مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

پوتے کی محرومیِ وراثت:

سوال: دادا کی زندگی میں اگر کسی کا باپ مر جائے تو پوتے کو وراثت میں سے کوئی حق نہیں پہنچتا۔ یہ مشہور شرعی مسئلہ ہے جس پر اِس وقت حکومت کی طرف سے عمل ہورہاہے۔اس بارے میں مختلف مسلک کیا ہیں اور آپ کس مسلک کو مزاج اسلامی سے قریب تر خیال فرماتے ہیں۔ اگر آپ کا مسلک بھی مذکورہ ہی ہے تو اس الزام سے بچنے کی کیا صورت ہے کہ اسلامی نظام جو یتیم کی دست گیری کا اس قدر مدعی ہے،ایک یتیم کو محض اس لیے دادا کی وراثت سے محروم قرار دیتا ہے کہ وہ اپنے باپ کو دادا کی وفات تک زندہ نہ رکھ سکا؟

جواب: فقہائے اسلام میں یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ دادا کی موجودگی میں جس پوتے کا باپ مر گیا ہو،وہ وارث نہیں ہوتا بلکہ وارث اس کے چچا ہوتے ہیں۔اگرچہ ابھی تک مجھے قرآن وحدیث میں کوئی ایسا صریح حکم نہیں ملا جسے فقہا کے اس متفقہ فیصلے کی بِنا قرار دیا جاسکے۔لیکن بجائے خود یہ بات کہ فقہائے اُمت سلف سے خلف تک اس پر متفق ہیں،اس کو اتنا قوی کردیتی ہے کہ اس کے خلاف کوئی رائے دینا مشکل ہے۔ویسے بھی یہ بات معقول معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ پوتا بہرحال اپنے باپ کے واسطے ہی سے دادا کے مال میں حق دار ہوسکتا ہے نہ کہ براہ راست خود۔ اسی طرح بہو اپنے شوہر کے واسطے سے خسر کے مال میں سے حصہ پاسکتی ہے نہ کہ براہ راست خود۔اگر ایک شخص کا بیٹا اس کی زندگی میں مرجائے اور وہ شادی شدہ نہ ہو، تو آپ خود مانیں گے کہ اس کا حصہ ساقط ہو جائے گا۔ یہ نہیں ہو گا کہ باپ کے مرنے پر اس کے ترکے میں سے اس کے فوت شدہ بیٹے کا حصہ بھی نکالا جائے، اور پھر اُس بیٹے کی میراث اُس کی ماں اور اُس کے بھائیوں وغیرہ کو پہنچائی جائے۔اسی طرح اگر اس فوت شدہ لڑکے کی کوئی بیوی موجود ہو تو آپ خود مانیں گے کہ وہ اپنے خسر کے ترکے میں سے حصہ پانے کی مستحق نہیں ہے۔قطع نظر اس سے کہ اُس کا نکاح ثانی ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔پھر آپ کو کیوں اصرار ہے کہ صرف اُس کا بیٹا موجود ہونے کی صورت میں اُس کا حصہ ساقط نہ ہو بلکہ وہ اس کے بیٹے کو پہنچے؟

رہا یتیم کی پرورش کا سوال، تو شریعت کی رو سے اُس کے چچا اُس کے ولی ہوتے ہیں،اور ان پر اُس کا حق ہے کہ وہ اُس کی پرورش کا انتظام کریں۔ نیز شریعت نے وصیت کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ اگر کوئی مرنے والا اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو اور اُس کے خاندان میں کچھ لوگ مستحق موجود ہیں تو وہ ان کے حق میں وصیت کرے۔ ۳۔۱ حصۂ مال کی حد تک وہ وصیت کرسکتا ہے،اور اس میں یہ گنجایش موجود ہے کہ اگر وہ کوئی یتیم پوتا چھوڑ رہا ہے،یا کوئی بیوہ بہو چھوڑ رہا ہے جو بے سہارا ہو، یا کوئی بیوہ بھاوج یا غریب بھائی یا بیوہ بہن چھوڑ رہا ہے،تو ان کے لیے وصیت کر جائے۔ یہ گنجایش اسی لیے رکھی گئی ہے کہ قانونی وارثوں کے سوا خاندان میں جو لوگ مدد کے محتاج ہوں،ان کی مدد کا انتظام کیا جاسکے۔ (ترجمان القرآن۔جمادی الاخریٰ ا۳۷اھ، مارچ۹۵۲اء)