مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

دعا میں بزرگوں کی حرمت وجاہ سے توسل:

سوال: میں نے ایک مرتبہ دریافت کیا تھا کہ بجاہ فلاں یا بحرمت فلاں کہہ کر خدا سے دعا کرنے کا کوئی شرعی ثبوت ہے یا نہیں؟آپ نے جواب دیا تھا کہ اگرچہ اہل تصوف کے ہاں یہ ایک عام معمول ہے لیکن قرآن وحدیث میں اس کی کوئی اصل معلوم نہیں ہوسکی۔میں اس سلسلے میں ایک آیت قرآنی اور ایک حدیت پیش کرتا ہوں۔سورۂ بقرۃ میں اہل کتاب کے بارے میں آیا ہے:

وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝۰ۚۖ البقرہ 89:2

’’یعنی بعثت محمدی سے پہلے یہودی کفار کے مقابلے میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔‘‘

اس کی تفسیر میں امام راغبؒ نے مفردات میں فرمایا ہے:

ای یستنصرون اللّٰہ ببعثۃ محمد

’’یعنی بعثت محمدی کے ذریعے اﷲ سے مدد مانگتے تھے۔‘‘

وقیل کانوا یقولون انا لننصر بمحمد علیہ السلام علی عبدۃ الاوثان

’’اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہودی یوں کہتے تھے کہ ہم کو بت پرستوں کے مقابلے میں محمد علیہ السلام کے ذریعے سے نصرت بخشی جائے گی۔‘‘

وقیل یطلبون من اللّٰہ بذکرہ الظفر

’’اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعے اﷲ سے فتح مانگتے تھے۔‘‘

ترمذی شریف کے ابواب الدعوات میںایک حسن صحیح غریب حدیث مروی ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ اﷲ سے دعا کریں کہ وہ میری تکلیف کو دور کردے۔آپؐ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا کروں، اور اگر صبر کرسکتے ہو توصبر کرو، صبر تمہارے لیے بہتر ہے۔اس نے عرض کیا: آپ دعا فرمائیں۔آپؐ نے اسے اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا اور یہ دعا پڑھنے کی ہدایت فرمائی:

اللّٰھم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیِّک محمَّد نبی الرحمۃ۔ انی توجھت بک الٰی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی۔ اللھم فشفعہ فیّ۔

’’خدایا! میں تیرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نبی رحمت کے ذریعے سے تجھ سے دعا کرتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں۔میں نے اپنی اس حاجت کے لیے اے پروردگار تیری طرف توجہ کی ہے، تاکہ تو میری حاجت پوری کرے۔ پس اے اﷲ! میرے حق میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کی شفاعت قبول فرما۔‘‘

کیا اس آیت اور اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوجاتا کہ دعا میں بحرمت سیّد المرسلینؐ یا بجاہ نبی ؐ بطفیل نبی ؐ یا ببر کت حضورؐ کہنا صحیح اور جائز ہے؟

جواب: آیت مذکورہ کا یہ مطلب میرے نزدیک صحیح نہیں ہے کہ یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل آپؐ کے توسل سے کفار کے مقابلے میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔بلکہ اس کا صحیح مطلب وہ ہے جو امام راغبؒ کے پہلے دو اقوال سے بھی نکلتا ہے اور جس کی تائید معتبر روایات سے بھی ہوتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے یہودی ان پیشین گوئیوں کی بنا پر جو آپؐ کے متعلق ان کی کتابوں میں موجود تھیں، یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ وہ نبی آئے اور پھر اس کی بدولت ہمیں کفار پر غلبہ حاصل ہو۔ چنا نچہ ابن ہشام کی روایت ہے کہ مکہ معظمہ میں حج کے موقع پر جب پہلی مرتبہ مدینہ کے چند لوگوں سے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی اور آپ ؐنے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو وہ آپس میں کہنے لگے:

یا قوم تعلموا وَاللّٰہِ انہ لنبی الذی تَوَعَّدَکم بہ الیھود فلا تسبقنکم الیہ۔

(جلد۲،صفحہ۷۰)

’’لوگو!جان لو کہ بخدایہ وہی نبی ہے جس کی آمد کا خوف تم کو یہودی دلایا کرتے تھے۔پس ایسا نہ ہونے پائے کہ تم سے پہلے وہ اس کے پاس پہنچ جائیں۔‘‘

پھر آگے چل کر ابن ہشام اسی آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے انصار مدینہ کے بڑے بوڑھوں کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

فینا واللّٰہ وفیھم نزلت ھذہ القصۃ۔کنا قد علوناھم ظھرا فی الجاھلیۃ ونحن اھل الشرک وھم اہل کتاب۔ فکانوا یقولون لنا ان نبیًا یبعث الآن نتبعہ قد اظل زمانہ۔ لقتلکم معہ قتل عاد وارم۔ فلما بعث اللّٰہ رسولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من قریش فاتبعناہ وکفروا بہ۔

’’یعنی یہ آیت ہمارے اور یہودیوں کے بارے میں ہی نازل ہوئی ہے۔جاہلیت میں ہم ان پر غالب ہوگئے تھے اور ہم اہل شرک تھے اور وہ اہل کتاب۔پس وہ ہم سے کہا کرتے تھے کہ عن قریب ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے جس کی آمد کا وقت آپہنچا ہے۔ہم اس کی قیادت میں تم کو اس طرح ماریں گے جیسے عاد ارم مارے گئے۔ مگر جب اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲؐکو قریش سے مبعوث کیا تو ہم نے آپ کی پیروی اختیا ر کرلی اور انھوں نے آپؐ کا انکار کردیا۔‘‘

رہی جامع ترمذی کی وہ حدیث جو آپ نے نقل فرمائی ہے، تو اس کا مضمون تو آپ ہی بتا رہا ہے کہ استدعا نبی سے کی گئی تھی کہ آپؐ دعا فرمائیںاور آپؐ نے ہدایت فرمائی کہ اچھا تو اﷲ تعالیٰ سے دعا کر کہ’’خدایا! میں تیرے نبیؐ کے واسطے سے تیرے حضور اپنی حاجت لے کر آیا ہوں۔تو میرے حق میں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سفارش قبول کر۔‘‘اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ نبی صلی اﷲعلیہ وسلم نے خود بھی اس کے حق میں دعا فرمائی اور اس سے بھی فرمایا کہ میرے واسطے سے تو بھی اپنی حاجت طلب کر اور میری سفارش قبول کیے جانے کی بھی دعا مانگ۔ یہ تو دعا کی بالکل ایک فطری صورت ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص مجھ سے کہے کہ فلاں حاکم کے پاس چل کر میری سفارش کرو اور میں سفارش کرنے کے ساتھ ساتھ اس شخص سے بھی کہوں کہ تو خود بھی حاکم سے عرض کر کہ میں انھیں سفارشی بنا کر لایا ہوں،آپ ان کی سفارش قبول کرکے میری حاجت پوری کردیں۔ یہ معاملہ اور ہے۔اس کے برعکس یہ ایک بالکل دوسرا طریق معاملہ ہے کہ کوئی شخص مجھ سے اجازت لیے بغیر خود ہی حاکم کے پاس پہنچ جائے اور اپنی جو حاجت بھی چاہے میرا واسطہ دے کر پیش کردے۔اس دوسری صورت کو آخر پہلی صورت پر کیسے قیاس کیا جاسکتا ہے؟ دلیل پہلی صورت کی پیش کرنا اور اس سے جواز دوسری صورت کا نکالنا کسی طرح درست نہیں۔ دوسری صورت کا جواز ثابت کرنے کے لیے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ایسا قول ملنا چاہیے جس میں آپؐ نے اپنے تمام نام لیوائوں کو عام اجازت مرحمت فرمائی ہو کہ جس کا جی چاہے اپنی حاجت میرا واسطہ دے کر اﷲ سے طلب کرلے۔

(ترجمان القرآن، جمادی الاولیٰ۳۷۲اھ،فروری۹۵۳اء)