی بدگمانی کے لیے کوئی معقول بنیاد اگر ہوسکتی تھی تو یہ ہوسکتی تھی کہ ہماری یہاں کی پالیسی میں اُن کا، یا وہاں کی پالیسی میں میرا کوئی دخل ہوتا۔لیکن تقسیم کے بعد سے کوئی شخص یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ ایسا کوئی تعلق ہمارے درمیان ہے۔حد یہ ہے کہ ہمارے درمیان نجی مراسلت تک بندہے تاکہ کسی کو فتنہ انگیز ی کا بہانہ نہ مل سکے۔ افسوس ہے کہ لوگ مخالفت کے جوش میں اندھے ہوکر بلا ثبوت ایسی باتیں زبان سے نکال دیتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ ان کے لیے تو یہ صرف دل کے بخار نکالنے کا ایک راستہ ہے مگر دونوں ملکوں کے موجودہ سیاسی ماحول میںیہ سیکڑوں خاندانوں کی زندگی کے لیے ایک تباہ کن الزام بن سکتا ہے۔

(۳) یہ ایک لاحاصل سوال ہے کہ میں نے کس عالم سے فیض حاصل کیا ہے۔یہ سوال تو اس سے کرنا چاہیے جس نے کوئی علمی کام نہ کیاہو اور جس کے علمی مرتبہ و مقام کو جاننے کے لیے مدرسے کی سند اور استادوں کے ناموں کے سوا اور کوئی ذریعہ نہ ہو۔ میں نے کام کیا ہے اورمیرا کام کوئی چُھپا ہوا نہیں بلکہ چَھپا ہوا سب کے سامنے موجود ہے۔اس کو دیکھ کر ہر شخص معلوم کرسکتا ہے کہ میں نے کیا کچھ پڑھا ہے اور جو کچھ پڑھا ہے،اسے کتنا ہضم کیا ہے۔

(۴) میرے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ میری اور جماعتِ اسلامی کی اس قدر شدت کے ساتھ مخالفت یکایک اب کیوں شروع ہوگئی ہے اور یہ فتوے کن وجوہ سے دیے جارہے ہیں۔لیکن اگر میں اس کو جان بھی لیتا تو یہ غیر ضروری بحث ہے کہ کسی نے اعتراض کیا تو کیوں کیا۔ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس کا اعتراض معقول ہے یا نامعقول۔ معقول اعتراض ہوتا ہے تو اسے مان لیتے ہیں یا اس کامعقول جواب دیتے ہیں۔ اور اگر نامعقول اعتراض ہوتا ہے تو اسے ہوا میں تحلیل ہونے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔