مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کمیشن اور نیلام:

سوال: حسب ذیل سوالات کا جواب مطلوب ہے:

(۱) بعض ایجنٹ مال سپلائی کرتے وقت دکان دار سے کہتے ہیں کہ اگر مال فروخت کرکے ہمیں رقم دو گے تو۲۰فی صدی کمیشن ہم آپ کو دیں گے،اور اگر نقد قیمت مال کی ابھی دو گے تو ۲۵ فی صدی کمیشن ملے گا۔کیا اس طرز پر کمیشن کا لین دین جائز ہے؟

(۲) مسلمان نیلام کنندہ کے لیے کیا یہ جائز ہے کہ جب کوئی شخص بولی نہ چڑھائے اور وہ دیکھے کہ اس میں مجھے نقصان ہوگا تو وہ خود بولی دے کر مال کو اپنے قبضے میں یہ کہہ کر رکھ لے کہ یہ مال پھر دوسرے وقت میں نیلا م ہوگا؟نیزکیا وہ یہ بھی کرسکتا ہے کہ اپنے آدمی مقرر کردے کہ وہ قیمت بڑھانے کے لیے بولی بولتے رہیں،یہاں تک کہ اس کے حسب منشا مال کی قیمت موصول ہوسکے؟

جواب: نقد خریداری کی صورت میں زیادہ اور اُدھار کی صورت میں کم کمیشن دینامیرے علم میں ناجائز نہیں ہے۔ایجنٹ(یامالک) دکان داروں کو مال فراہم کرتے وقت جو کمیشن دیتا ہے، وہ دراصل اپنے منافع میں سے ایک حصہ اس کو ادا کرتا ہے۔اس حصے کو سودے کی نوعیت کے لحاظ سے کم وبیش ادا کرنے کا اسے حق ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی چیز سود سے مشابہ ہے۔البتہ اگر اُدھار کی مدت کے لحاظ سے کمیشن کی کمی کے درجے قائم کیے جائیں تو اس میں سودسے مشابہت پیدا ہوجاتی ہے۔

نیلام کرنے والے کے لیے یہ تو درست ہے کہ اگر کسی مال پر اتنی بولی نہیں آتی جس پر اپنا مال بیچنے کے لیے صاحب مال راضی ہو، تو وہ فروخت نہ کرے۔لیکن اس کے لیے دھوکے اور فریب سے کام لینامناسب نہیں ہے۔ اس کو کھلے بندوں یہ بات ظاہر کردینی چاہیے کہ دوسرے لوگوں کا جو مال وہ نیلام کے ذریعے سے فروخت کررہا ہے،یا خود اپنا خریدکیا ہوا جو مال وہ اس طریقے سے نکا ل رہا ہے،اس پر اگر کم سے کم مطلوبہ قیمت کی حد تک بولی نہ آئی تو وہ اس چیز کو فروخت نہ کرے گا۔خریداروں میں اپنے آدمی بٹھا کر ان سے بولی دلوانا یا خود خریدار بن کر بولی دینا فریب ہے۔ (ترجمان القرآن۔ ربیع الاول،ربیع الثانی ۳۷۰اھ۔ جنوری،فروری ا۹۵اء)