مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

عورت اور عورت کا جنسی اختلاط:

سوال: ان دنوں زنانہ کالجوں کی مسموم فضا میں لڑکیوں کے اندر عجیب وبائیں پھیل رہی ہیں۔بالعموم دو لڑکیوں کی دوستی خلوص اور محبت کی حدوں سے گزر کر جنسی محبت کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔ شرعاً یہ کس درجے کا گناہ ہے؟کبیرہ یا صغیرہ؟

جواب: مرد اور مرد کی جنسی محبت جتنا بڑا گناہ ہے،عورت اور عورت کی محبت بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے۔ اخلاقی حیثیت سے ان دونوں میں نہ نوعیت کا فرق ہے اور نہ درجے کا۔افسوس ہے کہ یہ نام نہاد ’’ادب لطیف‘‘ جو رسالوں اور افسانوں اور ناولوں کی شکل میں گھر گھر پہنچ رہا ہے، اور یہ فحش تصویریں اور فلم جنھیں آزادی کے ساتھ مردوں کی طرح عورتیں بھی دیکھ رہی ہیں،اور یہ عشق آموز گانے جو ریڈیو کی برکت سے بچے بچے کی زبان پر چڑھ رہے ہیں،اوریہ اختلاط مرد وزن جس کو روز بروز ہماری سوسائٹی میں فروغ نصیب ہورہا ہے،ان ساری چیزوں نے مل جل کر نوجوان مردوں کی طرح نوجوان لڑکیوں کو بھی غیر معمولی جذباتی ہیجان میں مبتلا کردیا ہے۔شہوانی جذبات کی ایک بھٹی ہے جو سینوں میں بھڑکا دی گئی ہے اور بہت سی دھونکنیاں ہر آن اسے زیادہ اور زیادہ بھڑکانے میں لگی ہوئی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو بگاڑ اب تک زیادہ تر مردوں میں پایا جاتا تھا، وہ ایک وبا کی طرح شریف گھروں کی لڑکیوں اور درس گاہوں کی طالبات اور استانیوں میں بھی پھیلنا شروع ہوگیا ہے۔جن خواتین کو زنانہ درس گاہوں کے حالات قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے،ان کی اطلاع یہ ہے کہ آج لڑکیوں میں جو بے حیائی،بے باکی، جنسی مسائل پر کھلی کھلی گفتگو کرنے کی جرأت اور جنسی رجحانات…فطری اور غیر فطری،ہر دو طرح کے رجحانات… کے اظہار واعلان کی عام جسارت پائی جاتی ہے،چند سال پہلے تک اس کا تصور کرنا مشکل تھا۔اب لڑکیوں میں یہ چرچے عام ہورہے ہیں کہ کون سی صاحب زادی کس استانی کی منظور نظر ہیں،اور کون سی صاحب زادی کس دوسری صاحب زادی کے عشق میں مبتلا ہیں۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

لطف یہ ہے کہ اس جہنم کی طرف جو لوگ اپنی قوم کو دھکیل رہے ہیں،وہ اپنی اب تک کی کوششوں کے نتائج سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔انھیں حسرت یہ ہے کہ کاش ملا کی مخالفت ومزاحمت راہ میں حائل نہ ہوتی تو وہ ترقی کے مزید قدم ذرا جلدی اُٹھا سکتے!

(ترجمان القرآن۔ رمضان،شوال ا۳۷اھ۔ جون،جولائی۹۵۲اء)