مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

فقہائے اُمت کی آراء

قرآن اور حدیث کے ان دلائل کی بنا پر فقہائے اُمت نے بقرعید کی قربانی کے متعلق بالاتفاق یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک مشروع فعل ہے اور سنن اسلام میں سے ہے۔ اختلاف اگر ہے تو اس میں کہ یہ واجب ہے یا نہیں، مگر اس کا مشروع اور سنت ہونا متفق علیہ ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں مذاہب فقہا کا خلاصہ اس طرح بیان کرتے ہیں :

اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ بقرعید کی قربانی شرائع دین میں سے ہے۔ شافعیوں اور جمہور کے نزدیک یہ سنتِ مؤکدہ ہے بطریق کفایت ۔ اور شافعیہ میں ایک دوسری رائے یہ ہے کہ فرضِ کفایہ ہے ۔ امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ مقیم اور خوش حال آدمی پر واجب ہے۔ امام مالک کی رائے بھی ایک روایت کی رُو سے یہی ہے، مگر اُنھوں نے مقیم کی قید نہیں لگائی ہے۔ اوزاعی ، ربیعہ اور لیث کی بھی یہی رائے ہے۔ حنفیوں میں ابو یوسف اور مالکیوں میں اشہب نے جمہور کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل کی رائے یہ ہے کہ قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ ہے ۔ ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ قربانی کرنا واجب ہے ۔ امام محمد کہتے ہیں کہ قربانی ایک ایسی سنت ہے جسے چھوڑ دینے کی اجازت نہیں ہے۔ (ج ۱۰ ص ۲)

اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تک قربانی کے سنت اور مشروع ہونے کا تعلق ہے یہ مسئلہ ابتدا سے اُمت میں متفق علیہ ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں رہا ہے۔