رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
استمنا بالید کا شرعی حکم:
سوال: ایک شخص کا شباب عروج پر ہے۔نفسانی جذبات کا زور ہے۔اب ان جذبات کو قابو میں رکھنے کی چند ہی صورتیں ہوسکتی ہیں:
یہ کہ وہ نکاح کرے۔ مگر جس لڑکی سے اُس کی نسبت ہے وہ اتنی چھوٹی ہے کہ کم ازکم تین چار سال انتظار کرنا ہوگا۔
یہ کہ وہ اپنے خاندان سے باہر کہیں اور شادی کرلے۔مگر ایسا کرنے سے تمام خاندان ناراض ہوتاہے، بلکہ بعید نہیں کہ اُس کا اپنے خاندان سے رشتہ ہی کٹ جائے۔
یہ کہ وہ اس نیت سے کوئی عارضی نکاح کرلے کہ اپنی خاندانی منسوبہ سے شادی ہوجانے کے بعد پہلی بیوی کوطلاق دے دے گا۔مگر اس میں اورمتعہ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔
یہ کہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل روزے رکھے۔مگر وہ ایک محنت پیشہ آدمی ہے جسے تمام دن مشغول رہنا پڑتا ہے۔اتنی محنت روزوں کے ساتھ سخت مشکل ہے۔
آخری چارۂ کار یہ ہے کہ وہ زنا سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھ سے کام لے۔کیا ایسے حالات میں وہ اس طریقے کو اختیا ر کرسکتا ہے؟
جواب: نکاح بالید، یعنی ہاتھ سے شہوت رفع کرنے کے بارے میں فقہائے اسلام کے تین مسلک ہیں:
۱۔ یہ کہ وہ مباح ہے اور زیادہ سے زیادہ اگر اس کے خلاف کچھ کہا جاسکتا ہے تو صرف اس قدر کہ مکارم اخلاق کے خلاف ہونے کی وجہ سے وہ ایک مکروہ اور ناپسندیدہ فعل ہے۔اس مسلک کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ کسی نص میں اس فعل کے حرام ہونے کی تصریح نہیں ہے اور اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الانعام 119:6 (اﷲ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے اُس کو وہ تمہارے لیے مفصل بیان کرچکا ہے)۔ لہٰذا جب محرمات کی تفصیل میں یہ مذکور نہیں ہے تو حلال ہے۔ابن حزم نے محلّی میں اس رائے کو پورے دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے، اور سند کے ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ حسن بصری،عمرو بن دینار اور مجاہد اس کی اباحت کے قائل تھے، اور عطاء اس کو صرف مکروہ سمجھتے تھے(جلداا،صفحہ۹۳،۳۹۲)۔علامہ آلوسی نے روح المعانی میں امام احمد بن حنبلؒ کی یہ رائے نقل کی ہے کہ ’’یہ فعل عند الضرورت اسی طرح جائز ہے جیسے فصد اور پچھنے۔‘‘(جلد۸ا، صفحہ۰ا) لیکن مجھے فقہ حنبلی کی کسی مستند کتاب میں یہ فتویٰ نہیں ملا۔
۲۔ یہ کہ وہ حرام ہے۔ لیکن اگر زنا کے فتنے میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہو اور آدمی اس سے بچنے کے لیے اس طریقے سے شہوت کی تسکین کرلے تو اُمید ہے کہ اُسے عذاب نہ دیا جائے گا۔یہ رائے حنفیہ کی ہے۔چنانچہ ردالمحتار میں تصریح ہے کہ یہ فعل حرام اور مستلزمِ عذاب ہے،الا یہ کہ اگر زنا کے اندیشے سے کوئی اس کا ارتکاب کرے تو یُرجٰی اَلَّاوبال علیہ(باب الصوم اور باب الحدود)۔ اسی کے قریب علامہ آلوسی نے ابن ہمام کا قول نقل کیاہے( حوالۂ مذکور)، اور اسی سے ملتی جلتی رائے علامہ عابدین نے فقیہ ابوا للیث سے نقل کی ہے۔اس رائے کے حق میں کوئی خاص نص نہیں ہے،بلکہ یہ اسلام کے اُصو ل عامہ سے مستنبط کی گئی ہے،مثلاً حالت اضطرار میں حرام شے کے استعمال کی اجازت اور دو ناجائز کاموں کے ناگزیر ہوجانے کی صورت میںکم تر درجے کے ناجائز کو اختیارکرنے کا قاعدہ۔
۳۔ یہ کہ وہ قطعاًحرام ہے۔امام شافعی اور امام مالکؒ کی یہی رائے ہے،اور وہ سورۂ مومنون کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں:
وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَo اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَo فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْعٰدُوْنَo
المومنون23: 5-7
’’اور جو اپنی شرم گاہوںکی حفاظت کرتے ہیں، بجز اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں،کہ(ان سے پرہیز نہ کرنے میں)وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔ پھر جو اس کے ماسوا کوئی اور راہ(قضائے شہوت کی) تلاش کرے تو ایسے ہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔‘‘
اس آیت سے وہ استدلال کرتے ہیں کہ منکوحہ بیوی اور ملک یمین میں آئی ہوئی لونڈی کے سوا تسکینِ شہوت کی تمام صورتیں ازروئے قرآن حرام ہیں، خواہ وہ زنا ہو یا استمنا بالید، یا عملِ قوم لوط یا وطیِ بہائم، یا کچھ اور۔ پھر اسی کی تائید یہ احادیث بھی کرتی ہیں:
ناکح الید ملعون ۔
’’اپنے ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے۔‘‘
عذب اللّٰہ تعالٰی امۃ کانوا یعبثون بمذاکیرھم۔
’’اﷲ نے ایسے لوگوں کو عذاب دیا جو اپنے اعضائے جنسی سے کھیلتے تھے۔‘‘
یہ دونوں حدیثیں علامہ آلوسی نے روح المعانی میں نقل کی ہیں۔ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں ایک اور حدیث نقل کی ہے، مگر ساتھ ہی یہ تصریح بھی کردی ہے کہ یہ حدیث غریب ہے،نیز اس کی سند میں ایک راوی غیر معروف ہے۔
سبعۃ لا ینظر اللّٰہ الیھم یوم القیامہ ولا یزکیھم ولا یجمعھم مع العالمین ویدخلھم النار فی اول الداخلین الا ان یتوبوا ومن تاب تاب اللّٰہ علیہ ۔ الناکح یدہ، والفاعل والمفعول بہ، و مد من الخمر، والضارب والدیہ حتّٰی یستغیثا، والموذی جیرانہ حتّٰی یلعنوہ،والناکح حلیلۃ جارہ ۔
’’سات آدمی ہیں جن کی طرف اﷲ قیامت کے رو زنظر نہ فرمائے گا، اورنہ انھیں پاک کرے گا، اور انھیں دوسرے لوگوں کے ساتھ جمع کرے گا، اور سب سے پہلے دوزخ میں داخل ہونے والوں میں شامل کرے گا،الا یہ کہ وہ توبہ کرلیں، اور جو توبہ کرے اﷲ اُسے معاف کردیتا ہے:(ا)اپنے ہاتھ سے نکاح کرنے والا(۲)عمل قوم لوط کرنے والا(۳) یہ فعل کرانے والا(۴) عادی شراب خور(۵) اپنے والدین کو مارنے والا یہاں تک کہ وہ فریا دکریں(۶) اپنے ہمسایوں کو ستانے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت کریں(۷)اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنے والا۔‘‘
ان مختلف مسلکوںاور ان کے دلائل پر نگاہ ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ پہلا مسلک نہایت کمزور بلکہ غلط ہے۔ اس لیے کہ قرآن میں حرام چیزوں کی تفصیل بیان ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ سب حرام چیزوں کو نام بنام بیان کیا گیا ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں حرام وحلال کے کلی اُصول بیان کردیے گئے ہیں۔پس ہر و ہ چیز جو قرآن کے بیان کردہ کسی کلیے کے تحت آتی ہو،اُس پر وہی حکم جاری ہوگا جو کلیے میں ارشاد ہوا ہو،الایہ کہ اس کو مستثنیٰ قرار دینے کے لیے کوئی دلیل موجود ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ جب قرآن یہ عام قاعدہ بیان کرچکا ہے کہ بیویوں اور مملوکہ عورتوں کے سوا قضائے شہوت کے تمام طریقے عدوان ہیں،تو اس سے نکاح بالید کے مستثنیٰ ہونے کی آخر دلیل کیا ہے؟اس کے جواب میں بعض لوگوں نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ’’عرب میں اس فعل کا کوئی رواج نہ تھا، نہ کلام عرب میں اس کا کوئی ذکر ہے،لہٰذا فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ میں یہ داخل نہیں ہے۔‘‘ لیکن یہ دلیل دو وجوہ سے غلط ہے:ایک یہ کہ لغت عرب میں اس کے لیے جلد عمیرہ اورخَضْخَضَہْ کے الفاظ موجود ہیں اور زبان میں کسی لفظ کا موجود ہونا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ اہل زبان اس تصور سے آشنا تھے۔دوسرے یہ کہ اگر عرب اس سے واقف نہ تھے تو خداتو انسانوں کے سب افعال سے واقف تھا۔اُس کے بیان کردہ کلیات صرف انھی جزئیات تک آخر کیسے محدود ہوجائیں گے جن سے اُس زمانے کے عرب واقف ہوں۔
ان دلائل کی بِنا پر صحیح مسلک یہی ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔البتہ عقل یہ حکم لگاتی ہے کہ اس کی حرمت زنا، اور عمل قوم لوط، اور وطی بہائم کی بہ نسبت کم تر ہے۔اس لیے اگرکسی شخص کو ان گناہوں میں سے کسی ایک میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہو اور اُس سے بچنے کے لیے وہ اپنے جو ش طبع کی تسکین اس ذریعے سے کرلے تو اُس کے حق میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ’’شاید اﷲ تعالیٰ اُسے سزانہ دے۔‘‘
اب اس خاص شخص کا مسئلہ لیجیے جس کے بارے میں سوال کیا گیا ہے۔اس کوپہلے تو میں اﷲ تعالیٰ کی یہ نصیحت یاد دلائوں گا کہ
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغْنِيَہُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۰ۭ النور33:24
پھر میں اُس سے صاف کہوں گا کہ تمہارے معاملے میں وہ حالت ہرگز موجود نہیں ہے جسے تم ایک حرام چیز کو حلال کرنے کے لیے معذرت کے طو رپر پیش کررہے ہو۔ تم محض اپنے خاندان کے خوف سے نکاح نہیں کرتے،حالاں کہ اس خاندان نے ایک جوان آدمی کو ایک کم سن لڑکی کے ساتھ منسوب کرکے اپنی نادانی کا پورا پورا ثبوت دے دیا ہے۔ اب اگر نکاح کے مواقع پاتے ہو مگر خاندان کی ناراضی سے ڈر کر نہیں کرتے تو خواہ تم کوئی سا گناہ بھی کرو،خدا کے ہاں ضرور ماخوذ ہوگے،کیوں کہ حقیقی مجبوری تمھیں کوئی نہیں ہے،حجتیں ڈھونڈنے کے بجائے سیدھی طرح فیصلہ کرو کہ خوف کا مستحق کون زیادہ ہے؟ خدا یا خاندان؟
(ترجمان القرآن،محرم،صفر ۳۷۲اھ، اکتوبر،نومبر۹۵۲اء)