تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
خلاصۂ کلام
اب میں اپنے مدعا کی تسہیل کے لیے مناسب سمجھتا ہوں کہ پچھلے مباحث کا ایک خلاصہ آپ کے سامنے پیش کردوں، تاکہ بیک نظر آپ کو معلوم ہو جائے کہ اقامت جمعہ
فی القریٰ کے لیے جو نظام میں تجویز کر رہا ہوں، وہ کہاں تک مسلکِ حنفی کے خلاف یا موافق ہے۔
(۱) حنفیہ کے نزدیک الگ الگ دیہات میں جمعہ قائم کرنا جائز نہیں ...... میں بھی اسی کا قائل ہوں۔
(۲) حنفیہ کی رائے میں جمعہ صرف ”مصر جامع“ میں قائم ہونا چاہیے ...... میں اس امر میں بھی ان کا متبع ہوں۔
(۳) حنفیہ صرف دو قسم کے مقامات کو مصر جامع تسلیم کرتے ہیں۔ ایک وہ جن کو تمدّن نے خود بخود جامع بنا دیا ہو، جیسے شہر اور قصبے۔ دوسرے وہ جن کو امامِ وقت جمعہ قائم کرنے کے لیے مصر ٹھہرا دے ...... اس میں صرف اتنی ترمیم میں نے تجویز کی ہے کہ جہاں امام موجود نہ ہو، وہاں عامۃ المسلمین کے اتفاق کو امام کا قائم مقام قرار دیا جائے ، اور ان کے اس اختیار کو تسلیم کیا جائے کہ وہ کسی علاقے میں کسی مقام کو مصر جامع قرار دے لیں، چونکہ اقامتِ جمعہ کے معاملے میں حنفیہ نے مسلمانوں کی تراضی کو امام کا قائم مقام تسلیم کیا ہے، لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ تعیینِ مصر کے معاملے میں ایسا کرنا حنفیہ کے اصول کے خلاف سمجھا جائے۔
(۴) حنفیہ نے دیہاتیوں کے حق میں جمعہ کی عدم فرضیت کا حکم اس لیے لگایا ہے کہ اُمرا و سلاطین نے اقامتِ جمعہ کے لیے کوئی نظام قائم کرنے سے بے پروائی برتی، جس کی وجہ سے جمعہ محض پہلی قسم کے امصارِ جامعہ، یعنی شہروں اور بڑے بڑے قصبوں تک محدود ہو کر رہ گیا، اور چونکہ شہر دور دور ہوتے ہیں، اس لیے مجبوراً حنفیہ کو یہ فتویٰ دینا پڑا کہ دیہات کے باشندوں پر جمعہ فرض نہیں۔ ورنہ یہ ظاہر ہے کہ دیہاتی کا محض دیہاتی ہونا، اس پر سے جمعہ کے ساقط ہونے کا سبب نہیں ہے۔ چنانچہ جو دیہات توابعِ مصر میں ہوں، یعنی ”مصر“ سے ۷، ۸ یا ۹ میل کی حد میں ہوں، ان پر حنفیہ کے نزدیک جمعہ اسی طرح فرض ہے جس طرح اہلِ مصر پر فرض ہے ...... میں کہتا ہوں کہ جو فتویٰ اس مجبوری کی بنا پر دیا گیا ہے، اس کے سبب کو دور کرنا ہم پر لازم ہے، تاکہ سبب زائل ہونے کے ساتھ فتویٰ خود بخود زائل ہو جائے۔ اور مسلمانوں کے لیے ایک فرضِ مکتوب کے ادا کرنے کا راستہ کھلے۔ بخلاف اس کے بعض علما فرماتے ہیں کہ سبب کو قائم رکھو تا کہ وہ پرانا فتویٰ جو قدامت کی وجہ سے مقدس ہو چکا ہے، اٹل رہے، چاہے فرضِ مکتوب کی رحمتوں سے کروڑوں مسلمان محروم رہ جائیں۔