مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول:

سوال: معوذتین کی شان نزول کے متعلق بعض مفسرین نے حضور علیہ السلام پر یہودی لڑکیوں کے جادو کا اثر ہونا اور ان سورتوں کے پڑھنے سے اس کا زائل ہوجانا بحوالۂ احادیث تحریر فرمایا ہے۔یہ کہاں تک درست ہے؟نیز جادو کی حقیقت کیا ہے؟بعض اشخاص حضور علیہ السلام پر جادو کے اثر کو منصب نبوت کے خلاف سمجھتے ہیں؟

جواب: شان نزول کے بارے میں یہ بات پہلے ہی سمجھ لینے کی ہے کہ مفسرین جب کسی واقعے کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ آیت اس واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جب واقعہ پیش آیااُسی وقت وہ آیت نازل ہوئی تھی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس واقعے سے اس آیت کا تعلق ہے۔

معوذتین کے متعلق یہ بات ثابت ہے کہ وہ مکے میں نازل ہوئی ہیں اور احادیث میں جادو کا جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ مدینہ طیبہ کا ہے۔اس لیے یہ کہنا بداہتاً غلط ہے کہ جب جادو کا وہ واقعہ پیش آیا،اُس وقت یہ دونوں سورتیں نازل ہوئیں۔دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سورتوں کے پڑھنے کی ہدایت فرمائی گئی۔

جادو کی حقیقت اگر آپ سمجھنا چاہیں تو قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ پڑھیں۔ جادوگروں نے لاٹھیوں اور رسیوں کے جو سانپ بنائے تھے،وہ حقیقت میں سانپ نہیں بن گئے تھے،مگر اس مجمع نے جو وہاں موجود تھا یہی محسوس کیا کہ یہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔حتیٰ کہ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آنکھیں بھی پیغمبر ہونے کے باوجود اس قدر مسحور ہوگئیں کہ انھوں نے بھی انھیں سانپ ہی دیکھا۔قرآن مجید کا بیان ہے کہ:

فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْہَبُوْہُمْ الاعراف7:116

’’جب جادوگروں نے اپنے انچھر پھینکے تو لوگوں کی آنکھوں کو مسحور کر دیا اور انھیں مرعوب کردیا۔‘‘

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا۝۰ۚ فَاِذَا حِبَالُہُمْ وَعِصِيُّہُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْہِ مِنْ سِحْرِہِمْ اَنَّہَا تَسْعٰيo فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِہٖ خِيْفَۃً مُّوْسٰىo طٰہٰ66-67:20

’’پس یکایک ان کے جادو کی وجہ سے ان کی لاٹھیاں اور رسیاں موسیٰ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں اور موسیٰ اپنے دل میںڈر گیا۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ جادو قلب ماہیت نہیں کرتا بلکہ ایک خاص قسم کا نفسیاتی اثر ڈال کر آدمی کے حواس کو متاثر کردیتا ہے۔نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جادو کی یہ تاثیر عام انسانوں پر ہی نہیں،انبیا پر بھی ہوسکتی ہے۔اگرچہ اس ذریعے سے کوئی جادوگر کسی نبی کو شکست نہیں دے سکتا،نہ اُس کے مشن کو فیل کرسکتا ہے،نہ اُسے اِ س حد تک متاثر کرسکتا ہے کہ وہ جادو کے زیر اثر آکر منصب نبوت کے خلاف کوئی کام کر جائے، لیکن بجائے خود یہ بات کہ ایک نبی پرجادو کا اثر ہوسکتا ہے،خود قرآن مجید سے ثابت ہے۔

احادیث میںنبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہونے کی جو روایات آئی ہیں،ان میں کوئی چیز بھی عقل،تجربے اور مشاہدے کے خلا ف نہیں ہے،اور نہ قرآن کی بتائی ہوئی اس حقیقت کے خلاف ہے جس کی میں نے اوپر تشریح کی ہے۔نبی اگر زخمی یا شہید ہوسکتا ہے تو اس کا جادو سے متاثر ہو جانا کون سی تعجب کی بات ہے؟روایات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے و ہ صرف یہ ہے کہ چند روز تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نسیان سا لاحق ہوگیا تھا اور وہ بھی تمام معاملات میں نہیں بلکہ بعض معالات میں جزوی طور پر۔

(ترجمان القرآن،رمضان شوال ا۳۷اھ، مئی،جون۹۵۲اء)