مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مضاربت کی صورت میں زکوٰۃ:

سوال: دو آدمی شرکت میں کاروبار شروع کرتے ہیں۔شریک اوّل سرمایہ لگاتے ہیں اور محنت بھی کرتے ہیں۔ شریک ثانی صرف محنت کے شریک ہیں۔ منافع کی تقسیم اس طرح پرطے پاتی ہے کہ کل منافع کے تین حصے کیے جائیں گے، ایک حصہ سرمائے کا اور ایک ایک حصہ ہر دو شرکا کا ہوگا۔ اس کاروبار کی زکوٰۃ کے متعلق دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے جوابات سے مطلع فرمائیں:

(۱) اگر کاروبارکے مجموعی سرمائے سے یک جا زکوٰۃ نکالی جائے تو شریک ثانی کو یہ اعتراض ہے کہ کاروبار کا سرمایہ صرف صاحب سرمایہ کی ملکیت ہے اور اس پر اُسے علیحدہ منافع بھی ملتا ہے، لہٰذا سرمائے پر زکوٰۃ سرمایہ دار کو ہی دینی چاہیے۔کیا شریک ثانی کایہ اعتراض درست ہے؟

(ب) کاروبار میں نفع اور نقصان دونوں کا امکان ہے۔زکوٰۃ کا نفع ونقصان سے نہیں بلکہ سرمائے سے تعلق ہے۔ کاروبارمیں نقصان کی صورت میں بھی موجود سرمائے پر زکوٰۃ دی جائے گی۔ اگر نقصان کی صورت میں کاروبار سے زکوٰۃ نکالی جائے تو شریک ثانی کے حصے کی زکوٰۃ کی ایک تہائی رقم اُ س کے اگلے سال کے منافع سے نکالی جائے گی،جب کہ اگلے سال بھی زکوٰۃ کی رقم کا ایک تہائی حصہ اُسے دینا ہوگا۔ ایسی حالت میں شریک ثانی کے لیے یہ زکوٰۃ نہیں رہی بلکہ سرمایہ دار کے سرمائے کی زکوٰۃ کا ایک حصہ ادا کرنے کا ٹیکس ہوجاتا ہے۔کیا یہ صورت زکوٰۃ کے اصل مقصد کے منافی نہیں ہے؟

جواب: آپ کے دونوں سوالوں کے جوابات درج ذیل ہیں:

(۱)شریک ثانی کا اعتراض درست نہیں ہے۔زکوٰۃ صرف اُ س سرمائے پر نہیں لگتی ہے جس سے کاروبار شروع کیا گیا ہو، بلکہ کل کاروبار کی مالیت پر لگتی ہے۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ پورے کاروبار سے پہلے زکوٰۃ نکال لی جائے،پھر منافع اسی نسبت سے فریقین کے درمیان تقسیم ہوجو ان کے درمیان طے ہو چکی ہو۔

(ب)اموال تجارت کی زکوٰۃ کا اُصول یہ ہے کہ کوئی مال تجارت اگراس قدر نصاب سے زائد ہو تو اس سے زکوٰۃنکالی جانی چاہیے۔ اب جو شخص صرف کام کا شریک ہے،اُس کی محنت نے بہرحال اس تجارت میں مالیت پیدا کرنے میں کچھ نہ کچھ حصہ لیا ہے۔یہ مالیت صرف ابتدائی سرمائے ہی کا نتیجہ نہیں ہے۔اس لیے اس زکوٰۃ کے دو حصے سرمایہ دار کو ادا کرنے چاہییں اور ایک حصہ شریک محنت کو ادا کرنا چاہیے۔

(ترجمان القرآن، ربیع الثانی۳۷۲اھ، جنوری۹۵۳اء)