رسائل ومسائل – جلد دوم
اشاعت: 1954ءمجموعہ: رسائل ومسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اہل سنت اور اہل تَشَیُّع کا اختلاف:
سوال: میں نے ایک دین دار شیعہ عزیز کی وساطت سے مذہب شیعہ کی بکثرت کتب کا مطالعہ کیا ہے۔شیعہ سنی اختلافی مسائل میں سے جو اختلاف نماز کے بارے میں ہے،وہ میرے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔میں اپنے شکوک آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ تفصیلی جواب دے کر ان کا ازالہ فرمائیں۔
میرے شبہات نماز کی ہیئت قیام سے متعلق ہیں۔نماز اوّلین رکن اسلام ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ قیام میں ہاتھ باندھنے یا چھوڑ دینے کے بارے میں ائمۂ اربعہ کے مابین اختلاف ہے۔ اور پھر افسوس اس امر کا ہے کہ ارشاد نبوی ’’انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اللّٰہ و عترتہ‘‘ کے باوجود ائمۂ اہل سنت نے رفع اختلاف کے لیے اہل بیت کی طرف رجوع نہیں کیا، حالاں کہ امام اعظمؒ اور امام مالکؒ،امام جعفر صادقؒ کے معاصر بھی تھے۔اس طرح رسولؐ کے گھر والوں کو چھوڑ کر دین کے سارے کام کو غیر اہل بیت پر منحصر کردیا گیا اور مسائل دین میں اہل بیت سے تمسک کرنا تو درکنار، ان سے احادیث تک نہیں روایت کی گئیں،حالاں کہ بقول ’’صاحب البیت ادریٰ بما فی البیت‘‘ دین کا اصل منبع ائمہ اہل بیت تھے۔ امام ابوحنیفہؒ و مالکؒ کا انحصار محض روایات پر تھا۔برعکس اس کے امام جعفر صادقؒ نے اپنے والد امام باقرؒ کو،انھوں نے زین العابدین کو اور انھوں نے حسینؓ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ وہ قیام میں کیسے کھڑے ہوتے تھے۔شنیدہ کے بودمانند دیدہ۔ائمۂ اہل بیت کی طرف اسی عدم رجوع کا نتیجہ ہے جو اہل سنت کے اختلافات کی شکل میں رونما ہوا ہے۔
جواب:آپ کا سوال تو صرف نماز کے بارے میں ہے، مگر آپ نے اس کے متعلق اپنی اُلجھن کی جن بنیادوں کا ذکر کیا ہے،وہ دُور تک پہنچی ہوئی ہیں۔اس لیے ان بنیادوں پر بحث کرنی ناگزیر ہے۔
آپ کی اُلجھن کا نقطۂ آغاز یہ حدیث ہے کہ ’’انی تارک فیکم الثقلین…الخ‘‘۔ اس کے متعلق آپ کو سب سے پہلے تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ حدیث مختلف الفاظ میں مختلف سندوں سے روایت ہوئی ہے جن میں سے بعض ضعیف ہیں اور بعض قوی۔ سب سے زیادہ قوی سند سے اور تفصیل کے ساتھ جو روایت آئی ہے وہ حضرت زیدؓ بن ارقم سے مسلم میںمروی ہے۔ اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ نبیؐ نے غدیر خم کے مقام پر تقریر کرتے ہوئے فرمایاکہ’’لوگو! میں ایک انسان ہوں،ہوسکتا ہے کہ اﷲ کا فرستادہ( قضا کا پیغام لے کر) جلدی ہی آجائے،او رمیں اس پر لبیک کہوں(یعنی دنیا سے رخصت ہوجائوں)میںتمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ پہلی اس میں سے کتاب اﷲ ہے جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔پس تم کتاب اﷲ کو لواور اسے مضبوط تھامو۔‘‘اس سلسلے میں آپ ؐنے حاضرین کو کتاب اﷲ کی پیروی پر اُبھارااور اس کی طرف رغبت دلائی۔پھر فرمایا: ’’اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں اپنے اہل بیت کے معاملے میں تم کو اﷲ کی یاد دلاتا ہوں۔‘‘ اس حدیث میں کوئی اشارہ اس طرف نہیں ہے کہ کتاب اﷲ کے بعد بس میرے اہل بیت ہی ہیں جن سے تمھیں اپنا دین سیکھنا چاہیے اور جن کی پیروی پرحصر کرنا چاہیے۔بلکہ اس سے معلوم ہوتاہے کہ ان دونوں چیزوں کو ثقلین( بھاری چیزیں) دو الگ الگ معنوں میں فرمایا گیا ہے۔کتاب اﷲ اس لیے بھاری چیز ہے کہ وہی ہدایت کا سرچشمہ ہے اور اسے چھوڑنا یا اس سے منحرف ہونا تباہی وضلالت کا موجب ہے۔ اور اہل بیت کو بھاری اس لیے فرمایا کہ ہمیشہ اکابر نوع انسانی کے اہل بیت ان کے پیروئوں کے لیے سخت وجہ آزمایش ثابت ہوئے ہیں۔ کسی نے ان کے حق میں افراط کی ہے اور غلو کرکے پیر زادوں کو معبود بنا ڈالا ہے۔ اورکسی نے ان کے حق میں تفریط کی ہے اوران پر ظلم وستم ڈھائے ہیں، تاکہ اُمت کو جو فطری عقیدت اپنے رہبر اور ہاد ی کے خاندان والوں سے ہوتی ہے،اس کو زبردستی دبایا جائے۔اسی غرض کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں اپنے اہل بیت کے معاملہ میں تم کو خدا کی یاد دلاتا ہوں۔ یعنی ان کے معاملے میں خدا سے ڈرو اور افراط و تفریط کے پہلو اختیار کرنے سے بچو۔
دوسرے،اگر بالفرض مان لیا جائے کہ حضورؐ نے اپنی عترت یا اہل بیت(دونوں ہی الفاظ حدیث میں آئے ہیں) سے دین سیکھنے کا ہی حکم دیا ہے تو ان الفاظ کا مفہوم آخر صرف اولاد علیؓ تک ہی کیوں محدود کردیا گیا؟اس میں ازروئے قرآن ازواج نبی بھی داخل ہیں اور ان میں آلِ جعفر،آلِ عقیل، آلِ عباس اور تمام بنو ہاشم بھی داخل ہیں جن پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ حرام کیا۔
تیسرے یہ کہ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہی نہیں فرمایا ہے کہ ترکت فیکم الثقلین…بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین‘‘ (میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت پر چلو)، او ریہ بھی فرمایا ہے کہ: ’’اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم‘‘ (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں،ان میں سے جس کسی کی پیروی کرو گے ہدایت پائو گے)۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کو تولیا جائے اور دوسرے ارشادات کو چھوڑ دیا جائے؟ کیوں نہ اہل بیت سے بھی علم حاصل کیا جائے اور ان کے ساتھ خلفائے راشدین اور اصحاب نبی (رضی اللہ عنہم)سے بھی؟
چوتھے یہ کہ عقل بھی کسی طرح یہ باور نہیں کرسکتی کہ تیئس سال کے دوران میں جو عظیم الشان کام نبی نے سیکڑوں ہزاروں آدمیوںکی شرکت ورفاقت میں سرانجام دیا اور جسے لاکھوں آدمیوں نے اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا،اس کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں صرف آپ کے گھر والوں پر ہی حصر کرلیا جائے اور ان بہت سے دوسرے لوگوں کو نظر انداز کردیا جائے جو اس کام میں شریک ہوئے اور جنھوں نے اسے دیکھا۔ حالاں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے خواتین کو اگر موقع ملا ہے تو زیادہ تر آپ کی خانگی زندگی دیکھنے کا موقع ملا ہے، اور مردوں میں ایک حضرت علیؓ کے سوا کوئی دوسرا ایسا نہیں ہے جسے آپ کی رفاقت کا اتنا موقع ملا ہو جتنا حضرت ابوبکر، عمر، عثمان ،ابن مسعود رضی اللہ عنہم اور دوسرے بہت سے صحابہ کو ملا۔پھر آخر محض اہل بیت ہی پر حصر کرلینے کی کون سی معقول وجہ ہے؟
اس سوال کو رد کرنے کے لیے بالآ خر ایک گروہ کو یہ کہنا پڑا کہ گنتی کے چند آدمیوں کے سوا باقی تمام صحابہ، معاذ اﷲ، منافق تھے۔مگر یہ بات صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جو تعصب میں اندھا ہوچکا ہو۔ جسے نہ اس بات کی پروا ہو کہ تاریخ اس کی تمام خاک اندازیوں کے باوجودکس طرح اس کے قول کو جھٹلا رہی ہے، اور نہ اس امر کی پروا ہو کہ اس قول سے خود سرکار رسالت مآبؐ اور آپؐ کے مشن پر کیسا سخت حرف آتا ہے۔کون معقول آدمی یہ تصور کرسکتا ہے کہ نبیؐ نے ۲۳سال تک اپنے جن رفقا پر پورا اعتماد کیا اور جنھیں ساتھ لے کر عرب کی اصلاح کا اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا وہ سب منافق تھے؟پھر کیا حضورؐ ان کے نفاق سے آخر وقت تک بے خبر رہے؟ اگر یہ سچ ہے تو حضورؐ کی مردم شناسی وفراست مشتبہ ہوئی جاتی ہے۔ اور اگر یہ غلط ہے، اور یقینا غلط ہے، تو آخر کیوں دین کا علم حاصل کرنے میں ان سب کی معلومات معتبر نہ ہوں؟
آپ کی اُلجھن کا دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ آپ کو کسی نے بالکل غلط باور کرادیا ہے کہ ائمۂ اہل سنت نے مسائل دین کی تحقیق میں نہ اہل بیت کی طرف رجوع کیا،نہ ان سے کوئی مسئلہ پوچھا اور نہ ان سے حدیث کی کوئی روایت لی۔ یہ غلطی حضرات اہل تَشَیُّع نے تو ضرور کی ہے کہ معلومات کے ایک ہی ذریعے( یعنی اہل بیت… جنھیں انھوں نے اہل بیت مانا) پر حصر کرلیا اور دوسرے تمام ذرائع کو چھوڑ دیا۔مگرائمۂ اہل سنت نے یہ غلطی نہیں کی۔ انھوں نے وہ علم بھی لیا ہے جو اہل بیت کے پاس تھا اور وہ بھی لیا جو دوسرے صحابۂ کرامؓ کے پاس تھا، او رپھر پوری چھان بین کے بعد اپنے اپنے طرزِ تحقیق کے مطابق فیصلہ کیا ہے کہ کس مسئلے میں کون سا طریقہ زیادہ صحیح اور معتبر ہے۔
مثال کے طور پر امام ابوحنیفہؒ ہی کو لیجیے۔وہ جہاں دوسرے صحابہ وتابعین سے علم حاصل کرتے ہیں وہاں امام محمد باقر، امام جعفر صادقؒ، حضرت زید بن علی بن حسینؓ اور محمد بن حنفیہ کے علم سے بھی استفادہ کرتے ہیں۔یہی حال دوسرے فقہا اور محدثین کا بھی ہے۔ حدیث کی کون سی کتاب ہے جس میں بزرگان اہل بیت کی روایات نہ پائی جاتی ہوں۔
لیکن یہ کہنا کہ نماز یا کوئی دوسری چیز صرف وہی لی جاتی جو امام جعفر صادقؒ کے پاس تھی،کیوں کہ انھوں نے امام محمد باقرؒ سے اور انھوں نے امام زین العابدینؒ سے، اور انھوں نے امام حسینؓ سے اور انھوں نے حضرت علیؓ سے اور انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے لیا تھا،صحیح نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر اسی ذریعے پر حصر کیوں کیا جائے؟ دوسرے ہزاروں لوگ بھی تو موجود تھے جنھوں نے نمازیں پڑھتے ہوئے اور دوسرے دینی کام کرتے ہوئے سیکڑوں تابعین کو اور انھوں نے سیکڑوں صحابہ کو دیکھا تھا اور ان سب نے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے یہی کام کرتے دیکھا تھا۔ آخر ان کو چھوڑنے اور صرف اہل بیت سے تمسک کرنے کی کیا وجہ ہے؟ صاحب البیت ادریٰ بما فیہ کوئی آیت قرآنی یا حدیث تو نہیں ہے کہ اس کی پیروی اختیار کرکے اس نبی کی زندگی کے بارے میں صرف اس کے گھر والوں کے علم پر انحصار کرلیا جائے جس کی زندگی کا ننانوے فی صدی حصہ گھر سے باہر ہزاروں لاکھوں آدمیوں کے سامنے گزرا ہے اور جس سے ہزارہا آدمیوں کو مختلف احوال ومعاملات میں کسی نہ کسی طور پر سابقہ پیش آیا ہے۔
آپ کی اُلجھن کی تیسری وجہ یہ ہے کہ آپ مسائل دینی میں اختلافات کو دیکھ کر گھبرا اُٹھے ہیں اور یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ یہ اختلافات نہ ہوتے اگر صرف اہل بیت کے علم پر اکتفا کرلیا جاتا۔حالاں کہ یہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ نہ اختلافات کوئی گھبرانے کی چیز ہیں اور نہ اہل بیت کے متبعین ہی اختلاف سے بچ سکے ہیں۔آ پ اگر حضرات شیعہ کے مختلف فرقوں کے عقائد اور ان کے فقہی مذاہب کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو کہ ان کے ہاں اس سے زیادہ اختلافات ہیںجتنے اہل سنت میں پائے جاتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اپنے مسلک کا ماخذ اہل بیت ہی کے علم کو قرار دیتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ جس دین کو کروڑوں انسان اختیار کریں اور جس کے مآخذ کا ہزاروں لاکھوں انسان مطالعہ کرکے غور وفکر کریں،اس کی نصوص کی تعبیر اور احکام کی تفصیل اور جزئیات کی تحقیق میں کامل اتفاق کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے۔اختلاف تو ایسی صورت میں فطرتاً پیدا ہوتا ہے اور اس کے رونما ہونے کو روکا نہیں جاسکتا۔ لیکن ان بے شماراختلافات کے اندر ایک جوہری وحدت ہوتی ہے،اور وہ ان اساسی عقائد واُصول اور ان بڑے بڑے احکام کی بنیاد پر ہوتی ہے جن میں سب متفق پائے جاتے ہیں۔اگر لوگ اصل اہمیت اس بِنائے وحدت کودیں اور جزوی اختلافات کو اپنی جگہ پر رکھیں تو کوئی قباحت واقع نہیں ہوتی۔ مگر جب لوگوں کے لیے اصل اہمیت ان جزوی اُمور کی ہوجاتی ہے جن میں وہ آپس میں مختلف ہیں،اور بِنائے وحدت کو وہ خفیف سمجھنے لگتے ہیں تو پھر تفرقہ رونما ہوتا ہے۔
مثلاًنماز ہی کو لیجیے جس کے بارے میں آپ دریافت کررہے ہیں۔ اس میں بِنائے وحدت یہ ہے کہ سب مسلمان اﷲ واحد ہی کی عباد ت کرتے ہیں،اس کے طریق ادا کا ماخذ اسی نماز کو مانتے ہیں جو نبیؐ نے سکھائی،پانچ وقت کی نماز فرض مانتے ہیں، ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں،وضو کو اس کے لیے شرط تسلیم کرتے ہیں،رکوع،سجدہ، قیام، قعدہ کو اس کی ہیئت کے اجزا مانتے ہیں،اور اس میں تلاوت قرآن اور اﷲ کا ذکر کرتے ہیں۔اس بِنائے وحدت کے بعد ان میں اختلافات کن چیزوں میں ہیں؟ہاتھ کہاں باندھے جائیں۔ باندھے جائیں یا کھولے جائیں۔ آمین زور سے کہی جائے یا آہستہ۔امام کے پیچھے فاتحہ پڑھیں یا نہ پڑھیں وغیرہ۔ ان جزوی اُمور میں جتنے بھی مختلف مذاہب ہیں،ان میں سے ہر ایک اپنے پاس یہ دلیل رکھتا ہے کہ اس کا طریقہ کسی نہ کسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے،اور وہ اپنی سند پیش کرتا ہے۔قطع نظر اس سے کہ کس کی سند ضعیف ہے او رکس کی قوی، دیکھنا یہ ہے کہ ہر ایک کے پاس آخر نبی اکرمؐ ہی کی سند تو ہے۔ کسی نے یہ تو نہیں کہا کہ میں حضورؐ کے سوا کسی اور کی سند پر یہ کام کرتا ہوں۔ پھر آخر کیا مضائقہ ہے اگر ہم ایک طریقے پر (جس پر بھی ہمارا اطمینان ہو)عمل کرتے ہوئے دوسرے کے طریقے کو بھی مبنی برحق سمجھیں اور بِنائے وحدت پر متفق رہیں؟
(ترجمان القرآن۔ رمضان،شوال ا۳۷اھ۔ جون،جولائی۹۵۲اء)