مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

پوسٹ مارٹم اور دوسرے طبی مسائل:

سوال: سابق خط کے جواب سے میری تشفی نہیں ہوئی۔آپ نے لکھا ہے کہ ’’پوسٹ مارٹم کی ضرورت بھی مسلم ہے اور احکام شرعیہ میں شدید ضرورت کے بغیر اس کی گنجایش بھی نظر نہیں آتی۔‘‘مگر مشکل یہ ہے کہ طبی نقطۂ نگاہ سے کم ازکم اس مریض کی لاش کا پوسٹ مارٹم تو ضرور ہونا چاہیے جس کے مرض کی تشخیص نہ ہوسکی ہو یا ہونے کے باوجود علاج بے کار ثابت ہوا ہو۔اسی طرح’’طبی قانونی‘‘(medico-legal) نقطۂ نظر سے بھی نوعیت جرم کی تشخیص کے لیے پوسٹ مارٹم لازمی ہے۔علاوہ ازیں اناٹومی، فزیالوجی اور آپریٹو سرجری کی تعلیم بھی جسد انسانی کے بغیر ناممکن ہے۔آپ واضح فرمائیں کہ ان صورتوں پر شرعاً شدید ضرورت کا اطلاق ہوسکتا ہے یا نہیں؟

آپ نے ایک جگہ تحریر کیا ہے کہ’’آج کل الکوہل کو ایک اچھا محلل ہونے کی حیثیت سے دوا سازی میں استعمال کیا جاتا ہے،لیکن جب فن دوا سازی کو مسلمان بنایا جائے گا تو الکوہل کے استعمال کو ترک کردیا جائے گا۔‘‘ لیکن کیمیاوی اصطلاح میں الکوہل کے لفظ کا اطلاق نشہ آور اجزا پر نہیں ہوتا، بلکہ یہ علم الکیمیا میں اشیا کے ایک خاص گروپ کا نام ہے، جس میں مسکرات کے علاوہ اور بہت سی چیزیں شامل ہیں،تو کیاپھر ان سب اشیا کا استعمال ناجائز ہوگا؟علاوہ ازیں الکوہل کا جسم پر خارجی استعمال بھی ہوتا ہے، کیوں کہ وہ صرف محلل ہی نہیں، جراثیم کش بھی ہے۔ کیا یہ استعمال بھی ممنوع ہے؟

’’تفہیم القرآن‘‘ میں آپ نے ایک مقام پر یہ بھی لکھا ہے کہ مسلمان اطبا دو ا سازی میں الکوہل کے بجائے شہداستعمال کرتے تھے۔نیز آپ نے وہاں یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ شہد کی مکھی کو خاص جڑی بوٹیوں سے رس حاصل کرنے کی تربیت دے کر اس سے دوا سازی میں مدد لی جاسکتی ہے۔ترقی فن کے موجودہ دورمیں آپ کا شہد کو الکوہل کا بدل تجویز کرنا اور شہد کی مکھی کی تربیت کا مشورہ دینا میر ی سمجھ میں نہیں آسکاہے۔

اب میں مختصراً چند سوالات عرض کرتا ہوں،جن کے جوابات کی ضرورت ہے:

(۱) کسی مریض کی جان بچانے کے لیے اس کے جسم میں خون داخل کرنا بعض علما کے نزدیک ناجائز ہے۔آپ کی رائے اس بارے میں کیا ہے؟

(۲) بعض دوائوں کے اجزا انسانی یا حیوانی پیشاب،خون یا گوشت سے حاصل کیے جاتے ہیں،اور بعض دوائیں وہیل مچھلی کے غدود سے نکالی جاتی ہیں۔ایسی دوائوں کا استعمال شرعاًجائز ہے یا نہیں؟

(۳) ڈاکٹر کے لیے فیس کا تعین یا اس کا مطالبہ جائز ہے یا اسے مریض کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہیے؟

(۴) سائنس کے مختلف شعبوں کے مطالعہ کرنے کے سلسلے میں اسلام کیا رہنمائی دیتاہے؟

(۵) غذائوں اور دوائوں کی حلت وحرمت کے بارے میں شرعی احکام کیا ہیں؟

(۶) مسلم اطبا نے طب کو اسلام کا پابند بنانے کے سلسلے میں کیا خدمات سرانجام دی ہیں؟

جواب: (۱) پوسٹ مارٹم کے مسئلے میںجیساکہ پہلے بھی عرض کرچکا ہوں،مجھے خود بڑا خلجان ہے اور کوئی فیصلہ کن بات میرے لیے مشکل ہے۔ اس معاملے کے دو مختلف پہلو ہیں جن کے تقاضے ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں۔

ایک طرف شرعی احکام ہیں جو مرنے والے انسانوں کے جسم کا احترام کرنے اور ان کو عزت کے ساتھ دفن کردینے کی تاکید کرتے ہیں،اور اگر وہ مسلمان ہوں تو ان کی تجہیز وتکفین کرکے نمازجنازہ پڑھنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ان شرعی احکام کی تائید ان لطیف انسانی حسیات سے بھی ہوتی ہے جو(شاید ڈاکٹروں اور بالکل سائنٹسٹ قسم کے لوگوں کے سوا) سب ہی انسانوں میں موجود ہوتے ہیں۔کوئی آدمی خوشی سے یہ گوارا نہیں کرسکتا کہ اس کے باپ،بیٹے،بیوی،بہن اور ماں کی لاشیں ڈاکٹروں کے حوالے کی جائیں اور وہ ان کی چیر پھاڑ کریں۔ یا وہ میڈیکل کالج کے طالب علموں کو دے دی جائیں تاکہ وہ ان کے ایک ایک عضو کا تجزیہ کریں اور پھر ان کی ہڈیاں سکھا کر رکھ لیں۔ اسی طرح کوئی قوم بھی یہ گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کے لیڈر او رپیشوا مرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کے تختۂ مشق بنائے جائیں۔ ابھی حال میں گاندھی جی اور لیاقت علی خاں مرحوم گولی کے شکار ہوئے ہیں۔’’طبی قانونی‘‘نقطۂ نظر سے ضرور ی تھا کہ ان کا پوسٹ مارٹم کرکے سبب موت کی تشخیص کی جاتی۔مگر اس سے احتراز کیوں کیا گیا؟صرف اس لیے کہ قومی جذبات اپنے محترم لیڈروں کی لاشوں کا چیرنا پھاڑنا برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

دوسری طرف طبی اور قانونی اغراض کے لیے پوسٹ مارٹم کی ضرورت ہے۔طب کے مختلف شعبوں کی تعلیم اور طبی تحقیقات کی ترقی کے لیے اس کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جاسکتا، اور ایک حد تک قانون بھی اس کا تقاضا کرتا ہے کہ قتل کے مقدمات میں سبب موت کا تعین کیا جائے۔

اب یہ ایک بڑاپیچیدہ سوال ہے کہ ان دونوں متصادم تقاضوں کے درمیان مصالحت کیسے کی جائے۔اس کا یہ حل تو میرے نزدیک سخت مکروہ ہے کہ امیروں اور غریبوں، بڑے لوگوں اور چھوٹے لوگوں،خاندان والوں اور لاوارثوں کی لاشوں کے بارے میں ہمارے پاس دو مختلف معیارِ اخلاق اور دو مختلف طرزِ عمل ہوں۔اس لیے لامحالہ اس کا کوئی اور ہی حل سوچنا پڑے گا۔ مگر وہ حل کیا ہو،اس باب میں میری قوتِ فیصلہ بالکل عاجز ہے۔یہ چیز کسی ایسی مجلس میں زیر بحث آنی چاہیے جس میں علمائے دین بھی شامل ہوں اور شعبۂ طب اور شعبۂ عدالت کے نمایندے بھی۔ ممکن ہے یہ لوگ سر جوڑ کر اس کا کوئی حل نکال لیں۔

(۲) الکوہل کے بارے میں مختصرگزارش یہ ہے کہ اس سے مراد وہ الکوہل نہیں ہے جو مختلف قدرتی اشیا میں بطور ایک جز کے موجود ہوتی ہے یا کسی خاص مرحلے پر ان کے اندر پیدا ہوجاتی ہے، بلکہ وہ الکوہل ہے، جو اشیا میں سے برآمد کرلی جاتی ہے اور ایک نشہ آورمادے کی حیثیت سے قابل استعمال ہوتی ہے یہ چیز چوں کہ اصل مادّۂ نشہ آور( امّ الخبائث کی والدہ) ہے، اس لیے اس کا اندرونی استعمال جائز نہیں ہے،قطع نظر اس سے کہ جس تناسب سے وہ کسی دوا میں ملائی جائے وہ بالفعل نشہ آورہو یانہ ہو۔البتہ اس کے بیرونی استعمال کو جائز رکھا جاسکتا ہے۔

کیا آپ اپنے فن کے نقطۂ نظر سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ کھانے اور پینے کی دوائوں میں کوئی دوسری چیز الکوہل کا بدل نہیں ہوسکتی؟اور یہ کہ اس کا استعمال بہرحال ناگزیر ہے؟میرے دوستوں میں متعدد ایسے ڈاکٹر ہیں جنھوں نے الکوہل کے بارے میں میرے نقطۂ نظر کی تائید کی ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ اس کے دوسرے بدل موجود ہیں۔بلکہ ان میں سے بعض نے تو اندرونی استعمال کی دوائوں میں اس سے کام لینا چھوڑ دیا ہے۔

(۳) شہد کے بارے میں میں نے تفہیم القرآن میں جو کچھ لکھا تھا،اس سے مقصود شہد اور الکوہل کا مقابلہ کرنا نہ تھا۔میرا مدعا یہ تھا کہ مسلمانوں کے ہاں فن طب کے رواج سے پہلے،جب یہ فن غیر مسلموں کے ہاتھ میں تھا،دوائوں کو محفوظ کرنے کے لیے حرام وحلا ل کی تمیز کیے بغیر ہر طرح کی چیزیں استعمال کی جاتی تھیں۔مگر جب یہ فن مسلمانوں کے پاس آیا تو انھوں نے حلال چیزوں کی طرف توجہ کی اور دوائوں کو ان کی مفید صورت میں برقرار رکھنے کے لیے ان کے پاس ایک اہم ذریعہ شہد تھا، جو خود بھی ایک مدت تک خراب نہیں ہوتا اور اپنے اندر دوسری چیزوں کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ بعد میں جب یہ فن پھر ایسے لوگوں کے قبضے میں چلاگیا جو حرام وحلا ل کی تمیز سے واقف نہیں ہیں،تو پھرحرام چیزیں آزادی کے ساتھ استعمال ہونے لگیںجن میں سے ایک نمایاں چیز یہ الکوہل ہے۔

دوسری بات جس سے آپ اتفاق نہیں کرسکے ہیں، دو اسازی کے فن کی تمام تر ترقیات کے باوجود اس لائق ہے کہ اہل فن اس کی طرف توجہ کریں۔میرا خیال یہ نہیں ہے کہ سب تدابیر کو چھوڑکر صرف ایک شہد کی مکھی پر انحصار کرلیا جائے، بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ شہد کی مکھی بھی فن دوا سازی کی ایک اچھی خاصی خادم بن سکتی ہے۔

(۴)آدمی کی جان بچانے کے لیے اس کے جسم میں خون داخل کرنا میرے نزدیک تو جائز ہے۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ اس کو حرام کہنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔غالباً اسے خون پینے اور خون کھانے پر قیاس کرکے کسی صاحب نے حرام کہا ہوگا۔ لیکن میرے نزدیک ان دونوں چیزوں میں فرق ہے۔ غذا کے طور پر خون پینا اور کھانا بلاشبہ حرام ہے مگر جان بچانے کے لیے مریض یا زخمی آدمی کے جسم میں خون داخل کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح حالت اضطرار میں مرداریا خنزیر کھانا۔

(۵) مختلف حیوانی دوائوں کے بارے میں جو سوالات آپ نے کیے ہیں،ان کا جواب یہ ہے کہ اُصولاً ہر وہ چیز حرام ہے جو مردار یا حرام جانور سے حاصل کی جائے،یا حلال جانور کی کسی ناپاک یا حرام چیز سے حاصل کی جائے، اور اُصولاً ایک حرام چیز کا استعمال صرف اسی صورت میںجائز ہوسکتا ہے جب کہ انسانی جان بچانے کے لیے ناگزیر ہو۔ ان دو اُصولوں کو مدنظر رکھ کر مسلمان اہل فن کو دوائوں کا جائزہ لینا چاہیے اور پھر خود رائے قائم کرنی چاہیے،کیوں کہ اپنے فن کو وہ آپ ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں۔مگرمصیبت یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت جو اہل فن پائے جاتے ہیں،وہ نہ محقق، موجد اور مکتشف ہیں اور نہ دوا سازی کی صنعت ہی ان کے ہاتھ میں ہے۔ان کی فن دانی اس سے آگے نہیں جاتی کہ دوسروں نے (اور یہ دوسرے وہ ہیں جو عملاً کسی کتاب الٰہی اور کسی شریعت نبوی کے پیرونہیں ہیں)جو کچھ اپنی تحقیق واکتشاف سے نکالا ہے،صرف اس سے واقف ہوجائیں،اور پھر وہی لوگ جو کچھ جس طرح بنا کر بھیج دیں، اسے یہ استعمال کرلیں۔ یہ بے چارے اس قابل بھی نہیں ہیں کہ انھوں نے اگر کسی مرض کی دوا حرام طریقے سے پیدا کی ہے تو یہ اپنی تحقیق سے اس کا کوئی دوسرا جائز بدل پیدا کرسکیں،یا محققانہ طریقے پر کم ازکم یہی کہہ سکیں کہ اس کا بدل نہیں مل سکتا اور اس کا استعمال فی الواقع ناگزیر ہے۔اس حالت میں ہم غیر فنی لوگ محض حلال وحرام کی بحث کرکے آخرکیامفیدخدمت کرسکتے ہیں؟

وہیل مچھلی جائز ہے۔اسی قسم کی۱یک مچھلی صحابۂ کرامؓ ایک جنگی سفر کے دوران میں کھا چکے ہیں اور نبیؐ نے اسے جائز رکھا ہے۔

(۶) ڈاکٹر کی فیس اُصولاًتو جائز ہے، مگر ڈاکٹروں نے بالعموم فیس کے معاملے میں ایسے طریقے اختیار کرنے شروع کردیے ہیں جو گناہ اورظلم اور سخت قساوت کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔اسی بنا پر ہماری یہ رائے ہے کہ تمام ڈاکٹروں کو حکومت کی طرف سے کافی وظیفے ملنے چاہییں اور انھیں مریضوں کا مفت علاج کرنا چاہیے۔

(۷) سائنس کے مختلف شعبوں کے مطالعے میں اسلام کی رہنمائی کیا ہے،اس سوال کا جواب ایک مفصل مضمون چاہتا ہے، مگر میں مختصراً آپ کو اس کے لیے چنداشارے دیتا ہوں:

سائنس کا جو شعبہ بھی آپ لیں،وہ بہرحال کائنات کے کسی ایک جز کی ماہیت اور خصوصیات کو اور ان قوانین فطرت کو جو اس میں کارفرما ہیں،مشاہدے اور تجربے کی مددسے معلوم کرنا چاہتا ہے۔اس تحقیق وتجسس میں دو چیزیںبنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ایک یہ کہ تحقیق کرنے والا انسان پہلے بحیثیت مجموعی پوری کائنات کا( جس کے کسی جز پر وہ اپنی توجہ مرکوز کررہا ہے)ایک صحیح وجامع تصور رکھتا ہو۔دوسرے یہ کہ وہ خود اپنی حقیقت اور حیثیت کو اور اپنے حدود کو ٹھیک ٹھیک سمجھتا ہو۔ ان دو چیزوں کے بغیر الگ الگ اجزا کی تحقیقات(جو بہرحال صر ف تجربے ومشاہدے میں آنے والے اُمور واقعیہ تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ کسی نہ کسی فلسفیانہ نظریے کی تشکیل بھی کرتی ہے)مشکل ہی سے کسی صحیح نتیجے پر انسان کو پہنچا سکتی ہے۔اس کا حاصل،عملی ایجادات سے قطع نظر، فلسفیانہ حیثیت سے اگر کچھ ہے تو یہ کہ ایسی تحقیقات ہمارے مجموعی تصور کائنات و انسان کو مکمل اور واضح کرنے کے بجائے اُلٹا ناقص اور مسخ ہی کرتی چلی جائیں گی۔

اسلام دراصل ہماری اسی ضرورت کوپورا کرتا ہے۔ وہ ہر قسم کی تحقیقات کے لیے جو نقطۂ آغاز ہم کو دیتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کو بے خدا فرض کرکے یا بہت سے خدائوں کی رزم گاہ سمجھ کر تحقیق کی ابتدا نہ کرو، بلکہ یہ سمجھتے ہوئے اسے دیکھنا شروع کرو کہ یہ ایک خالق کی تخلیق اور ایک قادر مطلق کی سلطنت اور ایک حکیم کی دانائی کا کرشمہ ہے۔ دوسرے یہ کہ اپنے آپ کو(اور فی الجملہ نوع انسانی کو) غیرمحکوم و غیر مسئول، یامجبور محض، یا مختار کل سمجھتے ہوئے مطالعے کی ابتدا نہ کرو، بلکہ اس حیثیت سے مطالعہ شروع کرو کہ تم سلطنت کائنات میں ایک ایسی رعیت ہو جس کی طرف کچھ اختیار منتقل کیا گیا ہے اور اس اختیار کے صحیح وغلط استعمال میں تم مسئول ہو۔

بس یہی ہر مطالعہ و تحقیق کے لیے ایک صحیح نقطۂ آغاز ہے۔رہے دوران تحقیق میں پیش آنے والے وہ بہت سے جزئیات جن سے انسان کو مختلف علمی شعبوں میں سابقہ پیش آتا ہے،تو ان میں اسلام اس کے سوا کسی بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ ہمارے اخذ کردہ نتائج ان حقائق سے نہ ٹکرائیں جن کی صراحت کتاب اﷲ میں پائی جاتی ہو۔ اگر بالفرض کسی جگہ بعض حقائق مشہودہ (observed facts) سے ہم کو ایسے نتائج نکلتے نظر آئیں جو تصریحات کتاب سے متصادم ہوتے ہوں، تو پھر ہمیں غور سے دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہمارے مشاہدے، یا طریقۂ استنتاج میں تو کوئی غلطی نہیں ہے۔ یہ خیال رہے کہ تصادم اگر ہوسکتا ہے تو حقائق وواقعات او ر تصریحات کتاب میں نہیں بلکہ نتائج مستخرجہ اور تصریحات کتاب میں ہوسکتا ہے،اور اس صورت میں نظر ثانی کتاب پر نہیں بلکہ نتائج مستخرجہ پر ہونی چاہیے،کیوں کہ نتائج مستخرجہ حقائق مشہودہ کی طرح کوئی یقینی چیز نہیں ہیں۔

ان اُصولی باتوں کو سمجھنے کے بعد اب اپنی تحقیق کا راستہ تلاش کرنا آپ کا اپنا کام ہے۔

(۸) دوائوں اور غذائوں میں کیا چیزیں پاک ہیں اور کیا ناپاک، اس کو جاننے کے لیے آ پ کو کچھ نہ کچھ حدیث اور فقہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جہاں تک احکام قرآنی کا تعلق ہے،اس سلسلے میں آپ کو تفہیم القرآن سے کافی مدد مل جائے گی۔مگر پھر بھی حدیث اور فقہ کے مطالعے کی ضرورت باقی رہتی ہے، تاکہ آپ اُصولی احکام سے بھی واقف ہوجائیں اورجزوی مسائل سے بھی۔افسوس ہے کہ ہمارے ہاں اب تک میڈیکل کالج کی تعلیم میں شرعی احکام کی تعلیم شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ہے۔ آخر ہم کیسے اُس چیز کی ضرورت محسوس کرلیں جسے ہمارے استاد (انگریز) نے غیر ضروری سمجھا تھا!

(۹)مسلم حکما نے فن طب کو کس طرح مسلما ن بنایا تھا،اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو تو کوئی صاحب علم طبیب ہی کرسکتا ہے۔میں اس کے متعلق صرف ایک مجمل بات ہی کہہ سکتا ہوں کہ ابتدائی دور کے مسلم حکما نے محض اندھے مقلدوں کی طرح اس فن کو غیرمسلم استادوں سے جوں کا توں نہیں لے لیا تھا، بلکہ اسے مشرف با سلام کیا تھا اور ان کا یہ کارنامہ محض نسخوں پر’’ہو الشافی‘‘لکھ دینے تک محدودنہ تھا۔انھوں نے فن طب میں جو کتابیں لکھیں ان کو دیکھیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا پرست لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں،جو خدا کی حمد اور رسول پر درود وسلام سے کلام کی ابتدا کرتے ہیں اور بیچ میں جگہ جگہ خدا کی حکمت اور قدرت اور اس کی شان تخلیق اور آفاق و انفس میں اس کی آیات کی طرف اشارے کرتے جاتے ہیں۔ان کی کتابوں کا حال موجودہ زمانے کی طبی کتابوں کا سا نہیں ہے، جن میں کہیں اشارے کنایے میں بھی خدا کا ذکر نہیں آتا۔اس سے فرق یہ واقع ہوتا ہے کہ پہلے ایک طالب علم کے ذہن میں تشریح بدن اور وظائف اعضا اور اسباب امراض اور خواص ادویہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ خدا پر یقین اور اس کے خالق اورحکیم اور مدبر ہونے پر اعتقاد بڑھتا جاتا تھا،اور اب یہی ساری چیزیں پڑھنے کے دوران میں ایک خالص مادہ پرستانہ نقطۂ نظر آپ سے آ پ پرورش پاتا چلا جاتا ہے۔الا یہ کہ کوئی طالب علم باہر کہیں سے ایمان باﷲ ساتھ لایا ہو اور یہاںاناٹومی اور فزیالوجی وغیرہ پڑھتے ہوئے وہ بطور خود آیات الٰہی کا مشاہدہ بھی کرتا رہے۔

قدیم زمانے میں ہمارے حکما نے یہ طریقہ مقرر کررکھا تھا کہ فن طب کی تعلیم علو م دینی کی تکمیل کے بعد دی جاتی تھی۔ایک طالب علم مدرسۂ طب میں آتا ہی اس وقت تھا جب وہ ملک کی عمومی ثانوی تعلیم سے فارغ ہوچکاہو، اور اس ثانوی تعلیم کا جزوِ لازم تعلیمِ دین ہوتا تھا۔اس لیے ہمارے ہاں کے طبیب نرے طبیب ہی نہ ہوتے تھے بلکہ عالم دین بھی ہوتے تھے۔اب معاملہ اس کے برعکس ہے کہ میڈیکل کالج کے درجۂ فراغ کو پہنچا ہوا ایک طالب علم حدود حلال وحرام کی ابتدائی معلومات تک نہیں رکھتا۔

مزید برآں ہمارے پرانے زمانے کے اطبا بالعموم زاہد وعابد لوگ ہوتے تھے،لالچ کے بغیر خدمت خلق کرتے تھے،فیس لینے سے اکثر اور دو افروشی سے کلیتاً اجتناب کرتے تھے، اور ان کی ذاتی زندگی بڑی پاکیزہ ہوتی تھی۔اس لیے طبی تعلیم کا سارا ماحول پاک اور دین دارانہ رہتا تھا اور استادوں کے عمد ہ اوصاف خود بخود شاگردوں میںسرا یت کرجاتے تھے،بغیر اس کے کہ طلبہ کو دین دار اور بااخلاق بنانے کے لیے کوئی مصنوعی کوشش کرنی پڑتی۔

اس کے ساتھ دوا سازی کے فن کی جو اصلاح ان لوگوں نے کی،اس کی طرف میں پہلے اشارہ کرچکا ہوں۔وہ لوگ حرام چیزوں کو صرف اسی صورت میں استعمال کرتے تھے جب کہ مریض کے لیے ان کا استعمال ناگزیر ہو۔ورنہ بالعموم انھوں نے اپنی دوائوں کو حرام اور ناپاک اجزا سے پاک رکھا تھا۔ (ترجمان القرآن۔ محرم، صفر۱۳۷۲ھ۔ اکتوبر، نومبر۱۹۵۲ء)