مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

خنزیر اور درندوں کا گوشت حرام کیوں ہے؟

سوال: قرآن نے چند چیزیں حرام کیوں قرار دی ہیں؟طبی نقطۂ نگاہ سے یا کسی اور وجہ سے؟ ان میں کیا نقصانات ہیں؟خنزیر کو خاص طور پر نام لے کر کیوں شدت سے حرام قرار دیا گیا ہے؟کیا یہ سب سے زیادہ مضر حیوان ہے؟چیر نے پھاڑنے والے جانور اور خون وغیرہ کیوں حرام قرار دیے گئے ہیں؟

جواب: قرآن میں جن چیزوں کو کھانے سے منع کیا گیا ہے اُن کی حرمت میں ممکن ہے کہ ضمناً کچھ لحاظ ان کے طبی نقصانات کا بھی ہو،مگر اصل وجہ حرمت طبی نہیں بلکہ اخلاقی اور اعتقادی ہے۔بعض چیزیں اعتقادی بنیادوں پر حرام کی گئی ہیں جیسے مَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ [یعنی وہ جانور جسے اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو] اور بعض چیزیں اخلاقی نقصانات کی وجہ سے حرام کی گئی ہیں،جیسے خنزیر۔ ان چیزوں کے اخلاقی نقصانات کا ہمیں پورا علم نہیں ہے، مگر کسی حد تک اپنے مشاہدات کی بنا پر ہم ان کو جان سکتے ہیں۔مثلاً خنزیر کے متعلق دنیا کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس کا گوشت نہایت بے حیائی پیدا کرنے والا ہے۔ جو قومیں اسے کثرت سے استعمال کرتی ہیں، ان کے اخلاقی حالات اس پر گواہ ہیں۔ دنیا میں شاید خنزیر ہی ایک ایسا جانور ہے جس کی ایک مادہ کے گردبہت سے نر جمع ہوجاتے ہیں اور باری باری سے ایک دوسرے کے سامنے اس کے ساتھ جفتی کرتے ہیں۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ بے حیائی کی یہ خاص نوعیت کن قوموں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ جن قوموں کے آداب مجلس میں (etiquette) یہ چیز داخل ہو کہ مجلس میں ایک شخص کی بیوی لازماً دوسرے شخص کے پہلو میں بیٹھے، اور بال روم میں اپنی بیوی کے ساتھ خود ناچنا رشک وتنگ دلی کی علامت ہو اور اسے دوسروں کے ساتھ سینے سے سینہ ملاکر ناچنے کے لیے چھوڑ دینا فراخ دلی اور مروت کی دلیل سمجھی جائے،ان کے اس اخلاقی تخیل کا ماخذ اگر آپ تلاش کریں گے تو بعید نہیں کہ اس کا سراغ اس جانور کی جبلت ہی میں آپ کو مل جائے جس کا گوشت ان کے ہاں کثرت سے کھایاجاتا ہے۔اسی طرح درندہ جانوروں کے متعلق بھی ہم یہ قیاس کرسکتے ہیں کہ ان کا استعمال خون خواری پیدا کرنے والا ہے۔ بہتے ہوئے خون یا بہائے ہوئے خون کے استعمال سے بھی درندگی اور قساوت کا پیدا ہونا کچھ بعید از قیاس نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن۔ ذی القعدہ،ذی الحجہ ۳۷۰اھ۔ ستمبرا۹۵اء)