مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

جرابوں پر مسح:

سوال: موزوں اور جرابوں پر مسح کے بار ے میں علما میں اختلاف پایا جاتا ہے۔میں آج کل تعلیم کے سلسلے میں سکاٹ لینڈ کے شمالی حصے میں مقیم ہوں۔یہاں جاڑے کے موسم میں سخت سردی پڑتی ہے اور اونی جراب کا ہر وقت پہننا ناگزیر ہے۔کیا ایسی جراب پر بھی مسح کیا جاسکتا ہے؟براہِ نوازش اپنی تحقیق احکام شریعت کی روشنی میں تحریر فرمائیں۔

جواب: جہاں تک چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کا تعلق ہے،اس کے جواز پر قریب قریب تمام اہل سنت کا اتفاق ہے۔ مگر سوتی اور اونی جرابوں کے معاملے میں عموماً ہمارے فقہا نے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ موٹی ہوں اور شفاف نہ ہوں کہ ان کے نیچے سے پائوں کی جلد نظر آئے،اور وہ کسی قسم کی بندش کے بغیر خود قائم رہ سکیں۔

میںنے اپنی امکانی حد تک یہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ ان شرائط کا ماخذ کیا ہے، مگر سنت میں ایسی کوئی چیز نہ مل سکی۔سنت سے جو کچھ ثابت ہے،وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں اور جوتو ں پر مسح فرمایا ہے۔ نسائی کے سوا کتب سنن میں اور مسند احمد میں مغیرہ ؓبن شعبہ کی روایت موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مَسَحَ عَلَی الجوربین والنعلین(اپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمایا)۔ ابو دائود کا بیان ہے کہ حضرت علی ؓ،عبداﷲؓ بن مسعود، براء بن عازب، انسؓ بن مالک، ابوامامہؓ، سہلؓ بن سعد اور عمروؓبن حریث نے جرابو ں پر مسح کیا ہے۔ نیزحضرت عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ فعل مروی ہے۔ بلکہ بیہقی نے ابن عباسؓ اور انسؓ بن مالک سے اور طحاوی نے اوس بن ابی اوس سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ حضورؐ نے صرف جوتوں پر مسح فرمایا ہے۔اس میں جرابوں کا ذکر نہیں ہے۔ اور یہی عمل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ان مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف جراب اور صرف جوتے اور جرابیں پہنے ہوئے جوتے پر مسح کرنا بھی اسی طر ح جائز ہے جس طرح چمڑے کے موزوں پر مسح کرنا۔ ان روایات میں کہیں یہ نہیں ملتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فقہا کی تجویز کردہ شرائط میں سے کوئی شرط بیان فرمائی ہو، اور نہ یہی ذکر کسی جگہ ملتا ہے کہ جن جرابوں پر حضورؐنے اور مذکورۂ بالا صحابہ نے مسح فرمایا،کس قسم کی تھیں۔اس لیے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ فقہا کی عائد کردہ ان شرائط کا کوئی ماخذ نہیں ہے۔ اور فقہا چوں کہ شارع نہیں ہیں،اس لیے ان کی شرطوں پر اگر کوئی عمل نہ کرے تو وہ گناہ گار نہیں ہوسکتا۔

امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کی رائے یہ ہے کہ جرابوں پر اس صورت میں آدمی مسح کرسکتا ہے جب کہ آدمی جوتے اوپر سے پہنے رہے۔لیکن اوپر جن صحابہ کے آثار نقل کیے گئے ہیں،ان میں سے کسی نے بھی اس شرط کی پابندی نہیں کی ہے۔

مسح علی الخفین پر غور کرکے میں نے جو کچھ سمجھا ہے،وہ یہ ہے کہ دراصل یہ تیمم کی طرح ایک سہولت ہے جو اہل ایمان کو ایسی حالتوں کے لیے دی گئی ہے جب کہ وہ کسی صورت سے پائوں ڈھانکے رکھنے پر مجبور ہوں اور بار بار پائوں دھونا ان کے لیے موجب نقصان یا وجہ مشقت ہو۔اس رعایت کی بنا اس مفروضے پر نہیں ہے کہ طہارت کے بعد موزے پہن لینے سے پائوں نجاست سے محفوظ رہیں گے،اس لیے ان کو دھونے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ بلکہ اس کی بنا اﷲ کی رحمت ہے جو بندوں کو سہولت عطا کرنے کی مقتضی ہوئی۔لہٰذا ہر وہ چیز جو سردی سے یا راستے کے گرد وغبار سے بچنے کے لیے یا پائوں کے کسی زخم کی حفاظت کے لیے آدمی پہنے اور جس کے بار بار اُتارنے اور پھر پہننے میں آدمی کو زحمت ہو،اس پر مسح کیا جاسکتا ہے،خواہ وہ اونی جراب ہویا سوتی،چمڑے کا جوتا ہو یا کرمچ کا،یا کوئی کپڑا ہی ہو جو پائوں پر لپیٹ کر باندھ لیا گیا ہو۔

میں جب کبھی کسی کو وضو کے بعد مسح کے لیے پائوں کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ بندہ اپنے خدا سے کہہ رہا ہے کہ’’حکم ہو تو ابھی یہ موزے کھینچ لوں اور پائوں دھو ڈالوں، مگر چوں کہ سرکار ہی نے رخصت عطا فرما دی ہے،اس لیے مسح پر اکتفا کرتا ہوں۔‘‘ میرے نزدیک دراصل یہی معنی مسح علی الخفین وغیرہ کی حقیقی روح ہیں اور اس روح کے اعتبار سے وہ تمام چیزیں یکساں ہیں جنھیں ان ضروریات کے لیے آدمی پہنے جن کی رعایت ملحوظ رکھ کر مسح کی اجازت دی گئی ہے۔ (ترجمان القرآن۔رمضان،شوال ا۳۷اھ۔ جون،جولائی۹۵۲اء)