مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

دارالاسلام اور دارالکفر کے مسلمانوں میں وراثت ومناکحت کے تعلقات:

سوال: الجہاد فی الا سلام کے دوران مطالعہ میں ایک آیت وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ …الخ الانفال 72:8 نظر سے گزری۔اس کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا کہ ’’اِ س آیت میں آزاد مسلمان اور غلا م مسلمانوں کے تعلقات کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے۔ پہلے ما لکم من ولایتھم من شیْئٍ سے یہ بتایا گیا ہے کہ ’’جو مسلمان دارالکفر میں رہنا قبول کریں یا رہنے پر مجبور ہوں،ان سے دارالاسلام کے مسلمانوں کے تمدنی تعلقات نہیں رہ سکتے،نہ وہ باہم رشتہ قائم کرسکتے ہیں اور نہ انھیں ایک دوسرے کا ورثہ وترکہ مل سکتا ہے۔‘‘

اب عرض یہ ہے کہ ہندوستان وپاکستان’’دارالکفر‘‘ اور’’دارالاسلام‘‘ کی صور ت میں دو ملک وجود میں آگئے ہیں۔ہندوستانی مسلمانوں کی حالت بھی اظہر من الشمس ہے۔ان کی ذہنیتیں بھی بڑی حد تک بدل چکی ہیں، غرض یہ کہ ان سب لوازمات سے لیس ہوچکے ہیں جو ایک غلام قوم کے لیے از بس ضرور ی ہیں۔ بہتیرے رہنے پر مجبور ہیں اور بہت سے وہاں کی رہائش عمداً قبول کیے ہوئے ہیں۔بعض ہجرت کرکے اپنے دین وناموس کی حفاظت کی خاطر پاکستان چلے آئے ہیں۔ان میں اکثر ایسے بھی ہیں جن کے والدین ہندوستان ہی میں رہنا پسند کرتے ہیں اور مرتے دم تک اس کو چھوڑنے پر تیار نہیں مگر اولاد پاکستان چلی آئی ہے اور اب ہندوستان کی سکونت اختیار کرنے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہیں۔اندریں حالات حسب ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں:

(۱) ایسی حالت میں اولاد، والدین یا کسی اور رشتہ دار کے ورثہ وترکہ سے محروم رہے گی؟ اگر وہ ان کے انتقال پر اپنے حق وراثت کا دعویٰ کریں تو کس حد تک یہ دعویٰ جائز یا ناجائز ہوگا؟

(۲) موجودہ حالات کے پیش نظر کوئی پاکستانی(مہاجر یا اصلی باشندہ) ہندوستانی مسلمان لڑکی سے شادی کرسکتا ہے یا نہیں؟ کرنے کی صورت میں تعلقات جائزسمجھے جائیں گے یا ناجائز؟

جواب: جہاں تک مجھے علم ہے قرآن مجید کا منشا یہی ہے کہ دارالاسلام اور دارالکفر کے مسلمانوں میں وراثت اور شادی بیاہ کے تعلقات نہ ہوں۔رہا ان مہاجرین کا معاملہ جن کے ایسے رشتہ دار دارالکفر میں رہ گئے ہیںجن کے وہ وارث ہوسکتے ہیں، تو ان کے بارے میں بھی میرا خیال یہی ہے کہ نہ وہ ہندوستان میں اپنی میراث پاسکتے ہیں اور نہ ان کے ہندوستانی رشتہ دار پاکستا ن میں ان سے میراث پانے کا حق رکھتے ہیں۔ نکاح کے بارے میں،میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہجرت سے نکاح آپ ہی آپ تو نہیں ٹوٹ سکتا لیکن اگر زوجین میں سے ایک دارالاسلام میں ہجرت کرآیا ہے اور دوسرا ہجرت پر تیار نہ ہو تو عدالت میں اس بنیاد پر درخواست دی جاسکتی ہے اور ایسے زوجین کا نکاح فسخ کیا جاسکتا ہے۔ آئندہ شادی بیاہ کا تعلق پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان نہ ہونا چاہیے۔

(ترجمان القرآن،شعبان ۳۷۰اھ، جون ا۹۵اء)