رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
حدیث کے بعض احکام کو خلاف ِ قرآن سمجھنے کی غلطی:
سوال: قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ہم نماز کی تیاری کریں تو ہمیں وضو کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کے لیے ازسر نو وضو کرنا ضروری ہے،نماز پڑھ لینے کے بعد وضو کی میعاد ختم ہوجاتی ہے اور دوسری نماز کے لیے بہرحال الگ وضو کرنا لازمی ہے۔پھر یہ سمجھ میں نہیں آسکا کہ لو گ ایک وضو سے کئی کئی نمازیں کیوں پڑھتے ہیں۔اسی طرح قرآن میں وضو کے جو ارکان بیان ہوئے ہیں،ان میں کلی کرنے اور ناک میںپانی لینے کا ذکر نہیں ہے اور نہ کہیں ایسے افعال وعوارض کی فہرست دی گئی ہے جن سے وضو ٹوٹتا ہے۔اس صورت میں کلی وغیرہ کرنا اور بعض اُمور کو نواقض وضو قرار دینا کیا قرآنی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے؟
صلوٰۃ قصر کے بارے میں بھی قرآن وضاحت کرتا ہے کہ صرف پُرخطر سفر جہاد میں ہی نمازمیں قصر کیا جاسکتا ہے۔کیا عام پرامن سفر میں قصر خلاف قرآن نہیں ہے؟
جواب: بلاشبہ وضو کے بارے میں قرآن مجید میں یہی حکم ہے کہ جب نماز کے لیے اُٹھو تو وضو کرو،مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ اس حکم کا منشا کیا ہے؟اسی طرح قرآن میں صرف منہ دھونے کا حکم ہے مگر آنحضرت ؐنے ہمیں منہ دھونے کا صحیح طریقہ اورمعنی بتائے کہ اس میں کلی کرنا اور ناک میںپانی دینا بھی شامل ہے۔قرآن میں صرف سر کے مسح کا حکم ہے، مگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ سر کے مسح میں کان کا مسح بھی شامل ہے۔آپؐ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ وضو شروع کرتے وقت پہلے ان ہاتھوں کو پاک کرلو جن سے تمھیں وضو کرنا ہے۔یہ باتیں قرآن میں نہیں بتائی گئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم قرآنی کی تشریح کرکے ہمیں یہ باتیں بتائی ہیں۔ قرآن کے ساتھ نبیؐ کے آنے کا مقصد یہی تھا کہ وہ کتاب کے منشا کو کھول کر ہمیں بتائے اور اس پر عمل کرکے بتائے۔ آیت وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْہِمْ النحل44:16 میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔یعنی اے نبی! ہم نے یہ ذکر لوگوں کے پاس براہِ راست بھیج دینے کے بجائے تمہاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے سامنے وضاحت کے ساتھ اس ہدایت کی تشریح کرو جو ان کی طرف بھیجی گئی ہے۔
اس بات کو اگر آپ اچھی طرح سمجھ لیں تو آپ کو اپنے اس سوال کا جواب سمجھنے میں بھی کوئی زحمت پیش نہ آئے گی کہ ایک ہی وضو سے ایک سے زائد نمازیں پڑھنا کیوں جائز ہے۔ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ ایک وضو کی مدت قیام کس قدر ہے اور کن چیزوں سے یہ مدت ختم ہوتی ہے۔اگر حضورؐیہ نہ بتاتے تو ایک شخص یہ غلطی کرسکتاتھا کہ تازہ وضو کے بعد پیشاب کرلیتا، یا کسی دوسرے ناقض وضو فعل کا صدور اس سے ہوجاتا اور وہ پھر بھی نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا، یا مثلاًدوران نماز میں ریح خارج ہوجانے کے باوجود نماز پڑھ ڈالتا۔قرآن میںصرف یہ بتایا گیا ہے کہ نماز کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے،یہ نہیں بتایا گیا کہ وضو کب تک باقی رہتا ہے اور کن چیزوں سے ساقط ہوجاتا ہے۔کوئی شخص بطور خود یہ نہیں سمجھ سکتا تھا کہ ابھی ابھی جس شخص نے وضو کیا ہے،ریح خارج ہونے سے اُس کے وضو میںکیا قباحت واقع ہوجاتی ہے۔اب جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر یہ بتادیا کہ وضو کو ساقط کرنے والے اسباب کیا ہیں تو اس سے خودبخود یہ بات نکل آئی کہ جب تک ان اسباب میں سے کوئی سبب رونما نہ ہو،وضو باقی رہے گا،خواہ اس پر کتنے ہی گھنٹے گزر جائیں۔ اور جب ان میں سے کوئی سبب رونما ہوجائے تو وضو باقی نہ رہے گا۔ خواہ آدمی نے ابھی ابھی تازہ وضو کیا ہو اور اُس کے اعضا بھی پوری طرح خشک نہ ہوئے ہوں۔
اگر ہم آپ کے اس استدلال کو مان لیں کہ قرآن میں چوں کہ حکم ان الفاظ میں آیا ہے کہ جب تم نماز کے لیے اُٹھو تو وضو کرو، اس لیے ہر نماز کے لیے تازہ وضوضروری ہے، تو اسی طرح کا استدلال کرکے ایک شخص یہ حکم لگا سکتا ہے کہ ہر مستطیع مسلمان کو ازروئے قرآن ہر سال حج کرنا چاہیے،اور یہ بھی دعویٰ کرسکتا ہے کہ عمر بھر میں ایک دفعہ زکوٰۃ دے کر آدمی قرآن کا حکم پورا کردیتاہے۔تشریح رسول سے بے نیاز ہوکر تو ہر شخص قرآن کی ہر آیت کی ایک نرالی تعبیر وتاویل کرسکتا ہے اور کسی کی رائے بھی کسی دوسرے شخص کے لیے حجت نہیں بن سکتی۔
قصر کے متعلق سوال کرنے میں بھی آپ وہی غلطی کررہے ہیں جو وضو کے معاملے میں آپ نے کی ہے۔قرآن کے منشا کی تعبیر میں قرآن لانے والے رسول کی توضیح وتشریح کو نظر انداز کردینا ایک بہت بڑی غلطی ہے جس کی بے شمار قباحتوں میں سے چند کی طرف میں اوپر اشارہ کرچکا ہوں۔قرآن صرف حالت خوف میں قصر کی صورت بتاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حالت میں امام کے سوا دوسروں کے لیے صرف ایک رکعت بھی کفایت کرتی ہے۔اس حکم میں کہیں حالت امن کے قصر کی نفی نہیں ہے۔ یہ دوسرا حکم ہم کو نبی ؐکے ذریعے سے پہنچا ہے،اور وہ یہ ہے کہ سفر کی حالت میں صبح اور مغرب کے فرض تو پورے پڑھے جائیں، البتہ ظہر، عصر اورعشا کے فرضوں میں صرف دو دو رکعتیں پڑھ لی جائیں۔ اس قصر کو جو شخص خلاف قرآن کہتا ہے وہ دو بڑی غلطیاں کرتا ہے۔ایک یہ کہ وہ کسی حکم کے قرآن میں نہ ہونے اور خلاف قرآن ہونے کو ایک چیز سمجھتا ہے،حالاں کہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔دوسرے یہ کہ وہ نبیؐ کے واسطے کو درمیان سے ہٹا کر براہ راست قرآن کو لینا چاہتا ہے، حالاں کہ قرآن اُس کے پاس براہ راست نہیں آیا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے آیا ہے، اور خدا نے یہ واسطہ اسی لیے اختیار کیا ہے کہ نبیؐاسے قرآن کا منشا سمجھائے۔کیا وہ شخص یہ کہنا چاہتا ہے کہ خدا نے یہ واسطہ فضول ہی اختیار کیا؟
(ترجمان القرآن،جمادی الاولیٰ۳۷۲اھ، فروری۹۵۳اء)