رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
چند کاروباری مسائل:
سوال: ایک درآمد کنندہ(importer) غیر ممالک سے مال منگوانے کے لیے ۰افی صدی پر بینک میں لیٹر آف کریڈٹ کھولتا ہے، اور بعد میں اپنے اس بک کرائے ہوئے مال کو انھی شرائط کے مطابق جن شرائط پر اس نے خود مال بک کیا تھا،فروخت کردیتا ہے۔ یعنی دس فی صدی بیعانہ ے ساتھ۔
مذکورۂ بالا شرائط میں سے ایک اہم اور واضح شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر مال مذکور تحریر کردہ مدت کے اندر شپ(ship)نہ ہوسکا،یا کسی ہنگامی حالت کی وجہ سے سرے سے سودا ہی منسوخ ہوگیا تو خریدار کو بیعانہ واپس لے کر معاملہ ختم کرنا ہوگا۔(عملاًاسی طرح ہوتا ہے)
گویا مال شپ نہ ہونے کی صورت میں خریدار اس مال کے نفع نقصان کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ اگر مال بک ہوگیا تو مال کا بھگتان ہوتا ہے ورنہ دوسری صورت میں بیعانہ واپس اور سودا منسوخ۔ چاہے یہ سودا کئی جگہ پر فروخت ہوچکا ہو۔
اس طریق کار میں وہ کون سے نقائص اور خرابیاں ہیں جن کی بنا پر اسے شرعاًنادرست کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا لاکھوں روپے کا کاروبار قریباًہر مہینے ہم کرتے ہیں اور اس اُلجھن میں پڑ گئے ہیں کہ یہ طریقہ درست بھی ہے یا نہیں۔ایک ’’صاحب علم‘‘ کی رائے اس کے حق میں بھی ہے۔
جواب: جس صورت معاملہ کو آپ دریافت کررہے ہیں،اس کی دو الگ الگ شکلیں ہیں اور دونوں کا حکم الگ ہے۔
ایک شکل یہ ہے کہ آپ نے ایک مال بینک کی معرفت بک کرایا اور بعد میں آپ کی اور ایک دوسرے تاجر کی باہمی قرار دا د سے وہ بکنگ اس کے نام منتقل ہوگئی۔یہ شکل اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ یہ بکنگ خواہ منافع کے ساتھ بیچی جائے یا محض ایک شخص سے دوسرے شخص کے نام منتقل ہو،بہرحال وہ ایک شخص کی طرف سے دوسرے شخص کی طرف پوری طرح منتقل ہو جائے۔ یعنی بینک میں لیٹر آف کریڈٹ شخص اوّل کے بجائے شخص ثانی کے نام پر کھل جائے، اور شخص اوّل کا اس مال کے سودے سے کوئی تعلق باقی نہ رہے،اس کی ہر چیز کا ضامن شخص ثانی ہی ہو،شخص اوّل کی کوئی ذمہ داری اس معاملہ کے ساتھ لگی نہ رہے۔
دوسری شکل یہ ہے کہ اس مال کو بک کرانے کے بعد قبل اس کے کہ وہ یہاں پہنچے اور آپ کے قبضہ میں آئے،آپ اسے اپنے مال کی حیثیت سے منافع پر دوسرے شخص کے ہاتھ بیچیں اور بیعانہ لے لیں۔ پھر دوسرا تیسرے کے ہاتھ، تیسرا چوتھے کے ہاتھ اسی غائب مال کو اپنا اپنا منافع لگا کر بیچتا اور بیعانہ لیتا چلا جائے۔اس شکل میں خواہ شپ منٹ نہ ہوسکنے یا سودا منسوخ ہوجانے پر ایک شخص بیعانہ واپس کردینے کا کفیل ہی کیوں نہ ہو، اور خواہ ہر ایک نے یہ وعدہ ہی کیوں نہ کرلیا ہو کہ سودے کی منسوخی کی صورت میں کوئی بھی نفع ونقصان کا مطالبہ نہ کرے گا،بہرحال یہ خرید وفروخت شرعاً ممنوع ہے۔ اس کے ممنوع ہونے کی نقلی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
’’لا تبع ما لیس عندک‘‘ (احمد،ترمذی،ابو دائود،نسائی ابن ماجہ)
’’کوئی ایسی چیز نہ بیچو جو فی الواقع تمہارے پاس موجود نہ ہو۔‘‘
’’اذا اشتریت شیئًا فلا تبعہ حتی تقبضہ ۔ (احمد)
’’جب تم کوئی چیز خریدو تو اسے اپنے قبضہ میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرو۔‘‘
’’نھٰی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یُشتریٰ الطعام ثم یباع حتٰی یستوفی‘‘ ( احمد، مسلم)
’’نبیؐ نے اس بات سے منع فرمایا کہ ایک شخص غلہ خریدے اورپورا پورا ناپ تول کرلینے سے پہلے اسے آگے کو فروخت کردے۔‘‘
’’کانوا یتبایعون الطعام جزافاً باعلی السوق فنھاھم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یبیعوہ حتٰی ینقلوہ۔‘‘ (بخاری،مسلم،ابو دائود)
’’لوگ غلے کے ڈھیر منڈی میں کھڑے کھڑے خریدتے اور وہیں بیچ دیتے تھے۔ حضورؐ نے حکم دیا کہ جب تک غلہ اس جگہ سے منتقل نہ کردیا جائے،آگے نہ بیچا جائے۔‘‘
ان احادیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک چیز کو خرید کر قبضے میں لیے بغیر بیچنا ممنوع ہے۔
اس کے ممنوع ہونے کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اوّل تو اس طرح کی خرید وفروخت میں جھگڑے کے امکانات زیادہ ہیں۔دوسرے اس میں بغیر کسی حقیقی تمدنی خدمت کے ایک شخص سے دوسرا شخص ایک غائب چیز کو اپنا منافع لگا لگا کر بیچتا اور خریدتا چلا جاتا ہے،یہاں تک کہ صارفین (consumers) تک پہنچتے پہنچتے اس چیز کی قیمت چڑھ کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔یہ بہت سے بچولیوں کی منافع خوری، بغیر اس کے کہ وہ واقعی کوئی خدمت اس مال کے پیدا کرنے یا فراہم کرنے میں انجام دیں، خواہ مخواہ اشیا کی قیمتیں چڑھنے کی موجب بنتی ہے۔
سوال: حسب ذیل سوالات کے جواب مطلوب ہیں:
(۱) میری دکان بساط خانہ(general merchant) کی ہے۔جنرل مرچنٹ کے ہاں ہر قسم کے سودے فروخت ہوتے ہیں۔خاص کر پائوڈر، کریم، لپ اسٹک، نیل پالش، سینٹ،عطر،ریشمی بنیان، ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ، شیونگ سیٹ، سنگار دان، بچوں کے کھلونے، زیورات وغیرہ۔کیا متذکرۂ بالا چیزیں ناجائز ہیں یا ان کو فروخت کرنا ازروئے شریعت ممنوع ہے؟کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تمام چیزیں تعیش میں مدد دیتی ہیں، لہٰذا یہ مسرفانہ فعل ہے۔اس کو فروخت کرنے اور استعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔کیا یہ درست ہے؟
(۲) کیا شریعت نے نفع کی مقدار مقرر کی ہے؟اگر ہے تو کیا؟اور اگر نہیں ہے تو کہاں تک نفع لیا جاسکتا ہے؟کیا دکان دار کو اس چیز کا اختیار ہے کہ وہ اپنی چیزمارکیٹ کے لحاظ سے یا کسی اور دام پر فروخت کرسکے؟(واضح رہے کہ بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں بہت کم نفع ہوتا ہے،یا خرید کی قیمت یا کچھ کم پر فروخت کرنی پڑتی ہیں)۔
(۳) موجودہ دور میں ہر کاروبار کو عورت کے اشتہار کے ساتھ شروع کیا جاتا ہے۔الحمد ﷲ کہ میں اس لعنت سے بچا ہوا ہوں،لیکن جو چیزیں ولایت سے آتی ہیں یا ملک وقوم کے لوگ تیار کرتے ہیں،ان پر عورت کی تصویر مختلف ہیئتوں(poses) میں نمایاں رہتی ہے۔لیبل کو پھاڑ دینے سے چیز کو فروخت کرنا مشکل بلکہ غیر ممکن ہے۔ ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟بعض دوست شکایت کرتے ہیں کہ تم تصویروں کی خرید وفروخت کرتے ہو اور یہ حرام ہے۔
(۴) کیا شریعت نے سودے کو ایک دام پر فروخت کرنے کی قید لگائی ہے؟اگر نہیں تو مول بھائو چکانا درست ہے؟
(۵) دکان پربے پردہ عورتیں آتی ہیں اور نیم نقاب پوش بھی۔اسلام کا حکم ہے کہ اگر عورت پر دوسری نظر پڑے تو انسان گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔یہاں ان سے گفتگو تک کرنی پڑتی ہے۔عورتوں کو دکان پر نہ آنے دیا جائے تو یہ بھی ٹھیک نہیں،کیوں کہ اس ماحول میں تو اکثریت ایسی عورتوں کی ہے جو مردوں کے بدلے شاپنگ کرتی ہیں۔
(۶) بالعموم ہر دکان دار دو قسم کے کھاتے رکھتا ہے۔ ایک تو اس کا نجی کھاتا ہوتا ہے، دوسرا سیل ٹیکس اور انکم ٹیکس کے افسران کو دکھانے کے لیے۔کیا یہ طریقہ درست ہے؟اگر نہیں تو تاجر کیا کرے؟ایک صاحب جن کا تعلق میرے بازار سے نہیں لیکن میں انھیں جانتا ہوں،انھوں نے ایک سال کا پورا حساب انکم ٹیکس کے افسرکے سامنے پیش کیا،ایک پیسے کی بھی انھوں نے چوری نہ کی تھی۔لیکن افسر نے ٹیکس کے علاوہ مزید بھاری رقم ان پر لاد دی، اور شبہ یہ ظاہر کیا کہ جو حساب اسے دکھایا گیا ہے،وہ صحیح نہیں ہے۔ ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیے؟
جواب: آپ کے سوالات کے جوابات علی الترتیب درج ذیل ہیں:
(۱) بساط خانہ میں جو چیزیں آپ فروخت کرتے ہیں (جن کی کچھ فہرست بھی آپ نے دی ہے)ان میں سے کوئی چیز بھی فی نفسہٖ حرام نہیں ہے۔ان کا استعمال جائز بھی ہوسکتا ہے اور ناجائز بھی۔ دکان دار کی حیثیت سے آپ پر یہ دیکھنا فرض نہیں ہے کہ کون ان چیزوں کو کس طرح استعمال کرے گا۔آپ کے لیے صرف یہ بات کافی ہے کہ آپ کوئی حرام چیز فروخت نہ کریں۔ نہ بیع وشرا میں حرام طریقے استعما ل کریں۔
(۲) شریعت نے نفع کے لیے کوئی مقدار مقرر نہیں کی ہے۔یہ تو عرف اور انصاف کے معروف تصور پر مبنی ہے کہ کس تجارت میں کتنا منافع واجبی ہے اور کتنا ناواجب۔
(۳) جو چیزیں دکان دار کی حیثیت سے آپ باہر سے منگواتے ہیں یا ملک کے صناعوں سے خریدتے ہیں،ان پر اگر عورتوں کی تصاویر ہوں تو یہ چیز اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ آپ پر ان چیزوں کی خرید وفروخت حرام ہوجائے۔ آپ قصداً یہ تصویریں ان اشیا پر خود نہیں لگاتے ہیں اور نہ آ پ کی فرمائش پر یہ کارخانو ں میں لگائی جاتی ہیں۔یہ تو ایک بلوائے عام ہے جس میں ہم سب مجبوراًمبتلا ہورہے ہیں۔معترضین کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ اس طرح آپ تصویروںکی خرید وفروخت کرتے ہیں۔دراصل آپ تصویریں خریدتے اور بیچتے نہیں ہیں بلکہ وہ چیزیں خریدتے اور بیچتے ہیں جن پر کارخانہ داروں نے دنیا کی بگڑی ہوئی ریت کی بنا پر تصویریں چپکا رکھی ہیں۔
(۴) سودے کوایک ہی دام پر بیچنا کوئی شرعی حکم نہیں ہے۔خریدار سے بات چیت کرکے آپ کم وبیش پر بھی فروخت کرسکتے ہیں۔مگر جھوٹ بولنا اور جھوٹی قسمیں کھانا جائزنہیں۔ خریدار کو یہ یقین دلانے کی کوشش نہ کیجیے کہ یہ مال اتنے کو خریداہے، درآں حالے کہ وہ اس سے کم میں آپ کو پڑا ہو،یا یہ کہ اس میں آپ کو کوئی نفع نہیں بچتا،درآں حالے کہ اس میں نفع بچتا ہو۔
(۵) عورتیں اگربے پردہ آپ کی دکان پر آئیں تو انھیں آنے سے روکنا یا ان کے ہاتھ مال بیچنے سے انکار کرنا آپ پر فرض نہیں ہے۔البتہ آپ کا فرض یہ ہے کہ غض بصر سے کام لیں،آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کریں،ان کے حسن وآرائش سے یا ان کی گفتگو سے لذت لینے کی کوشش نہ کریں، تقویٰ کی اسی ایک ذرا سی شق پر آپ عامل ہوجائیں تو ان شاء اﷲاپنی دکان پر بیٹھے بیٹھے آپ کو درجۂ ولایت حاصل ہوجائے گا۔تنہا یہی مجاہدہ بہت سے خانقاہی مجاہدوں پر بھاری ہے۔
(۶) اس بگڑے ہوئے ماحول میں جو شخص چور اور جعل ساز نہیں ہے،وہ بھی چور اور جعل ساز ہی فرض کیا جاتا ہے،کیوں کہ دنیا اب یہ باور کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ کوئی شخص کاروبار میں سچا اور ایمان دار بھی ہوسکتا ہے۔ایسے بگاڑ کی صورت میں جو لوگ سچائی اور ایمان داری کی راہ چلنے کا عزم کریں،انھیں اس کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جھوٹے اور بددیانت لوگ تو رشوت دے کر اپنے جرائم کی پاداش سے بچ نکلتے ہیں، مگر سچے اور ایمان دار آدمی کے لیے یہاں دُہری سزا ہے،ایک سزا سچائی اور ایمان داری سے کام کرنے کی اور دوسری رشوت نہ دینے کی۔یہ سزائیں بھگتنے کی ہمت نہ ہو تو جس بگاڑمیں دنیا مبتلا ہے،آپ بھی اسی میں مبتلا ہوجایئے۔ دنیا اور آخرت میں سے ایک کو انتخاب کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن۔ رمضان ۳۷۰اھ۔ جولائی ا۹۵اء)
سوال: ہمیں کاروباری معلاما ت میں چند ایسی صورتوں سے سابقہ پڑتا ہے کہ جن کے بارے میں پوری طرح اطمینان نہیں ہوتا۔براہ کرم کتاب وسنت کے علم کی روشنی میں ان معاملات کی حقیقت واضح فرمائیں:
(۱) زمین دار یا دیہات کے بیوپاری کپاس کا وزن،نوعیت(quality)،جس مدت میں وہ مال پہنچا دیں گے،اور نرخ طے کرکے سودا کرجاتے ہیں۔کچھ پیشگی بھی دے دی جاتی ہے۔زبانی یا تحریری یہ سب کچھ طے ہوجاتا ہے۔مال نہیں دیکھا جاتا اور نہ یہ ممکن ہے۔ انھی شرائط پر ہم کارخانہ دار کو جتنا مال کپاس ہم نے خریدا ہوتا ہے،مقررہ مدت کے اندر ہم دینا طے کرلیتے ہیں مگر عموماًکارخانہ دار پیشگی نہیں دیتے۔
(۲) بعض اوقات جب کہ ہم نے کوئی مال خریدا ہو(یعنی کسی مال کا سودا ابھی نہیں کیا ہوتا) پیشگی ہی کارخانہ دار کے ساتھ مال کی کوالٹی،وزن،نرخ وغیرہ لکھ کر اور مدت طے کرکے سودا کرلیتے ہیں،بعد میں مال خرید کر بھگتان کردیتے ہیں۔ان دونوں صورتوں میں نرخ پہلے مقرر کرلیا جاتا ہے۔
(۳) کارخانہ دار کو مال بغیر نرخ مقرر کرنے کے سپلائی کرتے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ طے کرلیتے ہیں کہ ہم دو صد یا ہزار من مال دیں گے اور ایک مدت مقرر کرلیتے ہیں کہ اس کے اندر اندر ہم نرخ مقرر کرلیں گے۔جس دن ہمیں نرخ اچھا معلوم دے،ہم اسی دن فکس کرلیتے ہیں۔بعض اوقات مال پہنچانے کے بعد ہم دو ماہ تک کا وقفہ بھی مقرر کرنے کے لیے لے لیتے ہیں۔کارخانہ دار مال کے پہنچنے پر ہمیں کچھ پیشگی یعنی حاضر نرخ کا۶۰یا۶۵فی صدی ادا کرتا رہتا ہے۔نرخ مقرر کرنے پر کل رقم ادا ہوجاتی ہے۔
(۴) اس طرح کے سودے کپاس اُترنے پر ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔بعض لوگ تو کپاس اُترنے سے دو چار ماہ پیش تر ہی ایسے سودے کرنے شروع کردیتے ہیں۔
جواب: آپ نے کپاس کے سودے کی جو صورتیں بیان کی ہیں،ان کے احکام الگ الگ نمبر وار بیان کیے جاتے ہیں:
صورت اوّل ودوم میں بیع سلم کی شرائط میں سے ایک اہم شرط نہیں پائی جاتی۔یعنی یہ کہ سودا طے کرکے ساتھ ہی قیمت پوری کی پوری پیشگی ادا ہو۔یہ بیع سلم کی صحت کے لیے ضروری ہے۔چوں کہ یہ شرط ان دونوں صورتوں میں مفقود ہے،اس لیے یہ معاملات بیع سلم کے حدود سے خارج ہیں۔مگر میرے نزدیک یہ معاملات اس بنا پر درست ہیں کہ دراصل یہ’’بیع‘‘ کے معاملات نہیں ہیں بلکہ معاہدے کے معاملات ہیں۔ یعنی فریقین آپس میں یہ معاہدہ کرتے ہیں کہ ایک فریق ایک وقت مقررہ پر،یا ایک مدت مقررہ کے اندر اس قسم کا اتنا مال اس نرخ پر دوسرے فریق کو مہیا کرے گا،اور دوسرا فریق یہ عہدکرتا ہے کہ وہ ان شرائط پر اسے خریدے گا۔اس قسم کا معاہدہ کرنا جائز ہے اور شرعاً اس میںکوئی قباحت نہیں معلوم ہوتی بشرطیکہ معاہدہ کرنے والے معاہدے ہی کی نیت کریں،یہ نہ سمجھیں کہ ایک فریق نے مال بیچا اور دوسرے نے خرید لیا۔
تیسری صورت میرے نزدیک صحیح نہیں ہے،کیوں کہ اس میں نرخ کے معاملے کو معلق رکھاجاتا ہے۔یہ چیز نہ صرف یہ کہ معاہدے کی صحت میں مانع ہے،بلکہ اس میں جھگڑے کے اسباب بھی موجود ہیں۔اس میں اس امر کا امکان ہے کہ فریقین میں سے ہر ایک نرخ مقرر کرنے کے معاملے کو ایسے وقت پر ٹالنے کی کوشش کرے جب کہ بازار کا بھائو اس کے مفاد کے لیے موزوں تر ہو۔ اس طرح ان کی کش مکش بآسانی نزاع کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔
کپاس اُترنے پر جو سودے کیے جاتے ہیں،ان کے معاملے میں تو صحیح صورت یہ ہے کہ سیدھی طرح بیع کا معاملہ کرلیا جائے۔یعنی بائع کے پاس جتنا مال موجود ہو،وہ اسے دکھا کر مقرر نرخ پرفروخت کردے اور مشتری مال کو دیکھ کر طے شدہ نرخ پر اسے خریدے اور اپنے قبضے میں لے لے۔ (ترجمان القرآن۔ ذی القعدہ،ذی الحجہ ۳۷۰اھ، ستمبرا۹۵اء)