رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قطبین کے قریب مقامات میں نماز روزے کے اوقات:
سوال: میرا ایک لڑکا ٹریننگ کے سلسلے میں انگلستان گیا ہوا ہے،آج کل وہ ایک ایسی جگہ قیام رکھتا ہے جو قطب شمالی سے بہت قریب ہے۔وہ نمازوں اور روزوں کے اوقات کے لیے ایک اُصولی ضابطہ چاہتا ہے۔بارش، بادل اور دھند کی کثرت سے وہاں سور ج بالعموم بہت کم دکھائی دیتا ہے۔کبھی دن بہت بڑے ہوتے ہیں،کبھی بہت چھوٹے۔بعض حالات میں طلوع آفتاب اور غروب آفتاب میں بیس گھنٹے کا فصل ہو تا ہے۔ تو کیا ایسی صورت میں بیس گھنٹے یا اس سے زائد کا روزہ رکھنا ہوگا؟
جواب: جن ممالک میں چوبیس گھنٹے کے اندر طلوع وغروب ہوتا ہے،ان میں خواہ دن اور رات چھوٹے ہوں یا بڑے،نمازو ں اور روزوں کے اوقات انھی قاعدوں پر مقررکیے جائیں گے جو قرآن وحدیث میں بتائے گئے ہیں۔ یعنی فجر کی نماز طلوع آفتاب سے پہلے،ظہر کی نماز زوال آفتاب کے بعد، عصر کی نماز غروب آفتاب سے قبل، مغرب کی نماز غروب آفتاب کے بعد،اور عشا کی نماز کچھ رات گزرجانے پر۔اسی طرح روزہ بہرحال صبح صادق کے ظہور پر شروع ہوگا اور غروب آفتاب کے معاً بعد افطار کیا جائے گا۔ جہاں ظہر وعصر، یا مغرب وعشا میں فصل ممکن نہ ہو،وہاں جمع بین الصلوٰتین کرلیں۔
آپ کے صاحب زادے اپنی سہولت کے لیے انگلستان کی رصد گاہ سے دریافت کرلیں کہ ان کے علاقے میں آفتاب کے طلوع وغروب اور زوال کے اوقات کیا ہیں۔پھر ان اوقات کے لحاظ سے اپنی نمازوں کے اوقات مقرر کرلیں۔
روزے کے لیے وہاں کے دن کی بڑائی سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ابن بطوطہ نے روس کے شہر بلغار کے متعلق لکھا ہے کہ گرمی کے زمانے میں جب وہ وہاں پہنچا ہے تو رمضان کا مہینا تھا اور افطار کے وقت سے لے کر صبح صادق کے ظہور تک صرف دو گھنٹے کا وقت ملتا تھا۔اسی مختصر مدت میں وہاں کے مسلمان افطار بھی کرتے،کھانا بھی کھاتے،اور عشاکی نماز بھی پڑھ لیتے تھے۔ نماز عشاء سے فارغ ہوکر کچھ دیر نہ گزرتی تھی کہ صبح صادق ظاہر ہوجاتی اور پھر فجر کی نماز پڑھ لی جاتی تھی۔ (ترجمان القرآن۔ رمضان،شوال ا۳۷اھ۔ جون،جولائی۹۵۲اء)