رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
کمپنیوں کے حصوں میں زکوٰۃ کا مسئلہ:
سوال: کسی مشترک کاروبار مثلاًکسی کمپنی کے حصص کی زکوٰۃ کا مسئلہ سمجھ میں نہیں آسکا۔حصہ بجائے خود توکوئی قیمتی چیز نہیں ہے، محض ایک کاغذ [ ’’حصہ‘‘ کے متعلق سائل نے بہت ہی غلط تصور پیش کیا ہے۔ کاغذ کا ٹکڑا نہ حصہ ہوتا ہے نہ اصل اہمیت رکھتا ہے، بلکہ وہ ایک دستاویز ہوتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فلاں شخص فلاں کاروبار میں اس تناسب سے حصہ دار ہے۔ اگر دو آدمی ایک دکان میں برابر کے شریک ہوں اور وہ اپنی شراکت کے لیے دستاویز لکھ کر رکھ لیں تو دستاویز ان کا اصل حصۂ شرکت نہیں ہو گی بلکہ ان کی حصہ داری کا ثبوت ہو گی۔ یہی صورت زیادہ حصہ داروں کے مشترک کاروبار کی ہے۔ یہ بھی غلط کہا گیا ہے کہ ’’حصہ بجائے خود تو کوئی قیمتی چیز نہیں ہے۔‘‘ حالانکہ دراصل حصہ ہی بجائے خود قیمتی چیز ہے۔ کیونکہ ’’حصہ‘‘ نام ہے کسی تناسب سے ایک کاروبار اور اس کے سرمائے اور متعلقہ املاک کے حقوق مالکانہ میں شریک ہونے کا، اور حصے کی قیمت دراصل انہی حقوق مالکانہ کی قیمت ہوتی ہے۔ حصہ کوئی خیالی وجود نہیں بلکہ ایک ٹھوس مادی حقیقت ہے]۔ کا ٹکڑا ہے۔ صرف اس دستاویز کے ذریعے حصہ دار کمپنی کی املاک و جائداد مشترکہ میں شامل ہوکر بقدر اپنے حصے کے مالک یا حصہ دار قرار پاتا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ کمپنی کے املاک کیا اور کس نوعیت کے ہیں۔ اگر کمپنی کی جائداد تعمیرات(بلڈنگ) اراضیات اور مشینری پر مشتمل ہو تو حصہ دار کی شراکت بھی ایسے ہی املاک کی ہوگی جس پر آپ کے بیان کردہ اُصول کے ماتحت زکوٰۃ نہیں آتی۔ حصہ دار کے حصے کی مالیت تو ضرور ہے لیکن وہ اس تمام مالیت کا جزو ہے جو غیر منقولہ جائداد کی شکل میں کمپنی کو مجموعی حیثیت سے حاصل ہے۔پھر حصہ دار کے حصے پر زکوٰۃ کیوں عائد ہونی چاہیے؟
جواب: کمپنی کے جس حصے دار کے حصے کی مالیت بقدر نصاب ہے،اس کے متعلق یہ سمجھا جائے گا کہ وہ قدر نصاب کا مالک ہے۔اب اگر اُس نے اپنے اس روپے کو کمپنی کے کاروبار میںلگا رکھا ہے تو اُس سے اس کے حصے کی مالیت کے لحاظ سے انفرادی طور پر زکوٰۃ نہیں لی جائے گی بلکہ کمپنی سے تجارتی زکوٰۃ کے قواعد کے مطابق تمام ایسے حصہ داروں کی زکوٰۃ اکٹھی لے لی جائے گی جن کو زکوٰۃ ادا کرنے کے قابل قرار دیا گیا ہو۔کمپنی کی زکوٰۃ کا حساب لگانے میں مشینری، مکان، فرنیچر وغیر ہ عوامل پیدایش کو مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔ اس کے باقی ماندہ املاک جو اموال تجارت پر مشتمل ہوں اور اس کے خزانے کی رقم جو ختم سال پر موجود ہو، ان سب پر زکوٰۃ لے لی جائے گی۔ اور اگر کمپنی کا کاروبار اس نوعیت کا نہ ہو، تو اُس کی سالا نہ آمدنی کے لحاظ سے اُس کی مالی حیثیت مشخص کی جائے گی اور اُس پر زکوٰۃ لگا دی جائے گی۔
(ترجمان القرآن، ربیع الاوّل، ربیع الثانی۳۷۰اھ، جنوری،فروری ا۹۵اء)