مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

دارالکفرمیں مسلمانوں کی مشکلات:

سوال: برطانیہ کے قیام کے دوران میں احکام شریعت کی پابندی میں مجھے مندرجہ ذیل دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ براہِ کرم صحیح رہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں:

(۱) پہلی دقت طہار ت او ر نماز کے بارے میں ہے۔ مجھے سویرے نو بجے اپنے ہوٹل سے نکلنا پڑتا ہے۔اب اگر شہر میں گھومتے ہوئے رفع حاجت کی ضرورت پڑے تو ہر جگہ انگریزی طرز کے بیت الخلا بنے ہوئے ہیں،جہاں کھڑے ہوکر پیشاب کرنا پڑتا ہے۔اس سے کپڑوں پر چھینٹیں پڑنا لازمی ہے۔اجابت کے لیے صرف کاغذ میسر ہوتے ہیں۔ایک بجے ظہرکا وقت ہوجاتا ہے۔اس وقت پانی کسی عام جگہ دستیاب نہیں ہوسکتا اور قیام گاہ تک آنے جانے کے لیے زحمت کے علاوہ کم ازکم ایک شلنگ خرچ ہوجاتا ہے۔نماز کے لیے کوئی پاک جگہ بھی نہیں مل سکتی۔ہوٹل میں گو پانی اورلوٹا میسر ہیں مگر پتلون کی وجہ سے استنجا نہیں ہوسکتا،البتہ وضو کیا جاسکتا ہے۔مگر اس میں بھی یہ دقت ہے کہ پانی زمین پر نہ گرے۔ہاتھ دھونے سے لے کر سر کے مسح تک تو خیر باسن(انگریزی بیسن) میں کام ہوجاتا ہے۔لیکن پائوں دھونے کے لیے باسن پر رکھنے پڑتے ہیں جو یہاں کی معاشرت کے لحاظ سے انتہائی معیوب ہے۔

(۲) دوسری دشواری یہ ہے کہ یہاں لوگ عام طور پر کتے پالتے ہیں۔ملاقات کے وقت پہلے کتے ہی استقبال کرتے ہیں اور کپڑوں کو منہ لگاتے ہیں۔ انتہائی کوشش کے باوجود اس مصیبت سے بچنامحال ہے۔ کیا ایسی صورت میں جرابوں اور کپڑوں کو بار بار دھلوایا جائے؟

(۳) تیسری دقت یہ ہے کہ دفاتر میں عموماًعورتیں ملازم ہیں،تعارف کے وقت وہ مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتی ہیں۔ اگر ہم ہاتھ نہ ملائیں تو اسے وہ اپنی توہین سمجھتی ہیں۔اسی طرح راستوں میں بھی اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ اگر پیدل چلتے وقت ہم نگاہ نیچی رکھیں تو دھکا لگ جانے کا ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔

(۴) چوتھی بات سینما سے متعلق دریافت طلب ہے۔یہاں بعض سینما ایسے ہیں جن میں صرف دنیا کی خبریں دکھائی جاتی ہیں یا دنیا کے بعض اہم واقعات پردۂ فلم پر دکھاتے ہیں۔مثلاً حال ہی میں کے،ایل،ایم کا جو جہاز گرا تھا،اس کے گرنے کی فلم دکھائی گئی تھی۔اسی طرح بعض اوقات کارٹون دکھائے جاتے ہیں اور ان میں ایسی شکلیں دکھائی جاتی ہیں جن کا دنیا میں کہیں وجود نہیں ہے۔ اس طرح کے معلوماتی فلم دیکھنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: آپ کے خط کو پڑھ کر ایک آدمی اندازہ کرسکتا ہے کہ دینی حس رکھنے والے مسلمان کو دارالکفر کے قیام میں کیسی کیسی زحمتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور اس سے آدمی کی سمجھ میں یہ بات بھی آسکتی ہے کہ ہمارے فقہا نے مسلمانوں کے لیے دارالکفر میں رہنے اور شادی بیاہ کرنے کو کیوں مکروہ کہا تھا، اور کس لیے یہ شرط لگائی تھی کہ اگر کوئی شخص بضرورت وہاں جاکر رہے تو کم ازکم سال میں ایک مرتبہ ضرور واپس آئے۔ آپ نے جن مشکلات کا ذکر کیا ہے،ان کا حل مختصراًپیش کیا جاتا ہے:

(۱) جہاں بیٹھ کر پیشاب کرنا ممکن نہ ہو وہاں کھڑے ہوکر کرنے میں مضائقہ نہیں۔ اگر احتیاط برتی جائے تو کپڑے چھینٹوں سے بچائے جاسکتے ہیں۔اگر باہرکہیں رفع حاجت کے لیے پانی استعمال کرنا ممکن نہ ہو تو کاغذ استعمال کرلیں اور بعد میں قیام گاہ پر آکر پانی سے استنجا کریں۔ وضو اگر باہر کرنا پڑے اور پائوں دھونے ممکن نہ ہوں تو جرابوں پر یا جرابوں سمیت جوتے پر مسح کرلیں۔نماز پڑھنے کے لیے اس امر کے علم کی ضرورت نہیں ہے کہ جگہ پاک ہے،بلکہ ہر خشک جگہ کو پاک ہی سمجھنا چاہیے جب تک کہ اس کے ناپاک ہونے کا علم نہ ہو۔ اس لیے محض شک اور وہم کی بنا پر نما زقضا کرنا درست نہیں۔اگر طبیعت کا وہم دور نہ ہو تو اپنا ہی کوٹ اُتار کر کہیں بچھا لیجیے اور اس پر پڑھ لیجیے۔

(۲) کتوں سے اُس ملک میں بچنا سخت مشکل ہے۔ آپ اگر کوشش کے باوجود نہ بچ سکیں تو جس جگہ ان کا منہ لگ گیا ہو،وہاں وضو کرتے وقت رفع وسواس کے لیے بس پانی کے چھینٹے دے لیا کیجیے۔

(۳) عورتوں سے ملاقات کے وقت بہت شائستگی سے کہہ دیا کیجیے کہ ہماری تہذیب میں عورتوں سے ہاتھ ملانا معیوب ہے،اس لیے آپ برا نہ مانیںاگر میں ہاتھ نہ ملائوں۔ غض بصر کے معنی نگاہ نیچے کرنے کے نہیں بلکہ نگاہ بچانے کے ہیں۔ آپ خواہ مخواہ گھو ر کر کسی خاتون کو نہ دیکھیں۔ ایک نگاہ پڑ جائے تو دوسری بار نگاہ نہ ڈالیں۔نگاہ کو بچانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔صرف نظر کے زاویے کو تھوڑا سا بدل لینا کافی ہوجاتا ہے۔

(۴) جس سینما میں علمی یا واقعاتی فلم دکھائے گئے ہوں اس کے دیکھنے میں مضائقہ نہیں۔ہمارے ملک میں تو سینما ہائوس جانا بجائے خود ایک موضع تہمت ہے،اس لیے علمی اور واقعاتی فلم دیکھنے کے لیے بھی اس خرابات میں قدم نہیں رکھا جاسکتا۔انگلستان میں آپ چاہیں تو اس طرح کے فلم دیکھ لیں۔ ( ترجمان القرآن،رمضان،شوال ا۳۷اھ، جون،جولائی۹۵۲اء)