مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

شفاعت کا صحیح تصور:

سوال: کسی مولوی صاحب نے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں آپ پر معتزلی اور خارجی ہونے کا فتویٰ لگایا ہے۔بِنائے فتویٰ یہ ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قیامت کے روز اُمت کے بارے میں شفاعت کے منکر ہیں۔ اس کا حوالہ ترجمان القرآن، جلد۲۶، عددا، ۲ صفحہ۳۰سے لیتے ہوئے آیت’’جنگ کرو اہل کتاب میں ان لوگوں کے خلاف جو اﷲ اور روز آخرت پر ایمان نہیں لاتے‘‘کے تشریحی نوٹ کا دیا ہے۔یہ نوٹ یوں ہے:’’وہاں کوئی سعی سفارش، کوئی فدیہ اورکسی بزرگ سے منتسب ہونا کام نہ آئے گا۔‘‘ اسی طرح تفہیمات سے بھی کوئی حوالہ اسی قسم کا اخذ کیاہے۔

براہِ کرم آپ بیان فرمائیں کہ اہل سنت کا عقیدہ شفاعت کے بارے میں کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کی شفاعت کس حیثیت سے کریں گے،نیز آیا وہ ساری اُمت کی طرف سے شفیع ہوں گے؟

جواب: خدا ان لوگوں کو نیک ہدایت دے جو دوسروں کی طرف غلط باتیں منسوب کرکے دنیا میں پھیلاتے ہیںاور ان کے اقوال کو ایسے معنی پہناتے ہیں جو قائل کے منشا کے خلاف ہوں۔ اگر الزام لگانے والے بزرگ کے دل میں خدا کا کچھ خوف ہو تا تو وہ اشتہار کی اشاعت سے پہلے مجھ سے لکھ کر پوچھ سکتے تھے کہ تیری ان عبارات کا منشا کیا ہے، اور شفاعت کے بارے میں تیرا عقیدہ کیا ہے۔میری جن عبارتوں کا انھوں نے حوالہ دیا ہے،ان میں سے ایک یہود ونصاریٰ کے غلط عقیدۂ شفاعت کی تردید میں ہے، اور اس کا اصل مقصد یہ بتانا ہے کہ اس غلط عقیدے کی وجہ سے کس طرح اہل کتاب کا ایمان بالیوم الآخر باطل ہوگیا ہے جس کی بنا پر قرآن میں ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ یوم آخر پر ایمان نہیں رکھتے۔ دوسری عبارت میں ان تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے جو نبیؐ نے اپنی دعوت رسالت کے آغاز میں مشرکین مکہ کو خطاب کرکے ارشاد فرمائی تھیں۔دونوں میں سے کسی مقام پر بھی اسلام کے عقیدۂ شفاعت کو بیان کرنے کا موقع نہ تھا۔آخر کافروں اور مشرکوں کے سلسلے میں اس شفاعت کا ذکر کیوں کیا جاتا جس کے مستحق صرف اہل ایمان ہیں؟کافروں اور مشرکوں کے معاملے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ وہی کچھ ہے جو قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ

وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا وَلَا يُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا يُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَo البقرہ 48:2

رہا اسلامی عقیدۂ شفاعت، تو وہ قرآن و حدیث کی رو سے یہ ہے کہ قیامت کے روز اﷲ تعالیٰ کی عدالت میں شفاعت صرف وہ کرسکے گا جس کو اﷲ اجازت دے، اور صرف اسی شخص کے حق میں کرسکے گا جس کے لیے اﷲ اجازت دے۔ ملاحظہ ہو يَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِيَ لَہٗ قَوْلًاo طٰہٰ20:109 ’’مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِـاِذْنِہٖ۝۰ۭ البقرہ2:255 اس قاعدے کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخرت میں یقینا شفاعت فرمائیں گے،مگر یہ شفاعت اﷲ کے اذن سے ہوگی اور ان اہل ایمان کے حق میں ہوگی جو اپنی حدوسع تک نیک عمل کرنے کی کوشش کے باوجود کچھ گناہوں میں آلودہ ہوگئے ہوں۔ جان بوجھ کر خیانتیں اور بدکاریاں کرنے والے،اور کبھی خدا سے نہ ڈرنے والے لوگ حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق نہیں ہیں۔چنانچہ حدیث میں حضو رصلی اﷲعلیہ وسلم کا ایک طویل خطبہ مروی ہے جس میں آپ جرم خیانت کی شدت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز یہ خائن لوگ اس حالت میں آئیں گے کہ ان کی گردن پر ان کا خیانت سے حاصل کیا ہوا مال لدا ہوگا اور وہ مجھے پکاریں گے کہ ’’یا رسول اﷲ اغثنی ( یا رسول اﷲ ؐ میری مدد فرمایئے)مگر میں جواب دوں گا کہ ’’لا املک لک شیئا، قد ابلغتک‘‘(میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا،میں نے تجھ تک خدا کا پیغام پہنچا دیا تھا)۔ ملاحظہ ہو: مشکٰوۃ، باب قسمۃ الغنائم، الغلول فیھا۔

(ترجمان القرآن۔ محرم، ۳۷۰اھ، نومبر۹۵۰اء)