مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

چند اور موشگافیاں:

سوال: خدا کے دین کی اشاعت کا جو کام اپنی توفیق کے مطابق ہم لوگ سرانجام دے رہے ہیں،اس کے پھیلنے میں آپ کی بعض کتابیں مثلا دینیات، خطبات وغیرہ بہت مدد دے رہی ہیں اور ان کی مانگ برابر بڑھ رہی ہے۔لیکن دوسری طرف یہ کتابیں مخالفین کرام کا خاص ہدف بھی بنی ہوئی ہیں۔ان کی بعض عبارات کو چھانٹ چھانٹ کر غلط فہمی پھیلانے اور ہمیں بدنام کرنے کی مہم جاری ہے۔ یہاں تک کہ دنیا پرست مفتیان کرام ان عبارات کی بنیاد پر ہمارے خلاف فتوائے کفر تک جاری کرچکے ہیں۔ان حالات میں گفتگوئوں کا محور تمام تر آپ کی چند خاص عبارات بن گئی ہیں۔یہ عبارات حسب ذیل ہیں:

(۱) رسالۂ دینیات باب چہارم کے آخر میں آپ نے لکھا ہے کہ’’یہ پانچ عقیدے ہیں جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے۔ان پانچوں کا خلاصہ صرف ایک کلمے میں آجاتا ہے۔‘‘پھر باب پنجم میں درج ہے کہ’’پچھلے باب میں تم کو بتایا گیا ہے کہ حضرت محمدؐ نے پانچ اُمور پر ایمان لانے کی تعلیم دی ہے۔‘‘حالاں کہ حدیث صحیح میں’’والقدر خیرہ وشرہ‘‘ کو ملا کر ایمان کو چھ چیزوں پر مشتمل قرار دیا گیا ہے نہ کہ پانچ پر۔اس سے معترضین نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ’’فرقہ مودودیہ تو قدر پر ایمان نہیں رکھتا۔ یہ لوگ خیر وشر کے خد اکی طرف سے ہونے کے منکر ہیں۔یہ وہی قدریہ ہیں جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ وہ اس امت کے آتش پرست ہیں۔‘‘اس استدلال کی بنیاد پر صرف جھوٹی الزام تراشی ہی نہیں کی جارہی ہے بلکہ ہمیں صریحاً کافر کہا جاتا ہے اور ہم پر طرح طرح کے مظالم توڑ رہے ہیں۔ بعض جگہ جماعت اسلامی کے ہم دردوں کو مسجدوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ علمائے سوء عوام میں وعظ کہتے پھرتے ہیں کہ’’لوگو! خبردار! یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہمارا ایمان چوری کیا ہے،انھیں جتنی اذیت دو کم ہے۔‘‘

اس اعتراض کے جواب میں ہم نے واضح کیا ہے کہ ہمارا ایمان قدر پرہے۔لیکن رسالۂ دینیات میں ایمان صرف پانچ چیزوں پر مشتمل اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ قدر پر ایمان ایمان باﷲ کے اندر شامل ہے۔ اس جواب کی تائید میں ہم’’مسئلۂ جبر وقدر‘‘کو پیش کرتے ہیں، مگر معترضین آپ کے جواب پر مصر ہیں۔

(۲) دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ’’خطبات‘‘ میں آیت وَقَالَ اللہُ اِنِّىْ مَعَكُمْ۝۰ۭ لَىِٕنْ اَقَمْــتُمُ الصَّلٰوۃَ المائدہ 12:5 کی آپ نے جو تفسیرکی ہے وہ عام مفسرین سے مختلف ہے۔آپ نے’’انِّیْ مَعَکُمْ‘‘ کو’’لَئِنْ اَقَمْتُمُ‘‘ کا جواب بتایا ہے۔حالاں کہ عام مفسرین نے ’’اِنّیْ مَعَکُمْ‘‘ کو جملۂ مستانفہ قرا ردیا ہے اور ’’لَئِنْ اَقَمْتُمْ ‘‘ کا جواب’’لاکفرن عنکم‘‘ بتایا ہے۔آ پ نے تو نہ صرف’’لاکفرن‘‘کا جواب نہیں لکھا ہے،بلکہ خطبات میں آیت کے اس آخری حصے کو بالکل چھوڑ ہی دیا ہے۔ معترضین کا دعویٰ ہے کہ نحوی قاعدے کے مطابق بھی’’انی معکم‘‘ کا ٹکڑا ’’ لئن اقمتم‘‘ کا جواب نہیں ہو سکتا، کیوں کہ ’’ انی معکم‘‘ اور’’لئن اقمتم‘‘ کے درمیان وقف جائز ہے،حالاں کہ شرط وجواب کے درمیان تووقف جائزنہیں ہوسکتا۔ہم اس اعتراض کا کوئی جواب دیتے ہیں تو حضرات علما فوراًیہ کہہ کر ہمارا منہ بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم مودودی صاحب کے اندھے مقلد ہو اور عربی کے نحوی قواعد کا انکار کرکے بھی ان کی ’’تفسیر بالرائے‘‘ کی حمایت میں دلیلیں لاتے ہو۔براہ کرم واضح فرمایئے کہ آپ کی تفسیر صحیح ہے تو کن دلائل کی بنا پر؟اور کیا متقدمین میں سے بھی کسی نے یہ تفسیر کی ہے؟نہیں تو وہ کیا اسباب تھے کہ آپ نے اس نئی تفسیر کی ضرورت محسوس کی؟فصیح عربی زبان میں اس کی کوئی نظیر ہو تو اس سے ضرور مطلع کیجیے۔

(۳) خطبات میں عبادات کے مقاصد کے تذکرے پر یہ اعتراض اُٹھایا گیا ہے کہ آپ نے صرف ان کے دنیوی فوائد کا تذکرہ کیا ہے اور انھی کو اہم بتایا ہے۔ عبادات کے اخروی فوائد کا یا تو ذکر ہی نہیں کیا، یا اگر کیا بھی ہے تو ثانوی درجے کی حیثیت سے۔اس کے جواب میں بھی ہم اپنے علم کے مطابق وضاحت کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر معترضین ہمارے جواب سے مطمئن نہیں ہوتے۔

بہرحال ان مسائل میں کتابوں کے اصل مصنف کی تصریحات کا مطالبہ عام طور پر کیا جاتا ہے اور ہم بھی یہی رائے رکھتے ہیں کہ خود آپ کی توضیح زیادہ مفید ہوگی۔ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کتابوں کی عبارتوں میں ضروری ترمیم کردی جائے۔

آخر میں یہ خوش خبری بھی عرض خدمت ہے کہ اندھی مخالفت کا یہ طوفان جتنا جتنا زور پکڑ رہا ہے،ہماری دینی دعوت بھی اسی کے ساتھ روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔آپ ہمارے لیے خدا تعالیٰ سے دعا فرمایئے۔

جواب: آپ کو مالا بار میں جس قسم کی مخالفتوں سے سابقہ پیش آرہا ہے اس سے بدتر اور اس سے بہت زیادہ گھٹیا درجے کی مخالفتوں سے ہم یہاں دوچار ہیں۔بہرحال ہمارے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ صبر کے ساتھ اﷲ کی رضا کے لیے کام کرتے چلے جائیں اور اپنی حد تک صراط مستقیم پر گام زن رہیں۔جو لوگ جس غرض اور جس نیت سے بھی ہماری مخالفت چاہیںکریں، آخر کار فیصلہ اس خدا کو کرنا ہے جو ہماری نیت و عمل سے بھی واقف ہے اور ان کی نیت وعمل سے بھی!

(۱) رسالۂ دینیات باب چہارم کے آخر میں جہاں یہ فقرہ لکھا ہے کہ’’یہ پانچ عقیدے ہیں جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے‘‘ وہاں میری طرف سے یہ حاشیہ لکھ دیا جائے:

’’میں نے یہاں ایمانیات کی تعداد بتائی ہے۔یہ شمار قرآن مجید کے ارشاد اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِ …الآیۃ البقرہ2:285

پر مبنی ہے اور وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاللہِ وَمَلٰۗىِٕكَتِہٖ … الآیۃ النساء4:136 پر مبنی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ حدیث میں وَالْقَدْرِخَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ کو بھی ایمانیات میں شمار کیا گیا ہے، اور اس طرح بنیادی عقائد پانچ کے بجائے چھ قرار پاتے ہیں۔ لیکن درحقیقت ایمان بالقدر ایمان باﷲ کا ایک جز ہے اور قرآ ن میں اس عقیدے کو اسی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔اس لیے میں نے بھی اس عقیدے کو عقیدۂ توحید کی تشریح میں داخل کر دیا ہے۔بالکل اسی طرح بعض احادیث میں جنت اور دوزخ اور صراط اور میزان کو الگ الگ عقائد کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔مگر درحقیقت یہ سب ایمان بالآخرت کے اجزا ہیں۔‘‘

مجھے یہ معلوم کرکے افسوس ہوا کہ مالا بار میں بعض علما نے میری ان عبارتوں کو غلط معنی پہنا کر خواہ مخواہ یہ مشہور کرنا شروع کردیا ہے کہ میں قدر کا منکر ہوں۔حالاں کہ اگر وہ اسی کتاب کے اسی باب میں وہ بحث پڑھ لیتے جو ’’انسان کی زندگی پر عقیدۂ توحید کا اثر‘‘ کے زیر عنوان کی گئی ہے۔ تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ میں تقدیر کی بھلائی اور برائی کو اﷲ تعالیٰ ہی کی طرف سے مانتا ہوں۔یہ بات بڑی افسوس ناک ہے کہ لوگ تحقیق کے بغیر دوسروں کی طرف غلط عقیدے منسوب کرتے اور زبردستی ان کو گمراہ ٹھیرانے کی کوشش کرتے ہیں،اور ذرا نہیں ڈرتے کہ اس طرح کے بہتان لگانے پر وہ اﷲ کے ہاں ماخوذ ہوں گے۔

(۲)آیت وَقَالَ اللّٰہُ انِّیْ مَعَکُمْ کی تفسیر میں’’معیت‘‘ کو میں نے’’نصرت‘‘ کے معنی میں لیا ہے اور اس بنا پر یہ سمجھا ہے کہ اس نصرت کے لیے اقامت صلوٰۃ وایتائے زکوٰۃ وغیرہ بطورِ شرط کے ارشاد ہوئے ہیں۔لیکن اگر انی معکم کے معنی یہ لیے جائیں کہ انی معکم بالعلم والقدرۃ فاسمع کلامکم واری افعالکم واعلم ضمائرکم واقدر علٰی ایصال الجزاء الیکم۔(یعنی میں اپنے علم وقدرت کے اعتبار سے تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری گفتگوئیں سنتا ہوں، تمہارے اعمال کو دیکھتا ہوں،تمہاری نیتوں کو جانتا ہوں اور تم کو جزا وسزا دینے پر پوری طرح قادر ہوں) تو اس صورت میں بلاشبہ یہ فقرہ بجائے خود ایک مکمل فقرہ ہو گا اور اس کے بعد لئن اقمتم کو اس سے جدا ایک الگ فقرہ قرار دینا درست ہوگا۔ اس معاملے میں چوں کہ دو تفسیروں کی گنجایش ہے اس لیے انی معکم کے بعد وقف جائز ہے، مگر لازم نہیں ہے اور وصل ممنوع نہیں ہے۔

جو لوگ میری اس تفسیر کو’’تفسیر بالرائے‘‘کہتے ہیں، ان کو تفسیر بالرائے کے معنی معلوم نہیں۔ تفسیر بالرائے کے معنی پچھلے مفسرین سے اختلاف کرنے کے نہیں ہیں،بلکہ ایسی تفسیر کرنے کے ہیں جو قرآن یاحدیث صحیح کے خلاف پڑتی ہو،جو قواعد لغت کے خلا ف ہو۔

میں نہیں سمجھ سکا کہ آپ نظیر کس چیز کی مانگتے ہیں۔اگر شرط وجواب شرط کے درمیان تقدیم وتاخیر کی نظیر درکار ہے تو اس کی نظیریں بے شمار ہیں۔خود قرآن میں ہے:

قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَي اللہِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِيْ مِلَّتِكُمْ الاعراف7:89

اور اگر شرط اور جواب شرط کے درمیان وقف کی نظیرمانگتے ہیںتو میں اس کا قائل کب ہوں کہ اس کی نظیر پیش کروں۔ میں تو خود کہتا ہوں کہ انی معکم کے بعد وقف اس صورت میںجائز ہے جب کہ اس کو جملۂ مستانفہ مانا جائے۔ لیکن اگر اسے جواب شرط مانا جائے تو وقف جائز نہیں۔

(۳) خطبات میں عبادات کے دنیوی نہیں بلکہ اخلاقی فوائد کو میں نے زیادہ نمایاں کرکے پیش کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میں اخروی فوائد کا قائل نہیں ہوں یا انھیں کم اہمیت دیتا ہوں۔بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے لوگوں کی نگاہوں سے عبادات کے اخلاقی، اجتماعی اور تمدنی فوائد اوجھل ہوگئے ہیں، اور ان کے اوجھل ہوجانے کی وجہ سے لوگ ان عبادات سے غفلت برتنے لگے ہیں۔اس لیے میں نے ان پہلوئوں کو زیادہ نمایاں کیا ہے۔نمایاں وہی چیز کی جاتی ہے جو مخفی ہو یا جس سے عموماً لوگ غافل ہوں،نہ کہ وہ چیز جس سے پہلے ہی لوگ واقف ہوں۔

آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں کی مدد فرمائے اور فتنہ پردازوں سے آپ کی حفاظت فرمائے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے موقع پر دعا فرمایا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نَحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ۔

یہی دعا میں بھی مانگتا ہوں۔جو لوگ محض نفسانیت اور تعصب اور حسد کی بنا پر ہمارے خلاف طرح طرح کے فتنے اُٹھا رہے ہیں اور محض اپنے ذاتی کینے کی وجہ سے اُس خیر کا راستہ روکنا چاہتے ہیں جس کے لیے ہم کوشش کررہے ہیں،ان کے شر سے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور خدا ہی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان سے نمٹ لے۔

(ترجمان القرآن۔ جمادی الاولیٰ تارجب ۳۷۰اھ۔ مارچ تا مئی ا۹۵اء)