مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

شکار کرنے اور شکار کھیلنے میں فرق:

سوال: امیر لوگ آج کل جس طرح شکار کھیلتے ہیں،اسے دیکھ کر دل بے قرار ہوتا ہے۔ سابق زمانہ میں تو شاید لوگ قوت لایموت کے لیے شکار کو ذریعہ بناتے ہوں گے۔مگر آج کل تو یہ ایک تفریح اور تماشا ہے۔بعض لوگ جنگل یا کسی کھیت میں جال لگا کر خرگوش پکڑتے ہیں،پھر ان کو بوریوں میں ڈال کر کسی میدان میں لے جاتے ہیں اور ان کے پیچھے کتے چھوڑتے ہیں۔ خرگوش کو کھلی جگہ میں کوئی جائے پناہ نہیں ملتی تو وہ دوڑ دوڑ کر ہار جاتا ہے اور کتے اسے پھاڑ ڈالتے ہیں۔اس پر خوب تفریح کی جاتی ہے۔یہ بھی دریافت طلب ہے کہ بندوق سے شکار کرنا کیسا ہے؟اس معاملے میں میرے سامنے پارۂ دوم کی یہ آیت ہے کہ وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْہَا وَيُہْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَo البقرہ 205:2 کتب فقہ میں یہ مسئلہ جو درج ہے کہ تکبیر پڑھ کر شکار پر کتا چھوڑا جائے یا بندوق چلائی جائے تو شکاراگر زخمی ہوکر بغیر ذبح کیے مرجائے تو بھی وہ حلال ہے،اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟

جواب: شکار کھیلنا میرے نزدیک مکروہ ہے،البتہ شکار کرنا جائز ہے۔شکار کرنے اور کھیلنے میں فرق یہ ہے کہ جو شکار کھانے کے لیے کیا جائے، خواہ بہ ضرورت ہو یا بلا ضرورت،وہ جائزہے۔ اور جو شکار محض تفریحاً کیا جائے اور جس میں خواہ مخواہ جانوروںکی جانیں ہلاک کی جائیں،وہ اگر ناجائز نہیں تو مکروہ ضرور ہے۔

کسی جانور پر اگر شکار ی کتے یا دوسرے شکاری جانور کو اﷲ کا نام لے کر چھوڑاجائے اور وہ شکاری جانور کے حملے سے مرجائے تو اس کا کھانا ازروئے قرآن جائز ہے۔ اور اگر تیراﷲ کا نام لے کر چھوڑا جائے اور اس کی ضرب سے جانور مر جائے تو اس کا کھانا ازروئے حدیث جائز ہے۔ پہلی چیزکی دلیل سورۂ مائدہ کے پہلے رکوع میں موجود ہے اور دوسری چیز کی دلیل کے لیے حدیث کی کسی کتاب میں ’’کتاب الصید‘‘ نکال کر دیکھ لیجیے۔بندوق کے متعلق آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ کتب فقہ میں مذکور نہیں ہے۔ (ترجمان القرآن۔ رجب،شعبان ا۳۷اھ۔ اپریل،مئی۹۵۲اء)