مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ملازمین کے حقوق:

سوال: یہاں کے ایک ادارے نے مجھ سے دریافت کیا ہے کہ ملازمین کے معاوضہ جات اور دیگر قواعد ملازمت کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر کیا ہے۔جہاں تک قرآن وحدیث اور کتب فقہ پر میری نظر ہے،اس بارے میں کوئی ضابطہ میری سمجھ میں نہیں آسکا۔اس لیے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں کہ کتاب وسنت کی روشنی اور عہدِ خلافت ِ راشدہ اور بعد کے سلاطین صالحین کا تعامل اس بارے میں واضح فرمائیں۔ چند حل طلب سوالات جو اس ضمن میں ہوسکتے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:

(۱) سال بھر میں کتنی رخصتیں باتنخواہ لینے کا استحقاق ہر ملازم کے لیے ہے؟

(۲) اتفاقی رخصتیں باتنخواہ کس قدر لینے کا حق ہے؟

(۳) ایام بیماری کی تنخواہ ملے گی یا نہیں؟

(۴) ملازمین کی تنخواہ کس اُصول پر مقرر کی جائے؟

(۵) ملازم کے کنبہ کے افراد بڑھ جانے پر تنخواہ میں اضافہ ہونا چاہیے یا نہیں؟

(۶) رخصت حاصل کرنے کے لیے تحریری اجازت ضروری ہے یا نہیں؟

(۷) اعلیٰ وادنیٰ ملازمین حقوق میں برابر ہوں گے یا کچھ تفاوت ہوگا؟

جواب: آپ کا سوال کافی غور و خوض اور تفصیلی جواب چاہتا ہے مگر میں مجبوراً مختصر جواب پراکتفا کررہا ہوں۔

شریعت میں ملازمین اور مزدوروں کے حقوق کسی مفصل ضابطے کی شکل میں تو مذکور نہیں ہیں،مگر ایسے اُصول ہمیں یقینا دیے گئے ہیںجن کی روشنی میں ہم تفصیلی ضوابط مرتب کرسکتے ہیں۔ دورِ خلافت راشدہ میں ان اُصولوں کی بنا پر سرکار ی وغیر سرکاری ملازمین سے جو معاملہ ہوتا تھا،اس کی تفصیلات حدیث وتاریخ میں یک جا موجود نہیں ہیں،بلکہ مختلف ابواب وفصول میں بکھری ہوئی ہیں۔ان تفصیلات میں بھی آپ کے سوالات کا جواب شاید کم ہی ملے گا۔میں اس وقت عرف عام اور اسلام کے معروف تصور انصاف پر اعتماد کرتے ہوئے آپ کے سوالات کا مجمل جواب عرض کررہا ہوں۔

رخصتوں کے بارے میںیہ معروف طریقہ مناسب معلوم ہوتاہے کہ سال میں ایک ماہ کی رخصت حسب معمول ملنی چاہیے اور ناگہانی رخصتیں سال میں پندرہ دن کی بامعاوضہ ملنی چاہییں۔ اس سے زائد رخصتیں ایک متعین حد تک بلامعاوضہ دی جاسکتی ہیں۔

بیماری کے دنوںکا معاوضہ ہر ملازم کو پورا ملنا چاہیے، قطع نظر اس کے کہ بیماری کتنی طویل ہو۔کسی مستاجر(employer) کو اگر یہ منظور نہ ہو تو پھر اسے بیمار ملازم کے مصارفِ علاج برداشت کرنے چاہییں، یا اس کے علاج کا مفت انتظام کرنا چاہیے اور بیمار اور اس کے متعلقین کی ضروریات کا بقدر کفاف ذمہ دار ہونا چاہیے۔

ملازم کا معاوضہ مقرر کرنے میں چند اُمور کا لحاظ کرنا ہوگا۔مثلاً اس کے کام کی نوعیت کیا ہے،اس کی اپنی صلاحیت کیا ہے،اس نوعیت کے کام اور اس قابلیت کے آدمی کے لیے معروف ضروریات زندگی کیا ہیں اور اس خاص ملازم کی خانگی ذمہ داریاں کیا ہیں۔

عام مستاجر افراد وادارات کے بس کا تو یہ کام نہیں ہے کہ ملازم کے کنبے کے افراد جس تناسب سے بڑھتے جائیں، اس کی تنخواہ میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کیا جاتا رہے۔ البتہ حکومت کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے یا پھر بڑے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں کو بھی اس کا پابند بنایا جاسکتاہے۔

رخصت کے لیے اجازت کا معاملہ بھی ایک طرح سے لین دین کے معاملات سے مشابہ ہے۔اس لیے اُصول تو یہی چاہتا ہے کہ تحریر ی درخواست اور تحریری اجازت کی پابندی ہو۔ البتہ پرائیویٹ ملازمت میں جہاں ایک شخص کا معاملہ ایک شخص سے ہی ہوتا ہے،وہاں زبانی اجازت کے استثنا کی گنجایش نکل سکتی ہے۔

معاوضوں میں تفاوت کے علاوہ دیگر جملہ حقوق میں اُصولاً اعلیٰ وادنیٰ ملازمین میں یکسانی ہونی چاہیے۔ (ترجمان القرآن۔ ربیع الثانی ۳۷۲اھ۔ جنوری۹۵۳اء)

……٭٭٭……