رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اعتراضاتِ بے تحقیق:
سوال: [ واضح رہے کہ یہ سوال نامہ ایک ایسے طالب علم کے نام سے بھیجا گیا ہے جو ساتویں جماعت میں پڑھتا ہے]۔ آپ کی کتابوں کی بعض باتوں پر مجھے شک ہے۔اس سلسلے میں چند سوالات بھیج رہا ہوں،ان کے جواب دے کر مطمئن کریں:
(۱) آپ قضا وقدر کو جزو ایمان نہیں سمجھتے جیسا کہ آپ کی مندرجۂ ذیل تحریر سے معلوم ہوتا ہے:
’’ہر چند میرے نزدیک مسئلۂ قضا وقدر جز وِایمان نہیں ہے۔‘‘(مسئلۂ جبر وقدر صفحہ ۵ا)
لیکن علمائے دین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ جزو ایمان ہے۔جیسا کہ آتا ہے:
اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔
(۲) آپ نے رسالۂ تجدید واحیائے دین میں فرمایا ہے کہ’’نماز ایک ٹریننگ ہے،اصلی عبادت نہیں ہے۔ بلکہ اصلی عبادت کے لیے تیار کرتی ہے۔‘‘یہی عقیدہ علامہ عنایت اﷲ المشرقی رکھتے ہیں جو کہ اسلام کے سراسر خلاف ہے۔جواب میں بتایئے کہ نماز اصلی عبادت کیوں نہیں؟
(۳) حضرت امام مہدی علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام کے صعود یا نزول کے متعلق آپ کا کیا عقید ہ ہے؟
(۴) کیا مسیحؑ اور مہدی ؑ ایک ہی وقت میں نازل ہوں گے یاعلیحدہ علیحدہ وقتوں میں تبلیغ اسلام کریں گے؟
(۵) کیا امام مہدیؑ اور مسیحؑ ایک ہی وجود میں نازل ہوں گے یا علیحدہ علیحدہ وجود میں؟
(۶) اگر وہ ایک ہی وقت میں نازل ہوں گے تو وہ اپنا امیر کس کو بنائیں گے؟ اور ان میں کون دوسرے کی بیعت کرے گا اور کیوں؟
(۷) کیا مسیحؑ نبی اﷲ ہوں گے؟اگر ایسا ہے تو ان پر وحی ہونا لازم ہے یا نہیں؟اور وہ کس عقیدے کی تبلیغ کریں گے؟کیا اسلام کی یا عیسائیت کی؟
(۸) مسیحؑ کی حیات ووفات کے متعلق آپ اپنا عقیدہ قرآن وحدیث کی روشنی میںظاہر کریں۔ اسی طرح نزول وصعود کے متعلق ہمیں آپ کی تحریروں سے شبہ پڑتا ہے کہ مسیحؑ اور مہدی ؑ کے آپ منکر ہیں؟
جواب: آپ کا عنایت نامہ ملا۔آپ کے سوالات پر کچھ عرض کرنے سے پہلے میں آپ کو یہ نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اوّل تو اپنی دنیا وعافیت کی فکر چھوڑ کر دوسروں کے خیر وشر کے کھوج میں پڑنا ہی کوئی معقول کام نہیں ہے۔تاہم اگر آپ کو ایسا ہی کچھ شوق ہے کہ دوسروں کے عقائد کی ٹوہ لیتے پھریں یا کچھ ایسی ضرورت لاحق ہوگئی ہے کہ دوسروں کے متعلق رائے قائم کریں تو کم ازکم آپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی شخص کے متعلق کوئی اچھی یا بری رائے تحقیق کے بغیر قائم کرنا بہت بری بات ہے۔آج کل بہت سے پیشہ ور لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو خواہ مخواہ کسی فائدے کے لالچ کی بنا پر یا محض بغض وحسد کی بنا پر دوسروں کو بدنام کرنے کے لیے طرح طرح کے اشتہارات شائع کرتے ہیں اوران میں ہر قسم کی غلط باتیں دوسروں کی طرف منسوب کرکے خلق اﷲ کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان اشتہارات کو دیکھ کر اور ان کے غلط حوالوں کوپڑھ کر کسی شخص کے متعلق رائے قائم کرنے کے بجائے آپ کو خود وہ اصل کتابیں پڑھنی چاہییں جن میں اس شخص نے اپنے خیالات بیان کیے ہیں۔
اس نصیحت کے بعد آپ کے سوالات کے مختصر جوابات عرض کرتا ہوں:
(۱) آپ نے میری کتاب’’مسئلۂ جبر وقدر‘‘ کے جس فقرے کا حوالہ دے کر مجھ پر یہ الزام لگایا ہے کہ تم قضا وقدرکو جزوِ ایمان نہیں سمجھتے،وہ فقرہ میری عبارت کا نہیں ہے بلکہ اس شخص کی عبارت کا ہے جس کے سوالات کا جواب دینے کے لیے میں نے یہ کتاب لکھی ہے۔ آپ کے اس سوال سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو آپ نے میری اس کتاب کو خود نہیں پڑھا، یا پھر آپ اتنا بھی نہیں جانتے کہ ایک شخص اپنی کسی تحریر کے درمیان جس عبارت کو حاشیہ چھوڑ کر واوین کے درمیان نقل کرتا ہے،وہ اس کی اپنی عبارت نہیں ہوتی بلکہ دوسرے شخص کی عبارت ہوا کرتی ہے۔ اگر آپ نے یہ کتاب خود نہیں پڑھی ہے بلکہ کہیں سے سن سنا کر اس فقرے کے حوالے سے مجھ پر ایک الزام چسپاں کردیا ہے تو آپ خود ہی سوچ لیجیے کہ یہ حرکت کرکے آپ کیسی سخت بے انصافی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اور اگر آپ نے اس کتاب کو خود پڑھا ہے اور پھر بھی آپ یہ نہیں سمجھ سکے کہ جس عبارت کا ایک فقرہ آپ نقل کررہے ہیں،وہ میری عبارت نہیں بلکہ اس سائل کی عبارت ہے جس کا جواب دینے کے لیے میں نے اسے نقل کیا ہے،تو آپ فرمائیں کہ اس قابلیت اور سمجھ بوجھ کے آدمی کو آخر کیا ضرورت پڑی ہے کہ اتنے بڑے بڑے مسائل کے متعلق دوسروں کے عقائد کی صحت وعدم صحت کا فیصلہ کرنے بیٹھ جائے۔
(۲) سوال نمبر۲ میں آپ نے میرے رسالہ ’’تجدید واحیائے دین‘‘ کے حوالے سے جو اُدھورا فقرہ نقل کیا ہے، وہ ’’تجدید و احیائے دین‘‘ میں نہیں ہے،بلکہ میری ایک دوسری کتاب ’’اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر‘‘ میں ہے۔اس غلط حوالے سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ آپ نے میری کوئی کتاب بھی نہیں پڑھی ہے، بلکہ میرے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں سے کچھ سن سنا کر اپنی یہ ’’فردِ قرار دادجُرم‘‘ تصنیف کرڈالی ہے۔ پھر آپ کا یہ ارشاد کہ’’یہی عقیدہ علامہ عنایت اللہ خاں المشرقی بھی رکھتے ہیں‘‘… یہ راز منکشف کرتا ہے کہ آپ نہ مشرقی صاحب کے متعلق کچھ جانتے ہیں اور نہ میرے متعلق۔ براہِ کرم میری کتاب ’’اسلامی عبادات‘‘ کو کہیں سے حاصل کرکے خود پڑھیے۔ اس میں صفحہ ۶سے صفحہ۱۳ تک کی عبارات پڑھنے سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں، اور یہ بھی پتا چل جائے گا کہ مشرقی صاحب کیا کہتے ہیں۔
(۳) آپ کے سوالات نمبر۳،۴،۵،۶ اور نمبر۷کا جامع جواب یہ ہے کہ:
ظہور مہدی اور نزول مسیح ؑ کے بارے میں کثرت سے جو احادیث مروی ہیں،اُن سب کو جمع کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور اور مسیح ابن مریم علیہ السلام کا نزول دونوں ایک ہی زمانے میں ہوں گے۔یہ الگ الگ شخصیتیں ہوں گی۔ مسلمانوں کے امیر وامام مہدی علیہ السلام ہی ہوں گے۔مسیح ابن مریم علیہ السلام اس وقت ایک مستقل صاحب شریعت نبی کی حیثیت سے نہ ہوں گے بلکہ شریعت محمدیؐ کے متبع ہوں گے اور مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔
(۴) آپ کے آٹھویں سوال کا جواب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کی حیات ووفات کے متعلق میں اپنی تفسیر’’تفہیم القرآن‘‘ میں وضاحت کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔براہِ کرم سورۂ آلِ عمران، رکوع ۶ اور سورۂ نساء،رکوع ۲۲ کے حواشی پڑھ لیجیے۔ آپ کا یہ ارشاد کہ’’تمہاری تحریروں سے شبہ پڑتا ہے کہ تم مسیح ؑومہدی ؑ کے منکرہو‘‘ حوالے کا محتاج ہے۔ آپ کی بڑی عنایت ہوگی اگر میری ان تحریروں کی نشان دہی فرمائیں جن سے آپ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔نیز اگر مضائقہ نہ ہو تو یہ بھی ساتھ ہی فرماد یں کہ وہ تحریریں آپ نے خود پڑھی ہیں یا کسی سے آپ نے یہ باتیں سن کر لکھ دیں۔
آپ برا نہ مانیں اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ درحقیقت آپ کے سوالات جواب دینے کے لائق نہ تھے،مگر ان کا جواب صرف اس لیے دے رہا ہوں کہ ان غلط فہمیوں کا ازالہ ہو جو بعض غرض پرست علما اپنی افترا پردازیوں سے سادہ لوح عوام کے دلوں میں پیدا کررہے ہیں۔
(ترجمان القرآن۔جمادی الاولیٰ تارجب ۳۷۰اھ۔ مارچ تا مئی ا۹۵اء)