رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
وراثت میں اخیافی بھائی بہنوں کا حصہ:
سوال: قدوری (کتاب الفرائض،باب الحجب) میں یہ عبارت درج ہے:
ان تترک المرأۃ زوجا واما او جدۃ واخوۃ من ام واخًا من ابٍ وامٍ فلزوج النصف وللام السدس ولاولاد الام الثلث ولا شیٔ لاخوۃ للأب والأم۔یعنی اگر ایک عورت کے وارثوں میں اس کا شوہر اور ماں یا دادی اور اخیافی(ماں شریک) بھائی اور سگا بھائی موجود ہوں تو شوہر کو آدھا حصہ، ماں کو چھٹا حصہ، او ر اخیافی بھائی بہنوں کو ایک تہائی حصہ ملے گا اور سگے بھائیوں کو کچھ نہ ملے گا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ احناف کا مفتیٰ بہ قول ہے؟کیا یہ قرین انصاف ہے کہ برادر حقیقی تو محروم ہوجائے اور اخیافی بھائی وارث قرارپائے؟لفظ کلالہ کی قانونی تعریف بھی واضح فرمائیں۔ کیا والدہ اور دادی کے زندہ ہونے کے باوجود بھی ایک میت کو کلالہ قرار دیا جاسکتا ہے؟
جواب: قدوری سے جو مسئلہ آپ نے نقل کیا ہے،اس میں سلف کے مابین اختلاف ہے۔اگر کوئی عورت مر جائے اور پیچھے شوہر،ماں،سگے بھائی بہن اور اخیافی(یعنی ماں جائے) بھائی بہن چھوڑے، تو حضرت علی، ابو موسیٰ اشعری اور ابی ابن کعب رضی اﷲ عنہم کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کی نصف میراث شوہر کو، ۶۔۱ ماں کو ۳۔۱ اخیافی بھائی بہنوں کو دیا جائے گا اور سگے بھائی بہنوں کو کچھ نہ ملے گا۔ اسی فتوے کو علمائے احناف نے لیا ہے اور یہی ان کا مفتیٰ بہ قول ہے۔بخلاف اس کے حضرت عثمانؓ اور حضرت زیدؓ بن ثابت کا یہ مذہب ہے کہ ۳۔۱ میراث سگے اور اخیافی بھائی بہنوں میں برابر برابر تقسیم کی جائے گی۔ حضرت عمرؓ پہلے قول اوّل کے قائل تھے مگر بعد میں انھوں نے قول ثانی اختیار کرلیا۔ ابن عباسؓ سے دو روایتیں مروی ہیں، مگر زیادہ معتبر روایت یہی ہے کہ وہ بھی قول ثانی کے قائل تھے۔اسی پر قاضی شریح نے فیصلہ کیا ہے اور امام شافعی، امام مالک اور سفیان ثوری رحمہم اللہ کا مذہب بھی یہی ہے۔حنفیہ کا استدلال یہ ہے کہ اخیافی بھائی بہن ذوی الفروض ہیں اور سگے بھائی عصبات ہیں، اور ذوی الفروض کا حق عصبات پر مقدم ہے، لہٰذا جب ذوی الفروض سے کچھ نہ بچے تو عصبات کو کوئی حق نہ پہنچے گا۔ دوسرے گروہ کا استدلال یہ ہے کہ ماں جائے ہونے میںجب سگے اور اخیافی بھائی بہن یکساں ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ برابر کے حصے دار نہ ہوں۔
کلالہ کے جو معنی حضرت ابو بکرؓ نے بیان فرمائے ہیں اور جنھیں حضرت عمرؓ نے بھی قبول کیا ہے وہ یہ ہیں: من لا ولد لہ ولا والد۔یعنی کلالہ وہ ہے جس کی نہ اولاد ہو اور نہ باپ۔ اس طرح ماں یا دادی کی موجودگی کسی میت کے کلالہ ہونے میں مانع نہیں ہے۔
(ترجمان القرآن۔ذی الحجہ ا۳۷اھ، ستمبر۹۵۲اء)