مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نبیؐ کا عمل

اب ہم کو دیکھنا چاہیے کہ نبیؐ نے <<فَاِمَّا مَنًّاۢ بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً>> (اور) <<مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ>> کا کیا مفہوم سمجھا، اور اس پر کس طرح عمل کیا۔

بنی قریظہ کے حق میں حضرت سعدؓ بن معاذ نے فیصلہ کیا کہ ان کے بالغ مرد قتل کیے جائیں اور عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے۔ آنحضرتؐ نے اس فیصلے کو نافذ فرمایا۔

خیبر کی جنگ میں بہت سی عورتیں گرفتار ہوئیں اور وہ مسلمانوں میں تقسیم کی گئیں۔ اُمّ المومنین حضرت صفیہؓ انھی عورتوں میں سے تھیں۔

غزوہ حنین میں ۶ ہزار عورتیں اور بچے قید ہوئے۔ بعد میں ہوازن کا وفد حاضر ہوا اور اُس نے اُن کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ جو میرے اور بنی عبدالمطلب کے قبضے میں ہے، ان کو میں احسان کے طور پر رہا کرتا ہوں، مگر دوسروں کے معاملے میں حکم دینے کا مجھے حق نہیں۔ صرف سفارش کر سکتا ہوں۔ چنانچہ حضورؐ کی سفارش پر انصار اور مہاجرین نے اپنے اپنے حصے کے لونڈی غلاموں کو چھوڑ دیا، مگر بنو تمیم اور بنو فزارہ اور بنو سلیم کے نمائندوں نے انکار کیا۔ آخر کار حضورؐ نے اُن سے وعدہ کیا کہ بعد کی لڑائیوں میں جو لونڈی غلام ہاتھ آئیں گے، ان میں ہم تم کو ایک کے بدلے چھہ چھہ دیں گے۔ تب وہ ہوازن کے قیدیوں کو چھوڑنے پر راضی ہوئے۔

اوطاس کے سبایا کا اوپر ذکر ہو چکا ہے جن کے حق میں قرآن مجید کی آیت <<وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ>> (النساء 24:4) نازل ہوئی۔

اس میں شک نہیں کہ حضورؐ نے بعض مواقع پر قیدیوں کو احسان کے ساتھ رہا بھی کیا ہے، کبھی قیدیوں کا مبادلہ بھی کیا ہے، اور کبھی زر فدیہ لے کر چھوڑ بھی دیا ہے، لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آپؐ کے عہد میں بہت سے قیدی لونڈی غلام بنا کر رکھے گئے ہیں اور ان کو مسلمانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کیا قرآن مجید کے احکام کو رسول اللہؐ سے زیادہ سمجھنے والا اور ان کے مطابق عمل کرنے والا کوئی اور ہو سکتا ہے؟ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہے تو سمجھنے دیجیے، اس کا معاملہ ہم خدا پر چھوڑتے ہیں، لیکن مسلمانوں کا عقیدہ یہ نہیں ہے، اور وہ اسی قانون کو برحق سمجھتے ہیں جو خدا کے رسولؐ نے اپنے قول و عمل سے بنا دیا ہے۔

ترجمان القرآن

(ذی الحجہ ۱۳۵۳ھ ۔ مئی ۱۹۳۴ء)