مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

رمضان میں قیام اللیل:

سوال: براہِ کرم مندرجہ ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:

(۱) علمائے کرام بالعموم یہ کہتے ہیں کہ تراویح اوّل وقت میں(عشا کی نماز کے بعد متصل) پڑھنا افضل ہے اور تراویح کی جماعت سنت مؤکدہ کفایہ ہے۔ یعنی اگر کسی محلے میں تراویح باجماعت نہ ادا کی جائے توا ہل محلہ گناہ گار ہوں گے، اور دو آدمیوں نے بھی مل کر مسجد میں تراویح پڑھ لی تو سب کے ذمے سے ترک جماعت کا گناہ ساقط ہوجائے گا۔کیا یہ صحیح ہے؟اگر یہ صحیح ہے تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے زمانے میں کیوں ایسا نہیں ہوا؟اور اُس زمانے کے مسلمانوں کے لیے کیا حکم ہوگا؟ کیا وہ سب تراویح باجماعت نہ پڑھنے کی وجہ سے گناہ گار تھے؟

(۲) کیا نماز تراویح اوّل وقت میں سونے سے پہلے پڑھنا ضروری ہے؟کیا سحری کے وقت تراویح پڑھنے والا فضیلت واولویت سے محروم ہوجائے گا؟اگر محروم ہوجائے گا تو حضرت سیّدنا حضرت عمر فاروقؓ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ التی تنامون عنھا افضل من التی تقومون؟

(۳) کیا رمضان میں نماز تہجد سے تراویح افضل ہے؟اگر ایک آدمی رمضان میں عشا پڑھ کر سو رہے اور تراویح پڑھے بغیر رات کو تہجد پڑھے(جب کہ تہجد کے لیے خود قرآن مجید میں صراحتاً ترغیب دلائی گئی ہے اور تراویح کو یہ مقام حاصل نہیں) تو اس کے لیے کوئی گناہ تو لازم نہ آئے گا؟واضح رہے کہ تراویح اور تہجد دونوں کو نبھانا مشکل ہے۔

(۴) کیا تراویح کے بعد وتر بھی جماعت سے پڑھنے چاہییں؟یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ تراویح سے پہلے وتر پڑھ لے اور رات کے آخری حصے میں تراویح ادا کرلے؟

(۵) تراویح کی تعداد رکعت کیا ہے؟کیاصحیح احادیث میں آٹھ،بیس،اڑ تیس یا چالیس رکعتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں؟

(۶) کیا کسی صحابی کو یہ حق حاصل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کو یہ کہہ کر رد کردیں کہ ’’ما زال بکم التی رأیت من صنیعکم خشیت ان یکتب علیکم ولو کتب علیکم ما قمتم بہ فصلوا ایھا الناس فی بیوتکم فان افضل صلٰوۃ المرء فی بیتہٖ الا الصلٰوۃ المکتوبۃ‘‘ تو وہ اُسے پھر باقاعدہ جماعت کے ساتھ مساجد میں جاری کرے؟

جواب: تراویح کے بارے میں جو کچھ مجھے معلوم ہے،اُس کا خلاصہ یہ ہے :

(۱) نبیؐ دوسرے زمانوں کی بہ نسبت رمضان کے زمانے میں قیام لیل کے لیے زیادہ ترغیب دیا کرتے تھے، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیز آپؐ کو بہت محبوب تھی۔

(۲)صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ رمضان المبارک میں تین رات نماز تراویح جماعت کے ساتھ پڑھائی اور پھر یہ فرما کر اُسے چھوڑ دیا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ ہوجائے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تراویح میں جماعت مسنون ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تراویح فرض کے درجے میں نہیں ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگ ایک پسندیدہ سنت کے طور پر تراویح پڑھتے رہیں،مگر بالکل فرض کی طرح لازم نہ سمجھ لیں۔

(۳) تمام روایات کو جمع کرنے سے جو چیزحقیقت سے قریب تر معلوم ہوتی ہے،وہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جماعت کے ساتھ رمضان میں جو نماز پڑھائی،وہ اوّل وقت تھی نہ کہ آخر وقت میں،اور وہ آٹھ رکعتیں تھیں نہ کہ بیس(اگرچہ ایک روایت بیس کی بھی ہے مگر وہ آٹھ والی روایت کی بہ نسبت ضعیف ہے)، اوریہ کہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد واپس جاکر اپنے طورپر مزید کچھ رکعتیں بھی پڑھتے تھے۔وہ مزید رکعتیں کتنی ہوتی تھیں؟اس بارے میں کوئی واضح بات نہیں ملتی۔ لیکن بعد میں جو حضرت عمرؓ نے۲۰ رکعتیں پڑھنے کاطریقہ رائج کیا اور تما م صحابہؓ نے اس سے اتفاق کیا،اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ وہ زائد رکعتیں ۱۲ہوتی تھیں۔

(۴) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر حضرت عمرؓ کے ابتدائی زمانے تک باقاعدہ ایک جماعت میں سب لوگوں کے تراویح پڑھنے کا طریقہ رائج نہ تھا،بلکہ لوگ یا تو اپنے اپنے گھروں میں پڑھتے تھے یا مسجد میں متفرق طور پر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں پڑھاکرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے جو کچھ کیا وہ صرف یہ تھا کہ اسی تفرق کو دورکرکے سب لوگوں کو ایک جماعت کی شکل میں نماز پڑھنے کا حکم دے دیا۔ اس کے لیے حضرت عمرؓ کے پاس یہ حجت موجود تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تین بار جماعت کے ساتھ تراویح پڑھائی تھی۔اس لیے اس فعل کو بدعت نہیں کہا جاسکتا۔ اور چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے کو یہ فرما کر بند کیا تھاکہ کہیں یہ فرض نہ ہوجائے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گزر جانے کے بعد اس امر کا اندیشہ باقی نہ رہا تھا کہ کسی کے فعل سے یہ چیز فرض قرار پاسکے گی، اس لیے حضرت عمرؓ نے ایک سنت اور مندوب چیز کی حیثیت سے اس کو جاری کردیا۔ یہ حضرت عمرؓ کے تفقہ کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے کہ انھوں نے شارع کے منشا کو ٹھیک ٹھیک سمجھا اور اُمت میں ایک صحیح طریقے کو رائج فرما دیا۔ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کا اس پر اعتراض نہ کرنا، بلکہ بسروچشم اسے قبول کرلینا یہ ثابت کرتا ہے کہ شارع کے اس منشا کو بھی ٹھیک ٹھیک پورا کیا گیا کہ’’اسے فرض کے درجے میں نہ کردیا جائے۔‘‘چنانچہ کم ازکم ایک بار تو ان کا خود تراویح میں شریک نہ ہونا ثابت ہے جب کہ وہ عبدالرحمنؓ بن عبد کے ساتھ نکلے اور مسجد میں لوگوں کو تراویح پڑھتے دیکھ کر اظہار تحسین فرمایا۔

(۵) حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب باقاعدہ جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا تو باتفاق صحابہ بیس رکعتیں پڑھی جاتی تھیں اور اسی کی پیروی حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے زمانے میں بھی ہوئی۔تینوں خلفا کا اس پر اتفاق اور پھر صحابہ کا اس میں اختلاف نہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے لوگ تراویح کی بیس ہی رکعتوں کے عادی تھے۔یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ تینوں بیس ہی رکعت کے قائل ہیں،اور ایک قول امام مالکؒ کا بھی اسی کے حق میں ہے۔دائودظاہریؒ نے بھی اسی کو سنت ثابتہ تسلیم کیا ہے۔

(۶)حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت ابان بن عثمان نے۲۰ کے بجائے۳۶ رکعتیں پڑھنے کا جو طریقہ شروع کیا،اُس کی وجہ یہ نہ تھی کہ ان کی تحقیق خلفائے راشدین کی تحقیق کے خلاف تھی،بلکہ ان کے پیش نظر یہ تھا کہ مکہ سے باہر کے لوگ ثواب میں اہل مکہ کے برابر ہوجائیں۔اہل مکہ کا قاعدہ یہ تھا کہ وہ تراویح کی ہر چار رکعتوں کے بعد کعبے کا طواف کرتے تھے۔ان دونوں بزرگوں نے ہر طواف کے بدلے۴رکعتیں پڑھنی شروع کردیں۔ یہ طریقہ چوں کہ اہل مدینہ میں رائج تھا اور امام مالکؒ اہل مدینہ کے عمل کو سند سمجھتے تھے،اس لیے انھوں نے بعد میں۲۰ کے بجائے۳۶ کے حق میں فتویٰ دیا۔

(۷) علما جس بنا پر یہ کہتے ہیں کہ جس بستی یا محلے میں سرے سے نماز تراویح باجماعت ادا ہی نہ کی جائے، اس کے سب لوگ گناہ گار ہیں،وہ یہ ہے کہ تراویح ایک سنت الاسلام ہے جو عہد خلافت راشدہ سے تمام اُمت میں جاری ہے۔ ایسے ایک اسلامی طریقے کو چھوڑ دینا اور بستی کے سارے ہی مسلمانوں کا مل کر چھوڑ دینا، دین سے ایک عام بے پروائی کی علامت ہے، جس کو گوارا کرلیا جائے تو رفتہ رفتہ وہاں سے تمام اسلامی طریقوں کے مٹ جانے کا اندیشہ ہے۔اس پر جو معارضہ آپ نے کیا ہے،اُس کاجواب اوپر نمبر۴ میں گزر چکا ہے۔

(۸) اس امر میں اختلاف ہے کہ تراویح کے لیے افضل وقت کون سا ہے، عشا کا وقت یا تہجد کا؟ دلائل دونوں کے حق میں ہیں،مگر زیادہ تر رجحان آخر وقت ہی کی طرف ہے۔البتہ اوّل وقت کی ترجیح کے لیے یہ بات بہت وزنی ہے کہ مسلما ن بحیثیت مجموعی اوّل وقت ہی کی تراویح پڑھ سکتے ہیں۔آخر وقت اختیا رکرنے کی صورت میں امت کے سوادِ اعظم کا اس ثواب سے محروم رہ جانا ایک بڑا نقصان ہے۔اور اگر چند صلحا آخر وقت کی فضیلت سے مستفید ہونے کی خاطر اوّل وقت کی جماعت میں شریک نہ ہوں تو اس سے یہ اندیشہ ہے کہ عوا م الناس یا تو ان صلحا سے بدگمان ہوں، یا ان کی عدم شرکت کی وجہ سے خود ہی تراویح چھوڑ بیٹھیں۔ یا پھر ان صلحا کو اپنی تہجد خوانی کا ڈھونڈورا پیٹنے پر مجبور ہونا پڑے۔

ھذا ما عندی والعلم عند اللّٰہ وھواعلم بالصواب ۔

(ترجمان القرآن، رجب،شعبان ا۳۷اھ، اپریل،مئی۹۵۲اء)

……٭٭٭……