مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

سوالات متعلقہ 'تفہیم القرآن'

سوال: مندرجۂ ذیل استفسارات پر روشنی ڈالیں:

۱۔ آپ نے ’’تفہیم القرآن‘‘ میں ایک جگہ اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ طوفان نوح عام نہیں تھا۔لیکن ظاہری قرائن اس بات کے خلاف ہیں۔ اوّل کشتی کس لیے بنائی گئی تھی؟کیوں نہ حضرت نوح علیہ السلام کو ہجرت کرنے کا حکم دیاگیا؟دوم کشتی میں حیوانات میں سے ایک ایک جوڑا لینا بھی اس بات کا مؤید ہے کہ طوفان نہایت عام تھا۔حضرت نوح علیہ السلام کی بددعا میں بھی اس عمومیت کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ ہے کہ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًاo نوح 71:26

۲۔ ثانیاً آپ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ دنیا کی موجودہ انسانی نسل ان سب لوگوں کی ہے جو کہ حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔آپ نے ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ سے اس کی دلیل اخذ کی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں،کیوں کہ نوح علیہ السلام کے ساتھ ان کے تین بیٹے بھی کشتی میں سوار تھے۔ ظاہر ہے کہ اس جگہ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ سے مراد حضرت نوحؑ کے بیٹے ہیں نہ کہ کچھ اور لوگ۔دوسری جگہ اس کی تفسیر خود قرآن کے یہ الفاظ کرتے ہیں کہ وجعلنا ذریتہ ھم الباقین۔ کتنے کامل حصر کے الفا ظ ہیں!

۳۔ سورۂ یوسف کی تفسیر میں جناب نے لکھا ہے کہ زلیخا کو حضرت یوسف علیہ السلام نے نکاح میں نہیں لیا،کیوں کہ قرآن کریم سے اس عورت کا بد چلن ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن کیا حضرت لوط اور حضرت نوح علیہما السلام کی ازواج کافر نہ تھیں؟اگر تھیں تو کفر کیا بدچلنی سے زیادہ شدید نہیں ہے؟ علاوہ بریں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عقد نکاح کے وقت تک زلیخا مسلمان ہوچکی تھیں اور سابقہ بدچلنی سے تائب ہوگئی تھیں۔

جواب: ۱۔ میں قطعیت کے ساتھ تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ طوفان نوح عالم گیر نہ تھا، لیکن میرا اندازہ تاریخ وآثار قدیمہ کے مطالعے کی بنا پر ہے کہ طوفان صرف اُس علاقے میں آیا تھا جہاں قوم نوح آباد تھی۔قرآن مجید سے اس کے خلاف یا موافق کوئی صریح بات نہیں ملتی۔

آپ کا یہ معارضہ کہ کشتی بنانے کا حکم کیوں دیا گیا،ہجرت کا حکم کیوں نہ دیا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اُس وقت تک نسل آدم تمام روئے زمین پر نہ پھیلی تھی۔آباد دنیا اتنی ہی تھی جس میں قوم نوح آبا د تھی۔یہی آپ کے دوسرے معارضات کا بھی جواب ہے۔

۲۔ حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق یہ بات قرآن مجید سے ثابت ہے کہ ان پر ایمان لانے والے صرف ان کے گھر کے لوگ ہی نہ تھے بلکہ ان کی قوم کے دوسرے لوگ بھی تھے،اگرچہ تھوڑے تھے۔ نیز یہ کہ کشتی میں یہ سب اہل ایمان سوار کیے گئے تھے۔سورۂ ہود میں ہے: قُلْنَا احْمِلْ فِيْہَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَہْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ۝۰ۭ وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌo ہود40:11 [ہم نے اس سے کہا کہ اس کشتی میں سوار کر لے ہر چیز کا ایک ایک جوڑا، اور اپنے گھر والے (بجز اس کے جس کے بارے میں پہلے ممانعت کا حکم دے دیا گیا ہے) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اس کے ساتھ تھوڑے ہی لوگ ایمان لائے تھے]۔ان لوگوں کے بارے میں یہ کہیں بھی نہیں کہا گیا کہ ان سب کی نسل ناپید ہوگئی۔

اس کے برعکس قرآن مجید دو جگہ تصریح کرتا ہے کہ بعد کی نسلیں انھی لوگوں کی اولاد تھیں جو حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی پر سوار کیے گئے تھے۔سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا: ذُرِّيَّــۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اسرائیل 3:17 [ نسل ان لوگوں کی جن کو ہم نے سوار کیا تھا نوحؑ کے ساتھ]۔ اور سورۂ مریم میں فرمایا: مِّنَ النَّبِيّٖنَ مِنْ ذُرِّيَّۃِ اٰدَمَ۝۰ۤ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ۝۰ۡوَّمِنْ مریم 58:19 [ ان نبیوں میں سے جو آدم کی نسل سے تھے اور ان لوگوں کی نسل سے جن کو ہم نے نوحؑ کے ساتھ سوار کیا تھا]۔ اس کے جواب میں آپ کا یہ ارشاد کہ سورۂ صٰفّٰت میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَہٗ ہُمُ الْبٰقِيْنَo الصافات77:37 اور یہ حصر پر دلالت کرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مقصود یہ ظاہر کرنا نہیں ہے کہ صرف حضرت نوحؑ کی اولاد ہی باقی رہی بلکہ یہ ظاہر کرنا ہے کہ جن لوگوں نے حضرت نوح علیہ السلام کو کرب عظیم میں مبتلا کیا تھا،وہ مٹ گئے اور باقی اس شخص کی ذریت ہی رہی،جس کو وہ مٹا دینا چاہتے تھے۔

۳۔ زلیخا سے حضرت یوسف علیہ السلام کے نکاح کا کوئی ثبوت نہ قرآ ن میں ہے نہ کسی حدیث صحیح میں اور نہ بنی اسرائیل کی معتبر روایات میں۔نیز قرآن مجید سے اس عورت کی توبہ کا بھی ثبوت نہیں ملتا۔پھرخواہ مخواہ اس قصے کی صحت پر اصرار کی کیا ضرورت ہے؟جس بدچلنی کا ارتکاب امرأۃ العزیز سے ہوا تھا،حضرت لوط اور حضرت نوح علیہما السلام کی بیویوں کے متعلق اس طرح کی کسی بدچلنی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔رہا آپ کا یہ ارشاد کہ کفر سے زیادہ بدچلنی اور کیا ہوسکتی ہے،تو آپ خود غور کریں گے تو آپ کو اس قول کی کمزوری معلوم ہوجائے گی۔ زنا اور اس کے مقدمات ایک ایسی بدچلنی ہیں جو بالاتفاق تمام عالم انسانی میں قبائح اور رذائل میں سے شمار ہوتی ہے۔اس سے ملوث ہونا اور بات ہے اور کفر وشرک میں مبتلا ہونا اور بات۔انبیا علیہم السلام کے آباواجداد اور بعض کے اہل بیت تک کفر وشرک میں مبتلا رہے ہیں،مگر بے عصمتی میں مبتلا نہیں رہے۔اعتقادی حیثیت سے کفر وشرک خواہ کتنے ہی اشد ہوں مگر اخلاقی حیثیت سے بے عصمتی بہت زیادہ پست اور دنی چیز ہے،جسے کفار ومشرکین تک بھی ذلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

سوال: ’’ مجھے علم نباتات میں کوئی مہارت نہیں، تاہم تفہیم القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے چند سوالات پیدا ہوئے ہیں جنھیں اطمینان حاصل کرنے کے لیے پیش کرتا ہوں:

’’ترجمان القرآن‘‘، جلد۳۵، عدد۳،۴،صفحہ۴۳ا پر یہ حاشیہ درج ہے کہ

’’ایک ہی درخت ہے اور اس کا ہر پھل دوسرے پھل سے نوعیت میں متحد ہونے کے باوجود شکل،جسامت اور مزے میں مختلف ہے۔‘‘اور’’ ایک ہی جڑ ہے اور اس سے دو الگ تنے نکلتے ہیں جن کے پھل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔‘‘

’’مزے میں مختلف‘‘ ہونے کی یہ رائے جو آپ نے لکھی ہے،یہ مشاہدے کی بِنا پر ہے یا کتابی علم کی بِنا پر؟اگر واقعہ یہی ہے تو بہتر تھا کہ چند ایک درختوں کی مثالیں بھی دی جاتیں۔میرا تو خیال یہ ہے کہ ایک ہی درخت کے پھل کے مزے میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا،البتہ درخت کے جس حصے کو سورج کی روشنی وافر ملتی ہے اس حصے کے پھل پہلے پختہ ہو جاتے ہیں۔ پھلوں کی شکلوں اور جسامت میں تو فرق ہوسکتا ہے مگر مزے میں فرق ہونا سمجھ میں نہیں آیا۔

جواب: ہر درخت کے پھلوں کی جسامت،رنگ اور مزے کا انحصار اُس غذا پر ہے جو ان کو جڑ کے توسط سے پہنچتی ہے، اور اس سردی گرمی پر ہے جو انھیں دھوپ، ہوا اور دوسرے شب وروز کے اثرات سے پہنچتی ہے۔یہ سب عوامل چوں کہ تمام پھلوں پر یکساں طریقے سے اثر انداز نہیں ہوتے، بلکہ ہر ایک پھل اور دوسرے پھل کے معاملے میں ان کے اثرات کچھ نہ کچھ متفاوت ہوتے ہیں،اس لیے جس طرح جسامت اور رنگ میں تھوڑا بہت تفاوت ضرور ہوتا ہے،اسی طرح مزے میں بھی کم وبیش تفاوت ہوا کرتا ہے،اگرچہ بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ یہ ایک عالم گیر حقیقت ہے کہ کائنات میں کوئی دو چیزیں بھی ایسی نہیں ہیں جو جملہ حیثیات سے بالکل یکساں ہوں۔ہر شے کے اندر اﷲ تعالیٰ نے ایک ایسی انفرادیت رکھ دی ہے جس میں کوئی دوسری شے اس کی شریک نہیں ہے۔حد یہ ہے کہ ایک ہی آدمی کے جسم کے ایک ہاتھ کے نشانات دوسرے ہاتھ کے نشانات سے مختلف ہوتے ہیں،ایک ہی چہرے کا دایاں رخ بائیں رخ سے مختلف ہوتا ہے،ایک ہی سر کے دو بال بالکل یکساں نہیں ہوتے۔اس طرح صانع کامل واکمل نے یہ دکھایا ہے کہ اُس کی صناعی کمال درجے کی جدت طراز ہے۔اس حیرت انگیز شان خلاقی پر اگر آدمی کی نگاہ ہو تو اُسے یقین آجائے کہ اﷲ تعالیٰ اس بے پایاں کائنات کے ہر گوشے میں ہر وقت ہر چیز پر تصرف اور توجہ فرما رہا ہے، اور ہر آن اُس کا تخلیقی اور تدبیری کام عالم گیر پیمانے پر جاری ہے۔سخت نادان اور جاہل ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ خدا اس کارخانۂ ہستی کو حرکت میں لا کر کسی گوشے میں بے کار بیٹھ گیا ہے اور اب یہ کارخانہ ایک لگے بندھے قاعدے کے مطابق آپ سے آپ چل رہا ہے۔اگر ایسا ہوتا تو تخلیق میں بے پایاں تنوع اور صنعت میں یہ کمال درجے کا تجدد کیسے پایا جاسکتا۔

(ترجمان القرآن،جمادی الاولیٰ،جمادی الاخریٰ۳۷۰اھ، اپریل،مئی ۹۵۱اء)