مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نماز کامسنون طریقہ:

سوال: میں پہلے نماز اداکرنے کی سعادت سے محروم تھا،لیکن الحمد ﷲ کہ اب نماز ادا کرتا ہوں۔مجھ کو اس بارے میں بڑی پریشانی درپیش ہے۔ میں جس بستی میں تعلیم پا رہا ہوں وہاں کے لوگ دیو بندی حنفی ہیں اور میرے گائوں کے لوگ اہل حدیث ہیں۔اب اگر میں نماز اہل حدیث کے طریقے پر ادا کرتا ہوں تو بستی کے لوگ مجھے وہابی کہہ کرپریشان کرتے ہیں، اور جب حنفی طریقے پر پڑھتا ہوں تو گائوں کے لوگ مقلد ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ چوں کہ مجھے آپ پر اعتماد ہے،لہٰذا اس معاملے میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں۔

سوال یہ ہے کہ آخر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نماز ایک ہی طریقے پر پڑھی ہوگی، پھر یہ مختلف فرقوں کے مختلف طریقوں کا اسلام میںکیا مقام ہے؟میںمعلوم کرنا چاہتا ہوں کہ کون سا فرقہ آنحضورؐ کے طریق پر نماز ادا کرتا ہے، اور میں کس کے مسلک پر رہوں۔ یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ خود آپ کس طریق پر نماز ادا کرتے ہیں۔

علاوہ بریں دیہات میں نمازجمعہ اداکرنی چاہیے یا نہیں؟

جواب: اہل حدیث، حنفی،مالکی،حنبلی اور شافعی حضرات جن جن طریقوں سے نماز پڑھتے ہیں،وہ سب طریقے نبیؐ سے ثابت ہیں، اور ہر ایک نے معتبر روایات ہی سے ان کو لیا ہے۔اسی بِنا پر ان میں سے کسی گروہ کے اکابر علما نے یہ نہیں کہا کہ ان کے طریقے کے سوا جو شخص کسی دوسرے طریقے پر نماز پڑھتا ہے،اس کی نماز نہیں ہوتی۔ یہ صرف بے علم لوگوں کا ہی کام ہے کہ وہ کسی شخص کو اپنے طریقے کے سوا دوسر ے طریقے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر اسے ملامت کرتے ہیں۔ تحقیق یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں ان سب طریقوں سے نماز پڑھی ہے۔ اختلاف اگر ہے تو صرف اس امر میں کہ آپؐ عموماً کس طریقے پر عمل فرماتے تھے۔جس گروہ کے نزدیک آپ کا جو طریقہ آپؐ کا معمول بہ طریقہ ثابت ہوا ہے،اس نے وہی طریقہ اختیارکرلیا ہے۔

میں خود حنفی طریقے پر نماز پڑھتا ہوں، مگر اہل حدیث، شافعی،مالکی،حنبلی سب کی نماز کو درست سمجھتا ہوں اور سب کے پیچھے پڑھ لیا کرتا ہوں۔

دیہات میں نماز جمعہ کا مسئلہ بہت اختلافی ہے۔حنفی اس کو جائز نہیں سمجھتے۔اہل حدیث جائز سمجھتے ہیں اور دوسرے فقہا کے مسلک بھی اس معاملے میں مختلف ہیں۔آپ کے سوال کا مختصر جواب غلط فہمی کا موجب ہوگا۔مفصل بحث میری کتاب’’تفہیمات‘‘ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔

(ترجمان القرآن۔ربیع الاوّل،ربیع ا لآخر ۳۷۰اھ۔جنوری،فروری ا۹۵اء)

……٭٭٭……