مرکزی مواد پر جائیں
رسائل ومسائل کی طرف واپس

رسائل ومسائل – جلد دوم

اشاعت: 1954ء

مجموعہ: رسائل ومسائل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

رسائل ومسائل کی جلد دوم۔ اس جلد میں 99 سوالات و جوابات شامل ہیں، جن کی ابتدا «چند احادیث پر اعتراض اور اس کا جواب»، «کیا روزے کی طاقت رکھنے کے باوجود فدیہ دیا جاسکتاہے؟»، «منکرین حدیث کا ایک اور اعتراض»، «مچھلی کے بلا ذبح حلال ہونے کی دلیل»، «قتلِ مرتد کے مسئلے پر ایک اعتراض»، «سحر کی حقیقت اور معوذتین کی شان نزول» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نسخ فی القرآن:

سوال: نسخ کے بارے میں مندرجۂ ذیل سوالات پر براہِ کرم روشنی ڈالیں:

(۱) قرآن میں نسخ کے بارے میں آپ کی تحقیق کیا ہے؟کیا کوئی آیت مصحف میں ایسی بھی ہے جس کی تلاوت تو کی جاتی ہو مگر اس کا حکم منسوخ ہو۔

(۲) کیاقرآن کی کوئی آیت ایسی بھی ہے جو منسوخ التلاوۃ ہو مگر اُس کا حکم باقی ہو؟محدثین وفقہا نے آیت رجم کو بطور مثال پیش کیا ہے۔

(۳) اُصول فقہ کی کتابوںمیں لکھا ہے کہ حدیث قرآن کو منسوخ کرسکتی ہے۔کیا یہ نظریہ ائمۂ فقہا سے ثابت ہے؟اگر ہے تو اس کا صحیح مفہوم کیا ہے؟

جواب: آپ کے سوالات تو مختصر ہیں مگر ان کے جواب کے لیے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے جس کی فرصت مجھے حاصل نہیں ہے۔اس لیے مجمل جوابات پر ہی قناعت کرتاہوں:

(۱)قرآن میں نسخ دراصل تدریج فی الاحکام کی بنیاد پر ہے۔یہ نسخ ابدی نہیں ہے۔متعدد احکام منسوخہ ایسے ہیں کہ اگر معاشرے میں کبھی ہم کو پھر ان حالات سے سابقہ پیش آجائے جن میں وہ احکام دیے گئے تھے تو انھی احکام پر عمل ہوگا۔وہ منسوخ صرف اُسی صورت میں ہوتے ہیں جب کہ معاشرہ ان حالات سے گزر جائے اور بعد والے احکام کو نافذ کرنے کے حالات پیدا ہوجائیں۔

(۲)میرے نزدیک قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جو منسوخ التلاوۃہو اور بس اس کا حکم باقی ہو۔آیت رجم جس کا ذکر بعض روایات میں آیا ہے،دراصل ایک دوسری کتاب اﷲ یعنی تورات کی آیت تھی،نہ کہ قرآن کی۔ اس آیت کے نسخ سے مراد یہ ہے کہ جس کتاب میں یہ آیت تھی،اُس کتاب کو تو منسوخ کردیا گیا مگر اس کے رجم کے حکم کو باقی رکھا گیا۔

(۳)بلاشبہ فقہا کا ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ سنت قرآن کی ناسخ اور اس پر قاضی ہے،لیکن اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو ظاہر الفاظ سے متبادر ہوتا ہے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح سے قرآن مجید کا ایک خاص حکم عام ہوسکتاہے،بالکل اسی طرح آپ کی قولی یا عملی تشریح یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی خاص آیت کا حکم باقی نہیں رہا ہے۔اس مفہوم کے علاوہ اگر اس اُصول سے کوئی دوسرا مفہوم اخذ کیا گیاہے تو وہ صحیح نہیں ہے۔

(ترجمان القرآن، شعبان، رمضان۳۷۲اھ، مطابق مئی،جون۹۵۴اء)