مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

برطانیہ میں ایک مسلمان طالب علم کی مشکلات:

سوال: یہاں آکر میں کچھ عجیب سی مشکلات میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ سب سے زیادہ پریشانی کھانے کے معاملے میں پیش آرہی ہے۔اب تک گوشت سے پرہیز کیا ہے۔صرف سبزیوں پر گزارہ کررہا ہوں۔ سبزی بھی یہاں آپ جانتے ہیں صرف اُبلی ہوئی ملتی ہے اور وہ بھی زیادہ تر آلو۔ انڈا یوں بھی کم یاب ہے اور پھر اس پر راشن بندی ہے۔ہفتے میں دو تین انڈے مل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عبداﷲ صاحب امام ووکنگ مسجد(لندن) سے ملا۔انھوں نے یہ بتایا کہ کلام پاک کی رُو سے ایک تو سو ر کا گوشت حرام ہے،دوسرے خون،تیسرے مردار اور چوتھے وہ جانور جو اﷲ کے سوا کسی دوسرے کے نام پر ذبح کیا جائے۔پھر انھوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں تک یہاں کے طریقہ ذبح کا تعلق ہے،اس سے شہ رگ کٹ جاتی ہے اور سارا خون نکل جاتا ہے۔ چوں کہ اس خون کا نکلنا طبی نقطۂ نظر سے ضروری ہے،لہٰذا اس کا یہاں خاص خیال رکھا جاتا ہے۔البتہ یہ ضرور صحیح ہے کہ گردن پوری طرح الگ کردی جاتی ہے،لیکن کلام پاک میں اس سلسلے میں کوئی ممانعت وارد نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہاں جانور کسی کے نام پر ذبح نہیں کیے جاتے، بلکہ وہ تجارتی مال کی حیثیت سے سیکڑوں کی تعداد میں روزانہ ذبح ہوتے ہیں۔ اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اﷲ کا نام تو نہیں لیا جاتا لیکن کسی اور کا بھی نام نہیں لیاجاتا، پس وہ غیر اﷲ سے منسوب نہ ہونے کی وجہ سے کھایا جاسکتا ہے۔اس سلسلے میں ان سے بہت کچھ بحث رہی مگر طبیعت نہیں مانتی کہ یہ گوشت جائز ہوسکتاہے۔

پھر کھانے میں جو سوپ دیا جاتا ہے وہ کبھی کبھی توصرف سبزیوں سے بنا ہوا ہوتا ہے،مگر آج ہی اتفاق سے اس میں ایک ٹکڑا گوشت کا نکل آیا۔ شکایت کی تو معلوم ہوا کہ کبھی کبھی گوشت اور سبزی ملا کر بھی سوپ بنایا جاتا ہے۔ اب مشکل یہ ہے کہ جہاں سو دو سو آدمی اطمینان سے یہ سب کچھ کھا پی رہے ہوں وہاں دو چار آدمیوں کا لحاظ کون کرے گا؟ پھر مکھن،پنیر اور میٹھا کھانا بھی دستر خوانوں پر آتا ہے۔ ان چیزوں میں بھی حرام دودھ یا چربی کی آمیزش ہونے کے بارے میں قوی شبہ ہوتا ہے۔علاوہ بریں باورچی حرام کھانوں میں استعمال ہونے والے چمچے اُٹھا کر دوسرے کھانوں میں ڈالتے رہتے ہوںگے۔یہ کچھ عجیب پیچیدگی ہے جسے حل کرنے میں مشورہ مطلوب ہے۔

دوسری بات نمازوں کے متعلق دریافت طلب ہے۔صبح کی نماز کا وقت ۶بج کر۳۸منٹ تک رہتا ہے۔یہ تو اﷲ کے فضل وکرم سے ادا کرلیتا ہوں۔ ظہر کے لیے مشکل سے وقت ملتا ہے۔ساڑھے بارہ سے لے کر ڈیڑھ تک کھانے کے لیے وقت ملتاہے۔اسی ایک گھنٹے میں کلاس سے(mess) تک آنے جانے میں بھی وقت لگتا ہے اور اس میں وضو اور نماز کے لیے بھی وقت نکالتا ہوں۔ لیکن بہت ہی دقت ہوتی ہے۔عصر کے لیے سرے سے وقت ملتا ہی نہیں، کیوں کہ فرصت ساڑھے چار بجے ہوتی ہے اور ساڑھے چار بجے سے پانچبجے تک ناشتہ ہوتا ہے اور۴بج کر۴۸منٹ پر مغرب ہوجاتی ہے۔ناشتے کے فوراً بعد مغرب تو ادا کرلیتا ہوں،لیکن عصر رہ جاتی ہے۔ میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشا کی نمازوں کو ملا کر پڑھنے کا کیا قاعدہ ہے۔ووکنگ مسجد کے امام صاحب بعض اوقات نمازوں کوملا کر پڑھتے ہیں۔

یہاں ہم بارہ طلبہ آئے ہوئے ہیں، جن میں سے مجھ سمیت کل پانچ لڑکے ایسے ہیں جو دین کا لحاظ رکھنا ضروری سمجھتے ہیں، اور بقیہ ایسے ہیں کہ ہم کو طرح طرح سے بے وقوف بناتے ہیں۔تاہم اﷲ کا شکر ہے کہ میں ان باتوں سے کبھی نہیں گھبراتا بلکہ صحیح بات معلوم کرکے اس پر عمل بھی کرنا چاہتا ہوں۔ان مسائل پر میں نے ہمیشہ اﷲ کو حاضرو ناظر جان کر غور کیا ہے اور اس سے ہمیشہ یہی توقع رکھی ہے کہ وہ مجھے ضرور صحیح راستے کی طرف ہدایت دے گا،مگر بشری کمزوریوں کی وجہ سے ڈرتا ہوں کہ کوئی غلط صورت نہ اختیار کر بیٹھوں۔اس لیے آپ سے یہ سوال کررہا ہوں۔

جواب: آ پ نے جن مسائل کے متعلق میری رائے دریافت کی ہے،ان کے بارے میں مختصراًعرض کرتا ہوں:

(۱) ذبیحے کی صحت کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ جانور کی شہ رگ کاٹ کر خون نکال دیا جائے۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس پر خدا کا نام لیا جائے۔قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وَلَاتَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللہِ عَلَيْہِ الانعام 121:6 ’’جس پر خدا کا نام نہ لیا گیا ہو،اسے نہ کھائو۔‘‘ اب یہ ظاہر ہے کہ انگلستان میں جو جانور قتل کیے جاتے ہیں،ان پر خدا کا نام نہیں لیا جاتا، اس لیے ان کے حلال ہو نے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ سورۂ مائدہ میں’’طعام اہل کتاب‘‘ کو ہمارے لیے جائز قرار دیا گیا ہے،مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو چیزیں خدا نے ہمارے لیے ناجائز ٹھیرائی ہیں،انھیں بھی ہم اہل کتاب کے ہاتھ سے لے کر کھا سکتے ہیں۔ اس بنا پر میرے لیے ڈاکٹر عبداﷲ صاحب کی رائے سے اتفاق کرنا تو ممکن نہیں ہے، البتہ آپ کو اپنی خوراک کے معاملے میں جو مشکل پیش آرہی ہے،اس کا حل ضروری ہے۔سو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ غیر لحمی یا نباتی غذا(vegetarian diet) پر اکتفا کریں جس کا انتظام انگلستان میں ہوسکتا ہے۔ اور اگر گوشت کا کوئی ٹکڑا اس میں نکل آئے تو کھانے کے منتظم سے اس کی شکایت کرکے اس کا سدباب کرائیں۔دوسرے یہ کہ وہم کو دل سے نکال دیں۔ جو چیز آپ کے سامنے دستر خوان پر پیش ہو، اس میں اگر کوئی حرام شے موجود نہ ہو تو اسے اطمینان کے ساتھ کھا لیجیے اور اس اندیشے سے اپنے ذہن کوپریشان نہ کیجیے کہ اس میں کسی حرام کھانے کا چمچا ڈال دیا گیا ہوگا،یا اس میں کسی حرام جانور کی چربی شامل کردی گئی ہوگی۔ آپ کو اپنے عمل کی بنیاد علم اور یقین پر رکھنی چاہیے نہ کہ گمان اور اندیشے کی بنا پر۔آپ صرف اس غذا سے پرہیز کریں جس میںکسی حرام شے کے شمول کا آپ کو علم ہوجائے۔تیسرے یہ کہ جب کبھی گوشت کو دل چاہے تو مچھلی پکوالیں، یا یہودیوں کا ذبیحہ حاصل کریں جس کا ملنا انگلستان میں مشکل نہیں ہے۔

(۲) نمازوں کے بارے میں جس مشکل کا آپ نے ذکر کیا ہے،اس کا حل یہ ہے کہ ظہر کی نماز میں اگر سنتیں ادا کرنے کا وقت نہ مل سکے تو صرف فرض پڑھ لیا کریں،اور عصر کے لیے وقت ملنے کی اگرکوئی صورت ممکن نہ ہو تومغرب کے ساتھ قضا پڑھ لیا کریں۔دو وقت کی نمازوں کو ملا کر پڑھنے کے معاملے میں اختلاف ہے۔ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ ظہر او رمغرب کے آخری وقتوں میں عصر کو ظہر کے ساتھ اور عشا کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھا جاسکتا ہے،اور دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ ایک وقت کی نماز کے ساتھ دوسرے وقت کی نماز پیشگی بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ لیکن اس بات کو قریب قریب تما م علمائے اہل سنت نے ناجائز قرار دیا ہے کہ کوئی شخص دو وقت کی نمازوں کو ملا کر پڑھنے کی عادت بنالے۔کیوں کہ اس طرح تو عملاًپانچ وقت کے تین وقت ہی بن کر رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا آپ اس سے تو پرہیز کریں،البتہ جب کبھی عصر کی نماز پڑھنا ممکن نہ ہو،اسے قضا پڑھ لیا کریں۔

مجھے افسوس ہے کہ ہماری حکومت جن لوگوں کو تعلیم وتربیت کے لیے باہر بھیجتی ہے،ان کی مذہبی ضروریات کے لیے کوئی اہتمام نہیں کرتی۔اگر سرکاری طور پر اس کی فکر کی جاتی تو انگلستان میں ہمارے طلبہ کے لیے حلال غذا کا بھی انتظام ہوسکتا تھا اور نمازوں کے لیے بھی ان کو وقت دلوایا جاسکتا تھا۔ (ترجمان القرآن۔ صفر۳۷۰اھ۔ دسمبر۹۵۰اء)