مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

الکوہل کے مختلف مدارج واشکال کا حکم:

سوال: آپ نے ترجمان القرآن میں ایک جگہ الکوہل کے خواص رکھنے والی اشیا کی حلت وحرمت پر بحث کی ہے۔اس سلسلے میں بعض اُمور وضاحت طلب ہیں۔طبعی اور قدرتی اشیا میں الکوہل اس وقت پائی جاتی ہے جب کہ وہ تعفین و تخمیر کے منازل خاص طریق پر طے کرچکی ہوں۔بالفاظ دیگر جس شے سے الکوہل حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے،اسے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ اس میں الکوہل پیدا ہوجائے۔جب تک اس میں یہ صلاحیت پیدا نہ ہوجائے،اس وقت تک اس میں الکوہل کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ یہ بات دوسری ہے کہ بعض اشیا میں الکوہلک کی صلاحیت زیادہ ہے،،بعض میں کم اور بعض میں بالکل نہیں۔ جن اشیا سے شراب تیار کی جاتی ہے،ان میں یہ صلاحیت بدرجۂ اتم موجود ہوتی ہے۔اگر ایسی صلاحیت رکھنے والی قدرتی اشیا میں تخمیر وتعفین کی وجہ سے الکوہل یا سکر پیدا ہوجائے تو کیا وہ سب حرام ہوجائیں گی؟

جواب: جن چیزوں کو قصداً الکوہل پیدا کرنے کی خاطر سٹرایا جائے،ان کا استعمال تو الکوہلی کیفیات کے پیدا ہوجانے کے بعد ناجائز ہے۔البتہ جو چیزیں تعفین کے بعض مراحل سے خود بخود گزری ہوں،ان کا استعمال زیادہ سے زیادہ مکروہ ہوسکتا ہے۔مثلاًانگور اور گنڈیریاں جب سرخی مائل ہوجائیں تو ان میں الکوہل پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔مگر یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اس حالت میں ان کو کھانا حرام ہے۔ہاں،اگر کوئی قدرتی چیز بگڑ کر اس حد کو پہنچ جائے کہ اسے کھا کر سکر لاحق ہوجاتا ہو تو پھر اس کا استعمال یقینا ناجائز ہوگا۔

(ترجمان القرآن۔شعبان، رمضان ۳۷۲اھ۔ مئی،جون۹۵۳اء)