مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب:

سوال: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس احادیث کے لیے میرے دل میں احترام کا جذبہ کسی کٹر سے کٹر اہل حدیث سے کم نہیں۔اسی لیے ہر وقت دُعا مانگتا رہتا ہوں کہ خدا مجھے منکرین حدیث کے فتنے سے بچائے۔ لیکن چند احادیث کے متعلق ہمیشہ میرے دل میں شکوک وشبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اُمید ہے کہ آںجناب ازراہِ کرم ان احادیث اور ان سے متعلق میرے شبہات کو ملاحظہ فرمائیں گے اور ان کی وضاحت کرکے میری پریشانی وبے اطمینانی رفع فرما دیں گے۔شکر گزار ہوں گا۔

اخلاقی لحاظ سے معیوب:

(۱) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق استفسار کیا گیا تو انھوں نے برتن منگوا کر اور پردہ لٹکا کر اپنے بھائی اور ایک غیر شخص کی موجودگی میں غسل فرمایا۔(بخاری،جلد اوّل صفحہ۳۹)

(۲) حضرت سبرہؓ کی روایت نکاح متعہ کے متعلق کہ ہم دو ساتھی بنی عامر کی کسی عورت کے پاس گئے اور اُسے اپنی خدمات پیش کیں۔ ( مسلم،جلد سوم،صفحہ۴۴۳)

(۳) حضرت جابررضی اللہ عنہ کی روایت کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے عہد میں مٹھی بھر آٹا دے کر عورتوں کو استعمال کرلیتے تھے اور اس حرکت سے ہمیں حضرت عمرؓ نے روکا۔(مسلم،جلد سوم،صفحہ ا۴۴)

(۴) حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے ذی الحجہ کی پانچویں تاریخ کو احرام توڑ کر خوب جماع کیا اورپانچویں دن کے بعد جب ہم عرفہ کے لیے روانہ ہوئے تو تقطر مذاکیرنا المنی۔ (مسلم، جلدسوم، صفحہ۲۷۳)

خلاف علم وعقل:

(۵) حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آفتاب کے متعلق بتایا کہ ڈوبنے کے بعد آفتاب عرش کے نیچے سجدے میں گر جاتا ہے اور صبح تک دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت مانگتا رہتا ہے۔(بخاری،جلددوم،صفحہ۳۷)

(۶) حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ جہنم نے خدا سے دم گھٹنے کی شکایت کی ا ور سانس لینے کی اجازت مانگی۔اﷲ نے فرمایا تو سال میں دو سانس لے سکتی ہے۔چنانچہ انھی سے دونوںموسم(گرما وسرما) پیدا ہوئے۔(بخاری، جلد دوم، صفحہ۴۳ا)

(۷) مرد کا نطفہ سفید ہوتا ہے اور عورت کا زرد۔انزال کے بعد دونوں قسم کے نطفے مل جاتے ہیں۔ اگر یہ مرکب مائل بہ سفیدی ہو تو بچہ پیدا ہوتا ہے ورنہ بچی۔ (مسلم،جلد اوّل،صفحہ۴۶۸)

(۸) مجامعت کے وقت اگر مرد کا انزال عورت سے پہلے ہو تو بچہ باپ پر جاتا ہے ورنہ ماں پر۔

(بخاری،جلد دوم، صفحہ۴۹ا)

توہین انبیا:

(۹) حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ختنہ اسّی برس کی عمر میں ہوا تھا۔ (بخاری، جلد دوم،صفحہ۵۵ا)

(۱۰) حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ آج رات میں اپنی تمام بیویوں سے،جن کی تعداد ایک سو ایک یا ننانوے تھی،مجامعت کروں گا۔ ہر ایک بیوی سے ایک شہسوار پیدا ہوگا جو خدا کی راہ میں جہاد کرے گا۔ کسی نے کہا ان شاء اﷲ بھی ساتھ کہیے لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام نے پروا نہ کی۔چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک کے سوا کوئی حاملہ نہ ہوئی۔

(بخاری،جلد دوم،صفحہ۹۳)

(۱۱) حضرت حذیفہؓ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھاد کے ایک ڈھیر کے قریب گئے اور میرے سامنے کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔( بخاری، جلد اوّل،صفحہ۳۶)

(۱۲) بخاری میں حضرت ابراہیم علیہ السلام (جنھیں قرآن نے صدیق نبی کا خطاب دیا ہے) کے تین جھوٹ کا ذکر ہے اور یہ تین جھوٹ بھی اس شدید نوعیت کے کہ ان کی وجہ سے وہ قیامت کے دن شفاعت کرنے سے شرمندہ ہوں گے۔ ( مسلم،جلد اوّل،صفحہ۳۷۲)ان میں سے دو واقعات کا ذکر تو قرآن نے بھی کیا ہے۔لیکن تیسرا واقعہ، یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک زانی بادشاہ کے خوف سے اپنی بیوی کو بہن ظاہر کرنا، تو قرآن میں کہیں مذکور نہیں۔

خلاف انصاف:

(۱۳) ام شریکؓ کی روایت(بخاری جلد دوم،صفحہ۵۰۰) کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا تھا کیوں کہ یہ اُس آگ کو پھونکوں سے بھڑکاتی تھی جس میں ابراہیم علیہ السلام کو پھینکا گیا تھا۔سوال یہ ہے کہ ایک چھپکلی کی پھونکوں میں آگ بھڑکانے کی طاقت کہاں سے آگئی؟ اور پھر ایک چھپکلی کے جرم کے بدلے چھپکلیوں کی ساری نسل کو سزا دینا کہاں کا انصاف ہے؟

(۱۴) ایک روایت کے مطابق عورت،گدھا اور کتا سامنے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

(مسلم،جلد دوم،صفحہ ااا)

متفرق:

(۱۵) اگر مکھی کسی پینے کی چیز میں گر جائے تو اُسے غوطہ دے کر نکالو، کیوں کہ اُس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا۔ (بخاری، جلد دوم،صفحہ۴اا)

مندرجہ بالا احادیث میں سے اکثر بخاری شریف سے لی گئی ہیں، جو ہمارے عقیدے کے مطابق اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے۔ براہِ کرم اُس کی بھی وضاحت کردیجیے کہ اصح الکتب کا مطلب آیا یہ ہے کہ بخاری بھی قرآن کی طرح حرفاً حرفاً صحیح اور غیر محرف ہے؟

جواب: آپ کے سوا ل کا جواب دینے سے پہلے یہ شکایت عرض ہے کہ آپ نے تمام احادیث کے حوالے بخاری ومسلم کی جلدوں اور صفحات کے نمبروں کی صورت میں دیے ہیں۔ حالاں کہ ان کتابوں کو دنیا کے بیسیوں مطابع نے مختلف سائزوں پر بارہا طبع کیا ہے، اور ضروری نہیں کہ ان کا جو ایڈیشن آپ کے پاس ہو، وہی دوسروں کے پاس بھی ہو۔ ایسی کتابوں کا حوالہ ہمیشہ ان کی ’’کتاب‘‘ اور باب کے عنوان سے دینا چاہیے تاکہ آسانی سے مطلوبہ حدیث تلاش کی جاسکے۔

آپ کے سوالات دیکھنے سے شبہ ہوتا ہے کہ غالباً آپ نے خود ان کتابوں کا بلاستیعاب مطالعہ نہیں فرمایا ہے بلکہ منکرین حدیث نے فتنہ پردازی کی غرض سے ’’قابل اعتراض‘‘ حدیثوں کی جو فہرستیں مرتب کر کرکے شائع کی ہیں، انھی میں سے کوئی فہرست آپ کی نگاہ سے گزری ہے، اور آپ نے زیادہ سے زیادہ بس اتنی تحقیق کی زحمت اُٹھائی ہے کہ اس فہرست کی حدیثوں کو بخاری و مسلم کے کسی نسخے میں نکا ل کر یہ اطمینا ن کرلیا ہے کہ یہ حدیثیں وہاں موجود ہیں۔ میرے اس شبہے کی بنیاد یہ ہے کہ آپ کی پیش کردہ اکثر احادیث ایسی ہیں جن پر آپ کو اپنے شبہات کا جواب خود اسی کتاب کے اسی باب میں مل جاتااگر آپ پورا باب پڑھنے کی تکلیف گوارا فرماتے۔ بلکہ بعض حدیثوں کے تو آپ نے پورے الفاظ تک نہیں پڑھے ہیں اور ان کا وہی غلط سلط مفہوم نقل کردیا ہے جو اس فتنہ پرداز گروہ نے اپنی طرف سے گھڑ کر بیان کیا ہے۔اس طریقے سے یہ لوگ کم سواد لوگوں کو تو دھوکا دے ہی رہے ہیں، مگریہ دیکھ کر سخت افسوس ہوتا ہے کہ آپ جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس آسانی کے ساتھ دھوکا کھا جاتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ دنیا کے کسی علم وفن کے مسائل پر بھی آدمی اتنے سرسری مطالعے سے کوئی صحیح رائے قائم نہیں کرسکتا جسے آپ حدیث کے معاملے میں کافی سمجھ رہے ہیں؟جس طریقے سے آپ نے حدیث کی چند باتیں سیاق وسباق اور موضوع سے الگ کرکے، اور ان کا بالکل ایک سرسری مفہوم اخذ کرکے نقل کی ہیں،اس طریقے سے تو دنیا کے ہر علم وفن کی کتابوں سے اقتباسات نکال کر محض مضحکہ خیز بنانے کے لیے پیش کیے جاسکتے ہیں۔

اس مختصر تنبیہ کے بعد میں آپ کی پیش کردہ احادیث میں سے ہر ایک پر مفصل کلام کروںگا، تاکہ نہ صرف آپ کو، بلکہ منکرین حدیث کے فتنے سے دھوکا کھانے والے دوسرے اصحاب کو بھی تحقیق کا صحیح طریقہ معلوم ہوسکے۔

(۱)حضرت عائشہؓ کے غسل والی حدیث بخاری کتاب الغسل، باب الغسل بالصاع ونحوہ میں ہے۔اس میں ابو سلمہؓ بیان فرماتے ہیں کہ:’’ میں اور حضرت عائشہ کے بھائی حضرت عائشہؓ کے پاس گئے اور حضرت عائشہؓ کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی بابت دریافت کیا۔اس پر حضرت عائشہؓ نے ایک برتن منگایا جو قریب قریب ایک صاع کے برابر تھا اور انھوں نے غسل کیا اور اپنے سر پر پانی بہایا،اس حال میں کہ ہمارے اوران کے درمیان پردہ تھا۔‘‘

اس حدیث پر اعتراض کرنے والوں کی پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ ابو سلمہؓ کا نام پڑھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کوئی غیر شخص تھے،حالاں کہ وہ حضرت عائشہؓ کے رضاعی بھانجے تھے جنھیں حضرت ام کلثومؓ بنت ابی بکر صدیقؓ نے دودھ پلایا تھا۔پس دراصل یہ دونوں صاحب جو حضرت عائشہ ؓ سے مسئلہ پوچھنے گئے تھے،آپ کے محرم ہی تھے،ان میں سے کوئی غیر نہ تھا۔

پھر دوسری غلطی،بلکہ زیادتی وہ یہ کرتے ہیں کہ روایت میں تو صرف ’’حجاب‘‘ یعنی پردے کا ذکر ہے مگر یہ لوگ اپنی طرف سے اس میں یہ بات بڑھا لیتے ہیں کہ وہ پردہ باریک تھا، اور اس اضافے کے لیے وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر باریک نہ ہوتا جس میں سے حضرت عائشہ ؓنہاتی ہوئی نظر آسکتیں تو پھر اُسے درمیان میں ڈال کر نہانے سے کیا فائدہ تھا؟حالاں کہ اگر انھیں یہ معلوم ہوتاکہ اُس وقت مسئلہ کیا درپیش تھا جس کی تحقیق کے لیے یہ دونوں صاحب اپنی خالہ اور بہن کے پاس گئے تھے،تو انھیں اپنے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا اور یہ سوچنے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی کہ پردہ باریک ہونا چاہیے تھا۔

دراصل وہاں سوال یہ نہ تھا کہ غسل کا طریقہ کیا ہے،بلکہ بحث یہ چھڑ گئی تھی کہ غسل کے لیے کتنا پانی کافی ہوسکتاہے۔بعض لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ روایت پہنچی تھی کہ آپ ایک صاع بھر پانی سے غسل کرلیتے تھے۔اتنے پانی کو لوگ غسل کے لیے ناکافی سمجھتے تھے اور بنائے غلط فہمی یہ تھی کہ وہ غسل جنابت اور غسل بغرض صفائی بدن کا فرق نہیں سمجھ رہے تھے۔حضرت عائشہؓ نے ان کو تعلیم دینے کے لیے بیچ میں ایک پردہ ڈالا جس سے صرف ان کا سر اور چہرہ ان دونوں صاحبوں کو نظر آتا تھا اور پانی منگا کر اپنے اوپر بہایا۔ اس طریقے سے حضرت عائشہ ان کو دو باتیں بتانا چاہتی تھیں۔ ایک یہ کہ غسل جنابت کے لیے صرف جسم پر پانی بہانا کافی ہے۔دوسرے یہ کہ اس مقصد کے لیے صاع بھرپانی کفایت کرتا ہے۔

اس تشریح کے بعد آپ خود سوچیں کہ اس میں آخر قابل اعتراض کیا چیز ہے جس کی بِنا پر خواہ مخواہ ایک مستند حدیث کا انکار کرنے کی ضرورت پیش آئے اور پھر اُسے تما م حدیثوں کے غیر معتبر ہونے پر دلیل ٹھہرایا جائے؟

(۲،۳) حضرت سبرۃ الجہنی اور حضرت جابرؓ والی حدیثیں، مسلم،باب نکاح المتعہ میں موجود ہیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ معترضین نے صرف اعتراض کی خاطر حدیثیں تلاش کرنی شروع کیں اور اس سلسلے میں ان دونوں حدیثوں کو بھی اپنی فہرست میں ٹانک لیا۔ورنہ اگر وہ جاننے کی کوشش کرتے کہ متعہ کی حقیقت کیا ہے اوراس کے بارے میں فقہا کے درمیان کیا بحثیں پیدا ہوئی تھیں،اور ان بحثوں کا تصفیہ کرنے کے لیے محدثین نے کس مقصد کے لیے وہ تمام روایات اپنی کتابوں میں جمع کیں جو متعہ کے جواز اور حرمت کے متعلق ان کو مختلف سندوں سے پہنچی تھیں، تو شاید وہ ان احادیث پر نظر عنایت نہ فرماتے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام سے قبل،زمانۂ جاہلیت میں نکاح کے جو طریقے رائج تھے،ان میں سے ایک ’’نکاح متعہ‘‘ بھی تھا۔یعنی یہ کہ کسی عورت کو کچھ معاوضہ دے کر ایک خاص مدت کے لیے اُس سے نکاح کرلیا جائے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ یہ تھا کہ جب تک اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو کسی چیز کی نہی کا حکم نہ مل جاتا تھا،آپؐ پہلے کے رائج شدہ طریقوں کو منسوخ نہ فرماتے تھے۔ بلکہ یا تو ان کے رواج پر سکوت فرماتے یا بوقت ضرورت ان کی اجازت بھی دے دیتے۔چنانچہ یہی صورت متعہ کے بارے میں بھی پیش آئی۔ابتدائً آپؐ نے اس کے رواج پر سکوت فرمایا، اور بعد میں کسی جنگ یا سفر کے موقع پر اگر لوگوں نے اپنی شہوانی ضرورت کی شدت ظاہر کی تو آپؐ نے اس کی اجازت بھی دے دی،کیوں کہ حکم نہی اُس وقت تک نہ آیا تھا۔ پھر جب حکم نہی آگیا تو آپؐ نے اُس کی قطعی ممانعت فرما دی۔ لیکن یہ حکم تمام لوگوں تک نہ پہنچ سکا اور اس کے بعد بھی کچھ لوگ ناواقفیت کی بنا پر متعہ کرتے رہے۔آخر کار حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں اس حکم کی عام اشاعت کی اور پوری قوت کے ساتھ اس رواج کو بند کیا۔

اس مسئلے میں فقہا کے سامنے متعدد سوالات تحقیق طلب تھے۔مثلاًیہ کہ آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس کی صریح اجازت بھی دی تھی؟ اور اگر دی تھی تو کس موقع پر؟ اور یہ کہ آپؐ نے اسے منع فرمایا ہے یا نہیں؟اور منع فرمایا ہے تو کب اورکن الفاظ میں؟اور یہ کہ آیا اس کی تحریم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا فعل ہے یا حضرت عمرؓ نے اپنی ذمہ داری پر اس رواج کو بند کیا؟یہ اور اس طرح کے متعدد سوالات تھے جن کی تحقیق کے لیے فقہا ومحدثین کو وہ تمام روایات جمع کرنے کی ضرورت پیش آئی جو اس مسئلے سے متعلق مختلف لوگوں کے پاس موجود تھیں۔اسی سلسلے میں امام مسلم نے وہ دو نوں روایات بھی نقل کیں جن کومعترضین نے اعتراض کے لیے چھانٹا ہے۔

ان میں سے ایک حضرت جابر بن عبداﷲ ؓ کی روایت ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں متعہ کرتے تھے، پھر حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں اس کی ممانعت کردی۔دوسری حدیث سبرۃ الجہنی کی ہے جو بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی تھی۔ چنانچہ میں نے خود ایک چادر کے عوض ایک عورت سے متعہ کیا، مگر بعد میں اسی غزوے کے زمانے میں آپؐ نے اعلان فرمادیا کہ اﷲ تعالیٰ نے متعہ کو قیامت تک کے لیے حرام کردیا ہے۔ان کے علاوہ اور بہت سی احادیث مسلم اور دوسرے محدثین نے جمع کی ہیں جو اس مسئلے کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر محدثین یہ مواد جمع نہ کرتے تو اسلامی قانون کی تدوین کرنے والے آخر کس بنیاد پر متعہ کے جواز وعدم جواز کا فیصلہ کرتے؟

(۴)حضرت جابر ؓکی یہ روایت مسلم، کتاب الحج،بیان الاحرام میں ہے، جس میں قواعد احرام سے تعلق رکھنے والی روایات جمع کی گئی ہیں۔اس سلسلے میں امام مسلم نے حضرت جابرؓ کی بھی متعدد روایات نقل کی ہیں، جن میں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ محض حج کی نیت کرکے مدینہ سے نکلے تھے۔جب۴ ذی الحجہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ ہدی نہیں لائے ہیں،وہ احرام کھول دیں اور اپنی بیویوں کے پاس جائیں۔یہ آپؐ کا حکم نہ تھا بلکہ مقصود یہ بتانا تھا کہ احرام کھول کر تم ایسا کرسکتے ہو۔چنانچہ ہم نے طواف کعبہ اور سعی بین الصفا والمروہ کرکے احرام کھول دیے اور اپنی بیویوں کے پاس گئے۔اس موقع پر جو لوگ احرام کھولتے ہوئے جھجک رہے تھے،انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں۔اگر میں اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہوتا تو میں بھی تمہارے ساتھ ہی احرام کھول دیتا۔اس پر وہ مطمئن ہوگئے اور سب نے ارشاد کی تعمیل کی۔

یہ واقعات حضرت جابرؓ نے جس غرض کے لیے بیا ن کیے تھے وہ یہ تھی کہ بعد میں بھی بہت سے لوگوں کے دلوں میں یہ شک باقی رہ گیا تھا کہ جو شخص احرام باندھ کر حج سے پہلے مکے پہنچا ہو،وہ آیا طواف وسعی کرنے کے بعد حلال ہوسکتا ہے یا نہیں،اور آیا اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ حج کا زمانہ آنے پر حرم ہی سے احرام کا آغاز کرے۔اسی شک کو دُور کرنے کے لیے حضرت جابرؓ نے یہ حدیث بیان کی تھی۔ اس حدیث کے اصل الفاظ میں یہ بات کہیں منقول نہیں ہے کہ’’ہم نے خوب جماع کیا اور جب ہم عرفہ کے لیے روانہ ہوئے تو ’’تقطر مذاکیرنا المنی‘‘ بلکہ وہاں توصحابہ کرامؓ کا یہ قول بطور استفہام و استعجاب مذکور ہے: ’’کیا ہمیں عورتوں کے پاس جانے اور پھر عرفہ کے لیے روانہ ہونے کا حکم ہے درآں حالے کہ ’’تقطر مذاکیرنا‘‘؟

(۵)حضرت ابو ذرؓ کی یہ حدیث بخاری کتاب بدء الخلق، باب صفت الشمس والقمر میں ہے۔اس کا جوخلاصہ آپ نے دیا ہے،وہ صحیح نہیں ہے۔اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ’’نبیؐ نے فرمایا: ’’جانتے ہو سورج غروب ہوکر جاتا کہاں ہے؟‘‘میںنے عرض کیا: ’’اﷲ اوراُس کا رسولؐ زیادہ جانتے ہیں۔‘‘فرمایا: ’’وہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور اجازت مانگتا ہے۔(یعنی پھر مشرق سے طلوع ہونے کی)اور اُسے اجازت دے دی جاتی ہے۔ایک وقت آئے گا کہ وہ سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا مگر اجازت نہ ملے گی اور حکم ہوگا کہ پلٹ جا اور وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی:وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّہَا۝۰ۭ ذٰلِكَ تَــقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِــيْمِo یٰسٓ 38:36

اس میں دراصل جو مضمون بیان کیا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ’’سورج ہر آن اﷲ تعالیٰ کے حکم کا تابع ہے،اُس کا طلوع بھی اﷲ ہی کے حکم سے ہوتا ہے اور اُس کا غروب بھی۔‘‘ سورج کا سجدہ کرنا ظاہر ہے کہ اس معنی میں نہیں ہے جس میں ہم نماز میں سجدہ کرتے ہیں، بلکہ اس معنی میں ہے جس میں قرآن دنیا کی ہر چیز کو خدا کے آگے سربسجود قرار دیتا ہے،یعنی کلیتاً تابع امر ربّ ہونا۔ پھر سورج کا مغرب بھی ایک نہیں ہے بلکہ قرآن کی رُو سے بہت سے مغرب ہیں،کیوں کہ وہ ہر آن ایک خطہ ٔ زمین میں غروب اور ہر آن دوسرے خطے میں طلوع ہوتا ہے۔اس لیے اجازت مانگ کر طلوع وغروب ہونے کا مطلب ہر آن امر الٰہی کے تحت ہونا ہے۔ رہا اس کا کسی وقت مغرب سے طلوع ہونا،تو یہ بھی کوئی بعید بات نہیں ہے۔ہر وقت اس امر کا امکان ہے کہ دنیا کا قانون جذب وکشش یکایک ایک پلٹی کھا جائے اور سیاروں کی رفتار بالکل اُلٹ جائے۔طبیعیات اور ہیئت کے ماہرین میں سے کوئی بھی اس قانون کو اٹل نہیں مانتا اور نہ اس میں تغیر واقع ہونے،یا اس کے بالکل درہم برہم ہوجانے کو ناممکن سمجھتا ہے۔

رہا یہ امر کہ اس حدیث میں طلوع وغروب کو سورج کی گردش کا نتیجہ سمجھا گیا ہے نہ کہ زمین کی گردش کا، تو اس پر اعتراض کرنے والے کو دو باتیں اچھی طرح جان لینی چاہییں۔ اوّل یہ کہ انبیا علیہم السلام طبیعیات اور ہیئت اور کیمیا کے مسائل بتانے کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ عرفان حقیقت بخشنے اور فکر وعمل کی تصحیح کرنے کے لیے آئے تھے۔ان کاکام یہ بتانا نہ تھا کہ زمین حرکت کرتی ہے یا سورج، بلکہ یہ بتانا تھا کہ ایک ہی خدا زمین اور سورج کا مالک وفرماںروا ہے اور ہر چیز ہر آن اسی کی بندگی کررہی ہے۔دوسرے یہ کہ یہ بات حکمت تبلیغ کے بالکل خلاف ہے کہ مبلغ کے اپنے زمانے میں جو علم اشیا موجود ہو، اس کو چھوڑ کر وہ ہزارہا سال بعد کے علم اشیا کو تعلیم حقیقت کا ذریعہ بنائے۔ اسے جن حقائق کو ذہن نشین کرنا ہوتا ہے،ان کی تفہیم کے لیے اُس کو لامحالہ اپنے زمانے ہی کے مواد علمی سے کام لینا پڑتا ہے،ورنہ اگر وہ ان معلومات سے کام لے جو صدیوں بعدانسان کے علم میں آنے والی ہوں تو اُس کے معاصرین اُس کی اصل تعلیم کو چھوڑ کر اس بحث میںلگ جائیں کہ یہ شخص کس عالم کی باتیں کررہا ہے اور ان میں سے ایک شخص بھی اُس کی تبلیغ سے متاثر ہوکر نہ دے۔اب یہ آپ خود سوچ لیں کہ اگر کسی نبی کی تعلیم اُس کے معاصرین ہی کی سمجھ میں نہ آتی اور اُس کے عہد کے ہی لوگوں میں مقبول نہ ہوتی، تو وہ بعد کی نسلوں تک پہنچتی کیسے؟ اب سے ڈیڑھ ہزار برس پہلے اگر اوپر والی حدیث کا مضمون اس ڈھنگ سے بیان کیا جاتا کہ سننے والا طلوع وغروب کا سبب سورج کے بجائے زمین کی حرکت کو سمجھتا تو بے شک آج کے لوگ اُسے علم کا ایک معجزہ قرار دیتے،مگر آپ کا کیا خیال ہے کہ خود اُس زمانے کے لوگ اس معجزۂ علمی کا استقبال کس طرح کرتے؟اور پھر وہ اصل بات بھی کہاں تک ان کے دل ودماغ میں اُترتی جو اس مضمون میں بیان کرنی مقصود تھی؟اور جب کہ اس عہد کے لوگ ہی ایسے ’’علمی معجزات‘‘ کی بدولت ایمان لانے سے محروم رہ جاتے تو یہ معجزے آپ تک پہنچتے ہی کیا کہ آپ ان کی داد دیتے؟

(۶) حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ روایت بخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الابراد بالظہر فی شدت الحر میں ہے۔اس کا خلاصہ بھی آپ نے صحیح بیا ن نہیں کیا ہے۔ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی کا زورہو تو ظہر کی نماز ٹھنڈی کرکے پڑھو(یعنی دیر کرکے پڑھو جب کہ گرمی کی شدت میں کمی ہوجائے) کیوں کہ گرمی کی شدت جہنم کی پھونک سے ہے۔جہنم نے اپنے ربّ سے شکایت کی اور کہا کہ اے رب! میرے اجزا ایک دوسرے کو کھائے جاتے ہیں۔اس کے ربّ نے اُسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی۔ایک مرتبہ جاڑے میں اور دوسری مرتبہ گرمی میں۔گرمی کا سانس اس شدید ترین گرمی جیسا ہوتا ہے جو تم لوگ موسم گرما میں پاتے ہو،اور سردی کا سانس اس شدید ترین سردی جیسا ہوتا ہے جو تم موسم سرما میں پاتے ہو۔‘‘

اس حدیث پر اعتراض کرنے سے پہلے اس امرطبیعیات پر غورکرلیجیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مقصد اِ س بیان سے آخر کیا ہوسکتا تھا؟ کیا یہ آپ ایک عالم طبیعیات کی حیثیت سے موسمی تغیرات کے وجوہ بیان فرمانا چاہتے تھے؟یا یہ کہ آپ ایک نبی کی حیثیت سے گرمی کی تکلیف محسوس کرنے والوں کو جہنم کا تصور دلانا چاہتے تھے؟جس شخص نے بھی قرآن اور سیرت نبی پر کچھ غور کیا ہوگا،وہ بلا تأمُّل کہہ دے گا کہ آپؐ کی حیثیت پہلی نہ تھی،بلکہ دوسری تھی، اور گرمی کی شدت کے زمانے میں ظہر کی نماز ٹھنڈی پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے آپؐ نے جو کچھ فرمایا، اس سے آپؐ کامقصد دوزخ سے ڈرانا اور ان کاموں سے روکنا تھا جو آدمی کو دوزخ کا مستحق بناتے ہیں۔ اس لحاظ سے آپؐ کا یہ ارشاد قرآن کے اس ارشاد سے ملتا جلتا ہے جو غزوۂ تبوک کے موقع پر فرمایا گیا تھا کہ

وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ۝۰ۭ قُلْ نَارُ جَہَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا۝۰ۭ التوبہ 81:9

’’انھوں نے کہا کہ اس شدید گرمی میں جہاد کے لیے نہ نکلو۔اے نبی!ان سے کہوکہ جہنم کی آگ اس گرمی سے زیادہ گرم ہے۔‘‘

جس طرح یہاں قرآن علم طبیعیات کا کوئی مسئلہ بیان نہیں کررہا ہے،اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی طبیعیات کا درس دینے کے لیے نہیں ہے۔ قرآن دنیا کی گرمی کا جہنم کی گرمی سے مقابلہ اس لیے کررہا ہے کہ پس منظر میں وہ لوگ موجود تھے جو اس گرمی سے گھبرا کر جہاد کے لیے نکلنے سے جی چرا رہے تھے۔اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا کی شدید گرمی اور شدید سردی کودوزخ کی محض دو پھونکوں کے برابر اس لیے بتا رہے ہیں کہ پس منظر میں وہ لوگ موجود تھے جو جاڑے میں صبح کی اورگرمی میں ظہر کی نماز کے لیے نکلنے سے گھبراتے تھے۔چنانچہ مسند احمد میں زیدؓ بن ثابت کی یہ روایت آئی ہے کہ

لم یکن یصلی صلٰوۃ اشد علی اصحاب رسول اللّٰہ ﷺ منہا

’’ظہر کی نماز سے بڑھ کر کوئی نماز اصحاب رسول اﷲ پر شاق نہ تھی۔‘‘

اوراس کا اندازہ ہر وہ شخص کرسکتا ہے جس نے گرمی کے زمانے میں عرب کی دوپہر کبھی دیکھی ہو۔

اس کے بعد اب حدیث کے اصل الفاظ کی طرف آئیے۔’’فان شدۃ الحرمن فیح جھنم‘‘

(گرمی کی شدت جہنم کی پھونک سے ہے۔)کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ دنیا میں گرمی جہنم کی پھونک کی وجہ سے ہوتی ہے، بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ جہنم کی پھونک کی قسم یا جنس سے ہے۔اس لیے کہ عربی زبان میں لفظ مِنْ بیان جنس کے لیے بکثرت استعمال ہوتا ہے اور خود قرآن مجید میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، جیسے:’’ما یفتح اللّٰہ للناس من رحمتہ مھما تاتنا بہ من آیۃ‘‘ اور فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ الحج 22:30

رہا آخری فقرہ، تو اس میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ دنیا میں گرمی اور جاڑے کے موسم دوزخ کی ان دو پھونکوں کے سبب سے آتے ہیں، بلکہ الفاظ یہ ہیں:

فاذن لھا بنفسین، نفس فی الشتاء ونفس فی الصیف اشد ما تجدون من الحرواشد ما تجدون من الزمہریر ۔

’’پس اس کے ربّ نے اس کو دو سانسوں کی اجازت دی،ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں،جو اس شدید ترین گرمی جیسا ہے جو تم پاتے ہو اور اس شدید ترین سردی جیسا ہے جو تم پاتے ہو۔‘‘

(۷،۸)یہ حدیثیں مسلم نے کتاب الحیض، باب صفۃ منی الرجل والمرأۃ میں، بخاری نے کتاب العلم، کتاب الغسل،کتاب الادب اور کتاب الانبیاء کے مختلف ابواب میں نقل کی ہیں۔ مگر آپ نے ان کا مفہوم بھی غلط نقل کیاہے۔ اصل بات جو مختلف روایتوں میں بیان ہوئی،وہ یہ ہے:

اُم سلیم نے آکر نبیؐ سے دریافت کیا کہ اگر عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھا کرتا ہے(یعنی اُس کو احتلام ہو) تو کیا کرے؟ آپؐ نے فرمایا غسل کرے۔ اس پر حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا’’عورت کو بھی یہ معاملہ پیش آتا ہے؟‘‘ان کا مطلب یہ تھا کہ کیا عورت کو بھی ا نزال اور احتلام ہوا کرتا ہے؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:

نعم فمن این یکون الشبہ ان ماء الرجل غلیظ ابیض وماء المرأۃ رقیق اصفر فمن ایھما علا اوسبق یکون منہ الشبہ ۔

’’ہاں،ورنہ آخر بچہ ماں کے مشابہ کیسے ہوجاتا ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا سپیدی مائل ہوتا ہے اور عورت کاپانی پتلا زردی مائل۔پھر ان میں سے جو بھی غالب آجاتا ہے،یا جو بھی سبقت لے جاتا ہے،بچہ اُسی کے مشابہ ہوتا ہے۔‘‘

ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک خاتون کے سوال پر حضرت عائشہؓ نے بھی اسی طرح کے تعجب کا اظہارکیا تھا اور اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

وھل یکون الشبہ لابن قبل ذالک اذا علاماء ھا ماء الرجل اشبہ الولد اخوا لہ واذا علاماء الرجل ماء ھا اشبہ الولد اعمامہ۔

’’اور کیا بچے کا ماں کے مشابہ ہونا اس کے سوا کسی اور وجہ سے ہوتا ہے؟جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچہ اپنی ننھیال پر جاتا ہے، اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ ددھیال پر جاتا ہے۔‘‘

ایک اور روایت میں ہے کہ ایک یہودی عالم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اولادکے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے جواب میں فرمایا:

ماء الرجل ابیض وماء المرأۃ اصفر فاذا اجتمعوا فعلا منی الرجل منی المرأۃ اذکرا باذن اللّٰہ واذا اعلا منی الرجل انثا باذن اللّٰہ ۔

’’مرد کا پانی سفیدی مائل اور عورت کا پانی زردی مائل ہوتا ہے۔جب یہ دونوں ملتے ہیں اور مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آتی ہے تو اﷲ کے حکم سے بیٹا ہوتا ہے، اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آتی ہے تو اﷲ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔‘‘

آپ نے خدا جانے کس لفظ کا مطلب یہ سمجھا کہ’’اگر یہ مرکب مائل بہ سفیدی ہو تو بچہ ہوتا ہے ورنہ بچی‘‘اور یہ کس عبارت کا ترجمہ آپ نے فرمایا ہے کہ’’اگر مجامعت کے وقت مرد کا انزال عورت سے پہلے ہو تو بچہ باپ پر جاتا ہے ورنہ ماں پر‘‘؟اصل مضمون جو ان احادیث میں بیان ہوا ہے اگر اُس کے خلاف علم وعقل کی کوئی شہادت موجود ہو توضرور پیش فرمائیں۔

(۹)اس معنی کی روایات بخاری کی کتاب الانبیاء،کتاب الاستیذان اورکتاب العقیقہ میں موجود ہیں، مگر ہر جگہ اختتن کے الفاظ ہیں، جو صریح طورپر اس مفہوم کے محتمل ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ختنے خود اپنے ہاتھ سے کرلیے۔ اور جب کہ یہ کام ایک شخص خود بھی کرسکتاہے توآخر کیوں یہ معنی لیے جائیں کہ۸۰برس کی عمر کے شخص نے جراح کو بلا کر یہ کام کرایا ہوگا۔ پھر مسندابی یعلی کی روایت میں اس کی جو تفصیل آئی ہے،وہ بالکل بات واضح کر دیتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ کام خود کرلیا تھا۔اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اﷲ کی طرف سے حکم ہوا کہ ختنہ کرو تو انھوں نے ایک قدوم(بڑھئی کے کام کا ایک آلہ) لے کر ختنہ کرلیا۔اس سے ان کو سخت تکلیف ہوئی۔اﷲ کی طرف سے وحی آئی کہ ابراہیم! تم نے جلدی کی ورنہ ہم تمھیں خود اس کا آلہ بتادیتے۔انھوں نے عرض کیا:اے ربّ! میں نے پسند نہ کیا کہ تیرے حکم کی تعمیل میں دیر کروں۔ (فتح الباری،جلد۶،صفحہ۲۴۵)

(۰ا) اس مضمون کی احادیث بخاری کتاب الانبیاء، کتاب الجہاد اور کتاب الایمان والنذور میں موجود ہیں۔ان مختلف احادیث میں سے کسی میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بیویوں کی تعداد۶۰، کسی میں۷۰،کسی میں ۹۰،کسی میں۹۹اور کسی میں۰۰ابیان کی گئی ہے اور سب کی سندیں مختلف ہیں۔اتنی مختلف سندوں سے جو بات محدثین کو پہنچی ہو،اُس کے متعلق یہ کہنا تو مشکل ہے کہ وہ بالکل ہی بے اصل ہوگی،لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کو سمجھنے میں حضرت ابو ہریرہؓ سے کوئی غلطی ہوئی ہے، یا وہ پوری بات سن نہیں سکے ہوں گے۔ممکن ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی بہت سی بیویاں تھیں جن کی تعداد یہودی ۶۰، ۷۰، ۹۰، ۹۹ اور ۱۰۰ تک بیان کرتے ہیں اور حضرت ابوہریرہؓ نے سمجھا ہو کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا بیان ہے۔اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے قول کو اس طرح بیان کیا ہو کہ’’میں اپنی بیویوں کے پاس جائوں گا اور ہر بیوی سے ایک مجاہد پیدا ہوگا‘‘ اور حضرت ابو ہریرہؓ یہ سمجھے ہوں کہ’’ایک رات میں جائوں گا۔‘‘ اس طرح کی غلط فہمیوںکی مثالیں متعدد روایات میں ملتی ہیں جن میں سے بعض کو دوسری روایتوں نے صاف کر دیا، اور بعض صاف ہونے سے رہ گئیں۔ زبانی روایتوں میں ایسا ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ اور اس طرح کی چند مثالوں کو لے کر پورے ذخیرۂ احادیث کو ساقط الاعتبار قرار دینا کسی معقول آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔

رہا ان شاء اﷲ کا معاملہ، تو یہ کسی روایت میں بھی نہیں کہا گیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جان بوجھ کر ان شاء اللہ کہنے سے احتراز کیا تھا۔اس لیے اس میں توہین انبیا کا کوئی پہلو نہیں ہے۔یہ الفاظ آپ نے آخر کس روایت میں دیکھے ہیں ’’کسی نے کہا،ان شاء اﷲ بھی ساتھ کہیے، لیکن آپ نے پروا نہ کی؟‘‘حدیث میں جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیںکہ:

فقال لہ صاحبہ ان شاء اللّٰہ فلم یقل

’’ان کے ساتھی نے ان سے کہا ان شاء اﷲ، مگر انھوں نے نہ کہا۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت سلیما ن علیہ السلام کے منہ سے یہ بات نکلی تو پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے خود کہا’’ان شاء اﷲ‘‘اور حضرت سلیمانعلیہ السلام نے اس کے کہہ دینے کو کافی سمجھ لیا اور اپنی زبان سے اس کا اعادہ نہ کیا۔

(۱۱)یہ حدیث بخاری کتاب الوضو کے متعدد ابواب میں آئی ہے،اورحدیث کی دوسری کتابوں میں بھی موجود ہے، مگر کسی میں بھی حضرت حذیفہؓ کے یہ الفاظ نہیں ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’میرے سامنے کھڑے ہوکر پیشاب کیا‘‘۔ کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ یہ الفاظ آپ کو کہاں ملے؟ان کے تو اصل الفاظ یہ ہیں کہ’’ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے جارہے تھے کہ راستے میں آپؐ ایک کوڑے کے ڈھیر کی طرف گئے جو ایک دیوار کے پیچھے تھا اور آپؐ کھڑے ہوئے جیسے تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے اور آپؐ نے پیشاب کیا۔ میں ہٹ کر دُور جانے لگا تو مجھے آپؐ نے اشارہ کیا اور میں آپؐ کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔یہاں تک کہ آپؐ فارغ ہوگئے۔‘‘اس سے تویہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوار اور ڈھیر کے درمیان کھڑے ہوکر پیشاب کیا تاکہ دونوں طرف سے پردہ رہے،اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو روک کر پیچھے کھڑا کیا۔ کیوں کہ اس صورت میں نظر آنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مستند روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے۔مگر اس موقع پر آپؐ نے کسی عذر کی وجہ سے ایسا کیا تھا اور حضرت حذیفہؓ نے یہ روایت اس لیے بیان کی تھی کہ ان کے زمانے میں بعض لوگ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کو قطعی ناجائز قرار دینے لگے تھے۔

(۲ا)یہ روایات بخاری کتاب احادیث الانبیاء اور مسلم باب اثبات الشفاعۃ میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں بھی آئی ہیں۔ان سب روایات کی اسنادکو، ان کی کثرت طرق کو دیکھنے کے بعد اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں رہتا کہ حضرت ابو ہریرہؓ ہی ان کے راوی ہیں،کیوں کہ اتنے کثیر راویوں کے بارے میں، خصوصاً جب کہ ان میں سے اکثر وبیش تر ثقہ تھے،یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے ایک صحابی کا نام لے کر قصداً ایک غلط روایت تصنیف کی ہوگی۔رہے حضرت ابو ہریرہؓ ،تو ان پر ہم یہ شبہ تک نہیں کرسکتے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی غلط بات منسوب کریں گے۔لیکن ہمارے لیے ان راویوں کو جھوٹا ماننا جس قدر مشکل ہے،اُس سے بدرجہ ہا زیادہ مشکل یہ باور کرنا ہے کہ ایک نبی نے جھوٹ بولا ہوگا، یا نبیؐ نے معاذ اﷲ، ایک نبی پر دروغ گوئی کا جھوٹا الزام لگایا ہوگا۔اس لیے لامحالہ ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ اس معاملے میں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے جس کی بنا پر نبیؐ کا ارشادصحیح طورپر نقل نہیں ہوا۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے جو تین’’جھوٹ‘‘ اس روایت میں بیان ہوئے ہیں،ان میں سے دو تو قطعاً جھوٹ نہیں ہیں،اور تیسرا جھوٹ دراصل بنی اسرائیل کا جھوٹ ہے جو انھوں نے بائبل میں ایک جگہ نہیں،بلکہ دو مقامات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے۔

پہلے دو واقعات خود قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں،مگر نہ ان میں سے کسی کو اﷲ تعالیٰ نے جھوٹ قرار دیا اور نہ صورت واقعہ سے ان کے جھوٹ ہونے کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔پہلا واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کنبے قبیلے کے لوگ اپنے ایک مشرکانہ میلے کے لیے شہر سے باہر جانے لگے تو آپؑ یہ عذر کرکے پیچھے ٹھہر گئے کہ ’’ انِّیْ سَقِیْمٌ‘‘ (میں بیمار ہوں)۔ اس کو جھوٹ قرا ردینے کے لیے کسی مستند ذریعے سے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس وقت بالکل تندرست تھے، کسی قسم کی شکایت ان کو نہ تھی۔ لیکن یہ بات نہ اﷲ نے بتائی نہ اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ پھر اُسے آخر کس بنا پر جھوٹ کہا جائے؟دوسرا واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلا م نے اپنی قوم کے بت خانے میں گھس کر بڑے بت کے سوا باقی سارے بت توڑ دیے تو قوم کے لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر شبہ ظاہر کیا۔ چنانچہ وہ بلائے گئے اور ان سے پوچھا گیا کہ تم نے ہمارے خدائوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟انھوں نے جواب دیا:

بَلْ فَعَلَہٗ۝۰ۤۖ كَبِيْرُہُمْ ھٰذَا فَسْـَٔــلُوْہُمْ اِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَo الانبیائ 63:21

’’بلکہ یہ فعل ان کے اس بڑے نے کیا ہے،ان زخمی بتوں سے پوچھ لواگر یہ بول سکتے ہیں‘‘

اس فقرے کے الفاظ خود بتارہے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات ایک جھوٹے بیان کی حیثیت سے نہیں بلکہ شرک کے خلاف ایک دلیل کی حیثیت سے فرمائی تھی۔ان کا مدعا دراصل پوچھنے والوں کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا تھا کہ تمہارے یہ کیسے خدا ہیں جوبے چارے اپنی داستانِ مصیبت تک نہیں سنا سکتے،اور تمہارا یہ بڑا خدا کیسا ہے جس کے متعلق تم خود جانتے ہو کہ یہ کسی فعل پر قادر نہیں ہے۔اس بات کو تو کوئی معمولی سخن فہم آدمی بھی جھوٹ نہیں کہہ سکتا،کجا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بدگمانی کریں کہ آپؐ نے اسے جھوٹ قرار دیا ہوگا۔

رہا تیسرا’’ جھوٹ‘‘ تو وہ دراصل ان مہمل افسانوں میں سے ایک ہے جو بائبل میں انبیا علیہم السلام کے نام پر گھڑے گئے ہیں۔بائبل کی کتاب پیدایش میں یہ واقعہ ایک جگہ نہیں بلکہ دو جگہ بیان کیا گیا ہے۔پہلا واقعہ مصر کا ہے اور وہ بائبل کے الفاظ میں یہ ہے:

’’ اُس نے اپنی بیوی سارہ سے کہا کہ دیکھ میں جانتا ہوں کہ تو دیکھنے میں خوبصورت عورت ہے، اور یوں ہوگا کہ مصری تجھے دیکھ کر کہیں گے کہ یہ اس کی بیوی ہے،سو وہ مجھے تومار ڈالیں گے مگر تجھے زندہ رکھ لیں گے۔ سو تو یہ کہہ دینا کہ میں اس کی بہن ہوں…مصریوں نے اُس عورت کو دیکھا کہ وہ نہایت خوب صورت ہے…اور وہ عورت فرعون کے گھر میں پہنچائی گئی… پر خداوند نے فرعون اور اُس کے خاندان پر ابرام کی بیوی کے سبب سے بڑی بڑی بلائیں نازل کیں،تب فرعون نے ابرام کو بلا کر اُس سے کہا کہ تو نے یہ مجھ سے کیا کیا؟تو نے مجھے کیوں نہ بتایا کہ یہ تیری بیوی ہے؟تو نے یہ کیوں کہا کہ وہ میری بہن ہے؟اسی لیے میں نے اسے لیا کہ وہ میری بیوی بنے۔‘‘ (باب۱۲، آیات ۱۱تا۲۰)

لطف یہ ہے کہ خود بائبل ہی کے بیان کے مطابق اُس وقت حضرت سارہ کی عمر ۶۵سال تھی۔اس کے بعد دوسرا واقعہ فلسطین کے جنوبی علاقے کا بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے:

’’ابرہام نے اپنی بیوی سارہ کے حق میں کہا کہ وہ میری بہن ہے اور جرار کے بادشاہ ابی ملک نے سارہ کو بلوالیا۔لیکن رات کو خدا ابی ملک کے پاس خواب میں آیا اور اُسے کہا کہ دیکھ، تو اس عورت کے سبب سے جسے تو نے لیا،ہلاک ہوگا، کیوں کہ وہ شوہر والی ہے…اور ابی ملک نے ابرہام کو بلا کر اُس سے کہا کہ تو نے ہم سے یہ کیا کیا، اور مجھ سے تیرا کیا قصور ہوا کہ تو مجھ پر اور میری بادشاہی پر ایک گناہ عظیم لایا؟‘‘ (باب۲۰،آیات۲تا۶ا)

بائبل کے اپنے بیان کی رُو سے اُس وقت حضرت سارہ کی عمر۹۰سال تھی۔یہ دونوں قصے خود بتا رہے ہیں کہ یہ سراسر جھوٹے ہیں، اور ہم کسی طرح یہ باور نہیں کرسکتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی ہوگی۔

اب ایک شخص یہ سوال کرسکتا ہے کہ اگر یہ تینوں باتیں ازروئے درایت غلط ہیں تو اہل روایت نے ان احادیث کو اپنی کتابوں میں درج ہی کیوں کیا؟اس کا جواب یہ ہے کہ درایت کا تعلق احادیث کے نفس مضمون سے ہے،اور روایت کا تعلق تمام تر سند سے۔ اہل روایت نے جو خدمت اپنے ذمے لی تھی،وہ دراصل یہ تھی کہ قابل اعتماد ذرائع سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے متعلق جتنا مواد ان کو بہم پہنچے،اُسے جمع کردیں۔ چنانچہ یہ خدمت انھوں نے انجام دے دی۔ اس کے بعد یہ کام اہل درایت کا ہے کہ وہ نفس مضمون پر غور کرکے ان روایات سے کام کی باتیں اخذ کریں۔اگر اہل روایت خود اپنی اپنی فہم کے مطابق درایت کا کام بھی کرتے اور مضامین پر تنقید کرکے ان ساری روایتوں کو ردّ کرتے جاتے، جن کے مضمون ان کی انفرادی رائے میں مناسب نہ ہوتے،توہم اس بہت سے مواد سے محروم رہ جاتے جو مجموعۂ احادیث مرتب کرنے والوں کے نزدیک کام کا نہ ہوتا اور دوسرے بہت سے لوگوں کے نزدیک کا م کا ہوتا۔ اس لیے یہ عین مناسب تھا کہ اہل روایت نے زیادہ تر تنقید اسناد تک اپنے کاموں کو محدور رکھا اور تنقید مضامین کی خدمت انجام دینے والوں کے لیے معتبر اسناد سے بہم پہنچایا ہوا مواد جمع کردیا۔

(۳ا) یہ حدیث بخاری، کتاب بدء الخلق،باب خیر مال المسلم غنم یتبع بہا شف الجبال اور کتاب احادیث الانبیاء،باب ما قال اللّٰہ تعالٰی واتخذاللّٰہ ابراہیم خلیلا میں آئی ہے۔ اس مضمون کی تمام احادیث کو جمع کرنے سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ نبیؐ نے ’’وزغ‘‘ [وزغ کے اصل معنی گرگٹ کے ہیں نہ کہ چھپکلی]۔کو موذی جانوروں میں سے قرار دیا تھا۔ [حدیث میں آتا ہے کہ نبیؐ نے چند جانوروں کو فواسق (موذی) قرار دے کر فرمایا تھا کہ انھیں حرم میں اور حالت احرام میں مار دینے کی بھی اجازت ہے، بچھو، بائولا کتا اور چوہا بھی ان میں شامل ہے]۔اور بعض روایات کی رُو سے یہ بھی فرمایا تھا کہ دوسرے موذی جانوروں کی طرح اسے بھی مار دیا جائے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ کی صحیح ترین روایت جو بخاری میں آئی ہے،اُس میں وہ فرماتی ہیں:

ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال الوزغ الفویسق ولم اسمعہ امر بقتلہٖ ۔

’’نبیؐ نے وزغ کو فویسق(موذی) فرمایا۔ مگر میں نے نہیں سنا کہ آپؐ نے اُسے مار ڈالنے کا بھی حکم دیا ہو۔‘‘

دوسری ایک روایت جو مسند احمد اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے، اس میں مار دینے کا بھی ذکر ہے اور حضرت ابراہیمعلیہ السلام پر آگ پھونکنے کا بھی،مگر جیسا کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں لکھا ہے: والذی فی الصحیح اصح یعنی صحیح بخاری والی روایت ہی زیادہ صحیح ہے۔

پھر بخاری کی اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ وزعم سعد بن ابی وقاص اَن النبیﷺ امر بقتلہ۔ یعنی’’سعدؓ بن ابی وقاص کا دعویٰ یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے مارڈالنے کا حکم دیا۔‘‘ لیکن اس روایت میں یہ تصریح نہیں ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص سے یہ بات کس نے سنی۔ دار قطنی میں یہ روایت اس طرح ہے کہ عن ابن شھاب عن سعد بن ابی وقاص۔ مگر ابن شہاب نے حضرت سعدؓ کو نہیں دیکھا۔ اس لیے یہ روایت منقطع ہے۔

آخر میں اُم شریک کی روایت آتی ہے جس میں مار ڈالنے کے حکم کی بھی تصریح ہے اور اس وجہ کی بھی کہ یہ جانور حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ پھونکتا تھا۔ممکن ہے اس میں دو چیزیں خلط ملط ہوگئی ہوں۔ایک اس جانور کا موذی ہونا جو صحیح ترین روایت کی رُو سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔دوسرے اس کے بارے میں آگ پھونکنے کا وہ قصہ جو عوام میں مشہور تھا۔ تاہم اگر صحیح بات وہی ہو جو ام شریک والی روایت میں آئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ گرگٹ کی پوری نسل کو اس لیے مارڈالا جائے کہ اس کے ایک فرد نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ بھڑکائی تھی۔بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ وہ ایک موذی جانور ہے اور اس کو دوسرے موذی جانوروں کی طرح انسان سے دشمنی ہے۔ چنانچہ سار ے جانوروں میں سے یہی وہ جانور تھا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو اس نے اُس آگ کو پھونکنے کی کوشش کی۔یہاں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ گرگٹ کی پھونک میں آگ بھڑکانے کی طاقت کہاں سے آئی۔اس لیے کہ حدیث میں سرے سے یہ کہا ہی نہیں گیا ہے کہ وہ آگ اس کے بھڑکانے سے بھڑکی تھی۔

(۱۴)یہ روایت مسلم،کتاب الصلوٰۃ،باب سترۃ المصلّٰی میں ہے۔اس میں امام مسلم نے وہ پورا مواد جمع کیا ہے جو سترے کے مسئلے سے متعلق ان کو معتبرسندوں سے پہنچا تھا، اور اس کے سارے پہلو ہمارے سامنے رکھ دیے ہیں۔اس کی کسی ایک روایت کو لے کر کوئی نتیجہ نکال بیٹھنا صحیح نہیں ہے،بلکہ ساری روایتوں پر جامع نگاہ ڈالنے ہی سے آدمی صحیح نتیجہ اخذ کرسکتا ہے۔ اصل بات جو ان احادیث سے معلوم ہوتی ہے، یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کو اپنے آگے سترہ [سترہ اس چیز کو کہتے ہیں جسے کھلی جگہ پر نماز پڑھتے وقت ایک آدمی اس غرض سے سامنے رکھ لیتا ہے کہ وہ آگے سے گزرنے والوں کے اور اس نمازی کے درمیان آڑ کا کام دے]رکھنے کا حکم دیا تھا اور اس کی وجہ سمجھاتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ اگر آدمی سترہ رکھے بغیر نماز کے لیے کسی کھلی جگہ کھڑا ہوجائے گا تو عورتیں،کتے،گدھے سب اُس کے سامنے سے گزریں گے۔اس بات کو سن کر بعض لوگ اس مسئلے کو یوں بیان کرنے لگے کہ عورت،کتے اور گدھے کے گزرنے سے نماز قطع ہوجاتی ہے۔ یہ باتیں جب حضرت عائشہ ؓکو پہنچیں تو انھوں نے فرمایا: ’’ان المرأۃ لدابۃ سوء(پھر تو عورت بڑی بُری جانور ہوئی)،عدلتمونا بالکلاب والحمر(تم لوگوں نے تو ہم کو گدھوں اور کتوں کے برابر کردیا)، ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یصلی من اللیل وانا معترضۃ بینہ وبین القبلۃ کاعتراض الجنازۃ(نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو رات کو نماز پڑھتے تھے اور میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح پڑی ہوتی تھی)۔

(۱۵) اس مضمون کی روایات بخاری نے کتاب بدء الخلق اور کتاب الطب میں نقل کی ہیں۔ نیز ابن ماجہ، نسائی،ابو دائود اور دار قطنی میں بھی یہ موجود ہیں۔بعض شارحین نے اس حدیث کے الفاظ کو ٹھیک ان کے لغوی معنی میں لیا ہے اور اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ فی الواقع مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں اس کا تریاق پایا جاتا ہے،اس لیے جب یہ کسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو اسے ڈبو کر نکالا جائے [جدید طبی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مکھی کے پروں میں ایک خاص قسم کے جراثیم ہوتے ہیں جن کو جراثیم کش یا جراثیم خور (Bacteriophge) کہا جاتا ہے۔ یہ مکھی کے جسم کے دوسرے جراثیم کو بآسانی ہلاک کر سکتے ہیں]۔ اور بعض نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ نبیؐ دراصل اس بے جا غرور کا علاج کرنا چاہتے تھے جس کی بنا پر بعض لوگ دودھ کے اس پیالے یا سالن کی اُس پوری رکابی سے ہاتھ اُٹھا لیتے ہیں جس میں مکھی گری ہو، اور پھریا تو اُسے پھینک دیتے ہیں،یا اپنے خادموں کو کھانے کے لیے دے دیتے ہیں۔اس طرح کے لوگوں کا غرور توڑ نے کے لیے آپؐ نے فرمایا کہ مکھی اگر تمہارے کھانے میں گر جائے تو اُسے ڈبو کر نکالو اور پھر اس کھانے کو کھائو۔اس کے ایک پر میں بیماری ہے، یعنی کبر وغرور کی بیماری جو اُسے دیکھ کر تمہارے نفس میں پیدا ہوتی ہے، اور دوسرے پر میں اس کا تریاق،یعنی اس کبرو غرور کا علاج جس کی وجہ سے تم ایسے کھانے کو پھینک دیتے ہو یا اپنے خادموں کو کھلاتے ہو۔ اس معنی کی تائید وہ احادیث بھی کرتی ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں تھوڑا سا کھانا چھوڑ کر اُٹھ جانے کو ناپسند فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ اپنی رکابی کو صاف کرکے اُٹھو۔اس حکم کی وجہ بھی یہی ہے کہ جو شخص اس طرح برتن میں کچھ چھوڑ کر اُٹھتا ہے،وہ گویا یہ چاہتا ہے کہ یا تو اس بقیہ کھانے کو پھینک دیا جائے یا اُسے کوئی دوسرا کھائے۔

آخری سوال جو آپ نے بخاری کے’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ ہونے کے بارے میں کیا ہے،اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ یقینی ذریعے سے تو ہم کو کتاب اﷲ پہنچی ہے،کیوں کہ اسے ہزارہا آدمیوں نے بتواتر نقل کیا ہے۔مگر اس کے بعد جس کتاب کے مندرجات ہم کو معتبر ترین سندوں سے پہنچے ہیں، وہ بخاری ہے، کیوں کہ دوسری تمام کتابوں کی بہ نسبت اس کتاب کے مصنف نے سندوں کی جانچ پڑتال زیادہ کی ہے۔ یہ صحت کا حکم صرف اسناد سے متعلق ہے اور یقینا بالکل صحیح ہے۔ رہی مضامین کی تنقید بلحاظ درایت، تو اس کے متعلق میں اوپر اشارہ کرچکا ہوں کہ یہ کام اہل روایت کے فن سے بڑی حد تک غیر متعلق تھا،اس لیے یہ دعویٰ کرنا صحیح نہیں کہ بخاری میں جتنی احادیث درج ہیں،ان کے مضامین کو بھی جوں کا توں بلاتنقید قبول کرلینا چاہیے۔

اس سلسلے میں یہ بات بھی جان لینے کی ہے کہ کسی روایت کے سنداً صحیح ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا نفس مضمون بھی ہرلحاظ سے صحیح اور جوں کا توں قابل قبول ہو۔ ہم کو خود اپنی زندگی میں بارہا اس کا تجربہ ہوتا رہتا ہے کہ ایک شخص کی گفتگو کو جب سننے والے دوسروں کے سامنے نقل کرتے ہیں تو صحیح روایت کی کوشش کرنے کے باوجود ان کی نقل میں مختلف قسم کی کوتاہیاں رہ جاتی ہیں۔مثلاً کسی کو پوری بات یاد نہیں رہتی اور وہ اُس کا صرف ایک حصہ نقل کرتا ہے۔کسی کی سمجھ میں بات اچھی طرح نہیں آتی،اس لیے وہ ناقص مفہوم ادا کرتا ہے۔ کوئی دوران گفتگو میں کسی وقت پہنچتا ہے اور اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ پہلے کیا بات ہورہی تھی۔اس طرح کے متعدد نقائص ہونے کی وجہ سے بسا اوقات نیک نیتی اورصداقت کے باوجود قائل کی بات اپنی صحیح صورت میں نقل نہیں ہوتی۔ اور ایسا ہی معاملہ حالات اور افعال کی رودادیں بیان کرنے میں بھی پیش آیا کرتا ہے۔کبھی ان نقائص کو دوسری روایتیں رفع کردیتی ہیں اور سب کو ملا کر دیکھنے سے پوری تصویر سامنے آجاتی ہے۔ اور کبھی ایک ہی روایت موجود ہوتی ہے(جسے اصطلاح علم حدیث میں غریب کہتے ہیں) اس لیے وہ نقص علم روایت کی مدد سے رفع نہیں کیا جاسکتا اور درایت سے کام لے کر یہ رائے قائم کرنی پڑتی ہے کہ اصل بات کیا ہوسکتی تھی، یا یہ کہ یہ بات اپنی موجودہ صورت میں قابل قبول ہے یا نہیں، یا یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج اور اندازِ گفتگو سے یہ چیز مناسبت رکھتی ہے یا نہیں۔اس حد تک حدیث میں تحقیق کرنے کی صلاحیت جن لوگوں میں نہ ہو،انھیں اوّل تو حدیث کی کتابیں پڑھنی ہی نہیں چاہییں،یا پڑھیں تو کم ازکم ان کو فیصلے صادر نہ کرنے چاہییں۔

(ترجمان القرآن،محرم وصفر۳۷۲اھ، اکتوبر ونومبر۹۵۲اء)