تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قربانی پر منکرینِ حدیث کا حملہ
پچھلے سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر پنجاب کی ایک جماعت نے ایک اشتہار شائع کیا تھا، جس میں قربانی کو ایک بے محل، بے معنی، فضول، بلکہ مُضِر اور مُسرفانہ رسم قرار دیا گیا تھا اور مسلمانوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ ”ارضِ غیر ذی زرع کی اس نام نہاد سنّت“ کو چھوڑ کر اس روپے کو جو قربانی میں ضائع کیا جاتا ہے، قومی ادارات کی اعانت، یتیموں اور بیواؤں کی پرورش اور بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے میں صرف کریں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس جماعت نے اس کام کو اپنی تبلیغ کا ایک مستقل جزو بنالیا ہے کہ ہر سال بقرعید کے موقع پر مسلمانوں کو قربانی سے باز رہنے کی تلقین کی جائے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اب تک ان حضرات کی یہ کوششیں کس قدر بار آور ہوئی ہیں لیکن تبلیغ کا جو انداز اختیار کیا گیا ہے...........مسلمانوں کی نفسیات کا جو حال اس زمانے میں ہم دیکھ رہے ہیں، اس کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہم کو خوف ہے کہ ہزاروں مسلمان اب تک اس فریب میں مبتلا ہو چکے ہوں گے، اور اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا تو آگے چل کر نہ معلوم اور کتنے مسلمان اس کے شکار ہوں، اس لیے ہم بقرعید کی آمد سے پہلے ضروری سمجھتے ہیں کہ ان غلط فہمیوں کو رفع کریں جو ان لوگوں کی طرف سے قربانی کے خلاف پھیلائی جارہی ہیں۔[ یہ مضمون ذی القعدہ ۱۳۵۵ھ میں لکھا گیا تھا۔ افسوس ہے کہ یہ جماعت اب تک قربانی کے خلاف اپنی تبلیغ سے باز نہیں آئی ہے۔ چنانچہ ۱۳۶۸ھ میں بھی بقرعید کی آمد پر ہمیں معلوم ہوا کہ اس نے حسب دستور عوام الناس کو اس غلط فہمی میں ڈالنے کی کوشش کی کہ قربانی ایک بدعت ہے جسے ”مولویوں“ نے ایجاد کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہی جماعت ہے جس کا ذکر ”دامِ ہمرنگِ زمیں“ میں گزر چکا ہے۔]
اس جماعت کی جو تحریریں ہماری نظر سے گزری ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی پر ان کو تین حیثیتوں سے اعتراض ہے:
ایک یہ کہ قربانی ان کے نزدیک رسومِ جاہلیت میں سے ایک رسم ہے، جس کو ”مولویوں“ نے محض جہالت کی بنا پر ایک اسلامی طریقہ قرار دے لیا ہے۔ چنانچہ ان کے گروہ کا ایک مصنف قربانی کے متعلق اپنی تحقیق انیق ان الفاظ میں پیش کرتا ہے کہ ”قربانی کی رسم تمام دُنیا کی وحشی و مدنی قوموں میں تھی۔ آج سوائے مسلمانوں کے کوئی اس کو نہیں کرتا“۔
دوسرے یہ کہ معاشی حیثیت سے وہ اس کو نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ جو روپیہ بکرے کی گردن پر چھری پھیرنے میں صرف کیا جاتا ہے، وہ بالکل ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے بدلے میں کوئی عقلی یا مادّی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
تیسرے یہ کہ ان کو قرآن میں قربانی کا حکم کہیں نظر نہیں آیا۔ رہی حدیث تو اس سے انکار کر دینا ان کے نزدیک ہر چیز سے زیادہ سہل ہے، اور اس کو ردّ کرنے کا مسلک اختیار ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ اسلام کے جس حکم پر غیر قوموں کو اعتراض ہو یا جس حکم کی مصلحت خود اپنی سمجھ میں نہ آئے، اس کو آسانی کے ساتھ دائرۂ دین سے خارج کیا جاسکے۔
چونکہ یہ اعتراضات ایسے لوگوں کی طرف سے پیش کیے گئے ہیں، جو اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں اور قرآن کو حجتِ قطعی مانتے ہیں، اس لیے ہم قرآن ہی سے قربانی کے احکام بیان کریں گے اور قرآن ہی سے یہ بھی بتائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے کن مصالح کی بنا پر عبادت کے مخصوص طریقوں میں قربانی کو شامل فرمایا ہے۔
قرآن مجید میں قربانی کے جو احکام دیئے گئے ہیں، ان کو تین اقسام پر منقسم کیا جاسکتا ہے۔ ایک قسم کی قربانی وہ ہے جو مناسکِ حج میں سے ایک خاص منسک ہے۔ اس کے متعلق ارشاد ہے:
<<وَ إِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرٰهِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَھِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوْدِo وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍo لِّیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ وَ یَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْۢ بَھِیْمَةِ الْاَنْعَامِ فَکُلُوْا مِنْھَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَo>> الحج 22: 26-28
اور جب ہم نے ابراہیم علیہ السلام کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ مقرر کی (تو حکم دیا کہ)...... اور لوگوں میں حج کے لیے پکار دے کہ ہر راہ دُور دراز سے تیرے پاس پیدل اور ہر طرح کی دُبلی سواریوں پر آئیں۔ یہ اس غرض کے لیے ہے کہ وہ اپنے حق میں منافع دیکھیں اور چند معلوم دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ پھر تم ان جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور تنگ دست فقیر کو بھی کھلاؤ۔
جیسا کہ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے، حج قائم کرنے کا یہ حکم بنائے کعبہ کے ساتھ ہی ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا تھا اور اس کی غرض یہ بیان کی گئی تھی کہ لوگ یہاں آ کر دین و دنیا کے منافع سے مستفید ہوں اور خدا کے نام پر قربانی کریں۔ پھر یہی فرض انھی مناسک کے ساتھ اُمت محمدیہ پر مقرر کیا گیا، کیونکہ یہ ملت ابراہیمی کی وارث ہے۔ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا (آل عمران 97:3) اور قربانی جس طرح ملت ابراہیمی کے مناسک حج میں شامل تھی، اسی طرح اُمت محمدیہ کے حج میں بھی شامل رہی۔ چنانچہ سورۂ حج کے پانچویں رکوع میں اُمت محمدیہ کو خطاب کر کے ارشاد ہوتا ہے:
<< وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَائِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِيْهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا صَوَآفَّ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ الحج 36:22 >>
اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے اللہ کے شعائر میں سے قرار دیا ہے، تمھارے لیے اُن میں بھلائی ہے، پس تم ان کو صف بستہ کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو (یعنی انھیں قربان کرو) اور جب وہ پہلو کے بل ٹھیر جائیں (یعنی ان کی جان نکل چکے) تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور اس کو بھی کھلاؤ (جو اللہ کے دیئے ہوئے) رزق پر قانع ہے، اور اس کو بھی جو سوال کرتا ہے۔
دوسری قسم کی قربانی وہ ہے جو تمتع یا قران کے فدیے میں، یا احصار کی صورت میں یا اُن جنایات کی جزا میں واجب ہوتی ہے جو مُحرم سے حالتِ احرام میں سرزد ہوں۔ اس کے احکام حسب ذیل ہیں:
(1) << وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهٗ البقره 196:2 >>
اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو، لیکن اگر کہیں تم روک دیئے جاؤ تو جو کچھ ہدیہ کی قربانی میسر آئے بھیج دو اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے۔
<< (۲) فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِهٖ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ >> البقرہ 196:2
پھر جو کوئی تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (اور اس بنا پر اسے احرام کی قیود توڑنی پڑیں) تو وہ فدیہ میں یا تو روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔
<< (۳) فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِى الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ >> البقرہ 196:2
پھر جو کوئی عمرہ کے ذریعے سے حج تک فائدہ 1 اٹھائے تو جو کچھ قربانی میسر آئے ، کر دے۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو تو وہ حج کے دنوں میں تین دن کے اور واپس گھر پہنچ کر سات دن کے روزے رکھے۔
<< (۴) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْيًا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ >> المائدہ 95:5
اے اہل ایمان ! شکار نہ مارو جب تک کہ تم حالت احرام میں ہو، اور تم میں سے جو کوئی جان بوجھ کر شکار مار لے ، وہ اس کے بدلے مویشیوں میں سے اُسی کے ہم قدر ایک جانور قربان کرے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں ، اور یہ قربانی کعبہ پہنچادی جائے۔
ان آیات میں قربانی کے جانوروں کو لفظ ہدی 2 سے تعبیر کیا ہے۔ امام رازی نے اس لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرتے ہوئے کہیں یہ لکھ دیا تھا کہ << معنى الهدى ما يهدى الى بيت الله عزوجل تقريبًا اليه بمنزلة الهدية يهديها الانسان الى غيره تقربًا اليه >> ۔ اتنی گنجائش سے فائدہ اٹھا کر مانعین قربانی نے بے تکلف فیصلہ کر دیا کہ ہدی سے مراد قربانی نہیں بلکہ کوئی بھی ہدیہ اللہ کے حضور پیش کر دینا ہے، لیکن امام رازی نے اسی عبارت سے چند سطر آگے یہ بھی لکھا تھا کہ:
(۱) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص حج سے چند روز پہلے مکہ پہنچ گیا وہ عمرہ کر کے احرام کھول دے اور ان قیود سے آزاد ہو جائے جو حالت احرام کے لیے شریعت نے مقرر کی ہیں۔ پھر جب حج کی تاریخیں آئیں تو دوبارہ احرام باندھ لے۔ اس صورت میں جو فائدہ عمرے کے ذریعے سے اٹھایا جاتا ہے اس کے شکرانے کے طور پر قربانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(۲) ہدی کے معنی ہیں: وہ چیز جو اللہ تعالیٰ سے تقرب حاصل کرنے کے لیے اس کے گھر کی طرف بطور ہدیہ لے جائی جائے جس طرح کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے تقرب پیدا کرنے کے لیے اس کے پاس ہدیہ لے جاتا ہے۔
<<فتقدير الآية حتى يبلغ الهدى محله وينحر فاذا نحر فاحلقوا.>>
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب تک ہدی اپنے مقام پر پہنچ کر ذبح نہ کر دی جائے اس وقت تک سر نہ منڈواؤ اور جب ذبح ہو جائے منڈوا دو۔
مگر چونکہ یہ عبارت مفید مطلب نہ تھی، اس لیے ’’دورِ جدید کے محققینِ اسلام‘‘ نے اس کی طرف توجہ کرنا مناسب نہ سمجھا اور یہ تو خیر امام رازی ہیں، انھوں نے خود اللہ تعالیٰ کی عبارت کو بھی قابلِ اعتنا نہ سمجھا، جس نے سورۂ مائدہ والی آیت میں هديا بالغ الكعبة کی تفسیر فجزاء مثل ما قتل من النعم سے کر دی ہے۔ یہ آیت قطعی طور پر ہدی کے معنی متعین کر رہی ہے کہ قرآن میں جہاں یہ لفظ آیا ہے وہاں اس سے مراد قربانی ہی ہے نہ کہ کچھ اور۔
تیسری قسم کی قربانی وہ ہے جس کے ادا کرنے کا حکم نبیؐ کو اور آپؐ کے ذریعے سے بالعموم سب مسلمانوں کو دیا گیا ہے:
<<قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙo لَا شَرِيْكَ لَهٗ ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ الانعام 6:163>>
کہو: اے محمدؐ کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ پروردگارِ عالم کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبرداروں میں سب سے پہلے ہوں۔
اس آیت میں صلوٰۃ کے بعد نُسک کا ذکر ہے، جس کے معنی عبادت اور تطوع کے بھی ہیں اور قربانی کے بھی۔ قرآن میں یہ لفظ زیادہ تر دوسرے ہی معنی کے لیے آیا ہے۔ چنانچہ سورۂ حج میں ہے:
<<وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ الحج 22:34>>
اور ہر اُمت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کی ہے تاکہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں، جو اللہ نے انھیں بخشے ہیں۔
اور سورۂ بقرہ میں ہے:
<<فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ>> البقرہ 2: 196
تو اس کا فدیہ روزوں سے ادا کیا جائے یا صدقہ سے یا قربانی سے۔
ان آیات سے نُسُک کے معنی متعین ہو گئے۔ اب یہ دیکھیے کہ صلوٰۃ کے ساتھ نُسُک کے لیے بھی بِذٰلِكَ اُمِرْتُ (مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، یعنی مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ فرمایا گیا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکم نبیؐ کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ اسی بنا پر حضورؐ نے تمام مستطیع مسلمانوں کو قربانی ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ احادیث میں آیا ہے:
<<من كان له يسار فلم يضح فلا يقربن مصلانا.>>
جو شخص استطاعت رکھتا ہو اور پھر قربانی نہ کرے، وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔
<<ان اول نسكنا فى يومنا هذا الصلوة ثم الذبح.>>
ہمارے آج کے دن (یعنی بقرعید کے روز) ہماری پہلی عبادت نماز ہے، پھر ذبح۔
<<من صلى معنا هذا الصلوة فليذبح بعد الصلوة.>>
جو شخص ہمارے ساتھ یہ نماز (یعنی بقرعید کی نماز) پڑھے وہ نماز کے بعد ذبح کرے۔
یہ ہیں قربانی کے متعلق قرآن کے صاف اور صریح احکام جن میں کسی شک و شبہ اور تاویل کی گنجائش نہیں۔ پڑھیے ان کو اور پھر داد دیجیے اُن لوگوں کی جرأت کی جو ایک طرف تو قرآن پر ”سب سے بڑھ کر ایمان رکھنے“ کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف علی الاعلان یہ الفاظ لکھتے اور شائع کرتے ہیں کہ:
”قربانی کی رسم تمام دنیا کی وحشی اور مدنی قوموں میں تھی۔ آج سوائے مسلمانوں کے کوئی اس کو ادا نہیں کرتا“۔
یہ کیونکر ضروری ہو گیا کہ غیر حاجی خواہ مخواہ اس بے محل اور مسرفانہ رسم میں حصہ لیں۔ ”وہ روپیہ جو بکرے کی گردن پر چھری پھیرنے اور اسے زمین میں گاڑ دینے کے لیے صرف کیا جاتا ہے، قومی اداروں کو ملنا چاہیے۔ وہ اس روپے سے ہر سال ایک عظیم الشان تجارتی بینک کھول سکتے ہیں، قرآن حکیم اور دوسرے علوم کی توسیع و اشاعت کر سکتے ہیں، اعتقادات و اخلاق کی اصلاح کر سکتے ہیں، بیواؤں اور ناداروں کی مدد کر سکتے ہیں، اور ہزاروں نیکی کے کام کر سکتے ہیں بشرطیکہ تقلید کے جال سے آزاد ہو جائیں اور فضول بلکہ مُضر رسوم کو چھوڑ دیں۔
’’افسوس ہے کہ سوائے نقل و تقلید کے آج تک کسی صاحب نے قربانی کے عقلی و تجربی فوائد پر روشنی نہیں ڈالی‘‘۔
یہ قرآن سے کھلا ہوا معارضہ نہیں تو اور کیا ہے؟ قرآن حکیم ایک چیز کا حکم دیتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ پہلے اس کے عقلی و تجربی فوائد پر روشنی ڈالی جائے۔ قرآن ایک چیز کے متعلق کہتا ہے کہ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ (تمھارے لیے اس میں بھلائی ہے) اور آپ اسے ایک فضول بلکہ مسرفانہ رسم قرار دیتے ہیں۔ قرآن ایک چیز کو شعائر اللہ میں شمار کرتا ہے اور خبر دیتا ہے کہ اللہ نے اس کو مقرر کیا ہے، مگر آپ اس کے مقابلے میں مغربی مستشرقین کی یہ تحقیق پیش فرماتے ہیں کہ یہ عہد جاہلیت کی ایک رسم تھی، جس کو آج صرف مسلمانوں نے اختیار کر رکھا ہے۔
بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بوالعجبی است
قرآن پر ایمان رکھنے کا دعویٰ اور پھر قرآن کے مقابلے میں یہ جرأت! اگر ان دونوں کا اجتماع ممکن ہے تو ماننا پڑے گا کہ وجودِ شئے اور عدمِ شئے کا اجتماع بھی ممکن ہے۔
قرآن کا یہ بھی ایک اعجاز ہے کہ جس قدر اعتراضات اس پر ہو سکتے ہیں، ان کا جواب وہ خود ہی دے دیتا ہے۔ آئیے! ذرا یہ بھی دیکھیے کہ قربانی کے حکم پر جو اعتراضات کیے گئے ہیں ان کے جواب میں قرآن کیا کہتا ہے۔
جاہلیت میں جس طرح غیر اللہ کے لیے رکوع و سجود ہوتے تھے اور غیر اللہ سے دعا اور استعانت کی جاتی تھی، اُسی طرح غیر اللہ کے لیے نذریں اور قربانیاں بھی ہوتی تھیں۔ عرب، ہندوستان، ایران، مصر، روم غرض کون سا ملک ایسا ہے جہاں معبودانِ باطل کے اصنام اور ہیکلوں پر قربانیاں نہ چڑھائی جاتی ہوں۔ حتیٰ کہ خدا پرست یہودی قوم بھی اس شرک میں مبتلا ہوئی اور بار بار اس نے بتوں پر قربانیاں چڑھانے کا ارتکاب کیا، جس کی شکایت جگہ جگہ بائبل کے عہدِ عتیق میں آتی ہے۔ قرآن میں بھی جاہلیت کی ان مشرکانہ رسموں کا ذکر ہے، مثلاً فرمایا:
<<وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا>> الانعام 136:6
اور انھوں نے کھیتی کی پیداوار اور مواشی میں سے اللہ کا ایک حصہ ٹھیرادیا اور بخیال خود کہنے لگے کہ یہ اللہ کا ہے اور یہ ہمارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کا ہے۔
<<وَ قَالُوْا هٰذِهِ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ لَّا يَطْعَمُهَا اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا افْتِرَآءً عَلَيْهِ>> الانعام 138:6
اور انھوں نے کہا کہ یہ جانور اور کھیتیاں ممنوع ہیں کہ ان کو اس شخص کے سوا کوئی نہیں کھا سکتا جسے ہم اپنے خیال کے مطابق کھلانا چاہیں۔ اور کچھ ایسے جانور ہیں جن کی پشت پر سوار ہونا حرام کر دیا گیا ہے اور کچھ ایسے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے۔ یہ ان کی افترا پردازی ہے۔ (کہ ایسی جاہلانہ اور مشرکانہ باتوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں)
قرآن نے آکر جس طرح عبادت کی تمام دوسری صورتوں کا رُخ غیر اللہ سے اللہ کی طرف پھیر دیا، اسی طرح نذروں اور قربانیوں کا رُخ بھی اُدھر سے اِدھر پھیرا۔ اس نے ہدایت کی کہ مشرکین غیر خدا کے لیے رکوع و سجود اور قربانی کرتے ہیں، تم کہو کہ ہمارا رکوع و سجود اور ہماری قربانی خدا کے لیے ہے۔ <<قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْيَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ>> (الانعام 162:6) مشرکین اپنے جانوروں پر غیر خدا کا نام لیتے ہیں، تم ان پر صرف خدا کا نام لو۔ <<فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا>>۔ وہ غیر اللہ کے نام پر جانوروں کو چھوڑ دیتے ہیں اور پھر نہ کسی کو ان پر سوار ہونے دیتے ہیں اور نہ ان کا گوشت کھانا یا کھلانا پسند کرتے ہیں۔ تم اس جہالت کے جواب میں ہدی کے اونٹوں سے ہر طرح کا فائدہ اُٹھاؤ۔ <<لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّهَا اِلَی الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ>> (الحج 33:22) قربانی کا گوشت کھاؤ اور اللہ کے بندوں کو کھلاؤ۔ <<فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ>> (الحج 36:22) اس لیے کہ اللہ کو خون اور گوشت نہیں پہنچتا بلکہ تمھاری وہ خالص نیت پہنچتی ہے جس نے تم سے غیر اللہ کو ترک کر کے اللہ کی طرف رجوع کرایا۔ <<لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوىٰ مِنْكُمْ (الحج 37:22)>>
ہر شخص جو حکمتِ تشریع میں ادنیٰ بصیرت بھی رکھتا ہے، اس کے لیے یہ سمجھنا بھی کچھ مشکل نہیں کہ شرک و بت پرستی اور رسوم جاہلیت کو مٹانے کے لیے اس سے زیادہ کارگر کوئی تدبیر نہیں ہو سکتی کہ جن اقسام اور جن شکلوں کی عبادتیں مشرک قوموں میں رائج ہوں، اُن سب کو اللہ کے لیے مخصوص کر دیا جائے اور غیر اللہ کے لیے انھی سب کو ممنوع ٹھہرا دیا جائے۔ دنیا میں توحید فی العبادت اور اس کے ذریعے سے توحید فی الاعتقاد کا قیام بغیر اس تدبیر کے ممکن ہی نہ تھا۔ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے کہ وہ جس کسی کو اپنا ملجا و ماویٰ سمجھتا ہے، اس کے سامنے نذر و نیاز اور قربانی ضرور پیش کرتا ہے۔ چنانچہ ابتدائے آفرینش سے آج تک دنیا میں کم و بیش اس طریقِ عبادت کا سلسلہ جاری ہے حتیٰ کہ جہالت کی بنا پر خود مسلمان بھی اس قسم کے شرک فی العبادت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ پس جب عبادت کے مختلف طریقوں میں سے ایک یہ طریقہ بھی نوع انسانی میں رائج ہے اور اس طریقے کی طرف نوع انسانی میں ایک فطری میلان پایا جاتا ہے تو اخلاص فی العبادت کے لیے ناگزیر ہے کہ نذر و نیاز اور قربانی کو بھی غیر اللہ کے لیے ممنوع کر کے صرف اللہ کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ اس چیز کی عقلی و روحانی اور اخلاقی و مادی منفعت سطحی نظروں کو اگر محسوس نہ ہو تو یہ اُن کی اپنی نظر کا قصور ہے۔ اللہ کے علم اور اس کی حکمت میں تو لوگوں کا مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ اور حُنَفَاءَ لِلّٰهِ بن جانا اس سے بدرجہا زیادہ مفید ہے کہ اُن کے لیے ایک نہیں دس لاکھ عظیم الشان بینک کھل جائیں یا ۲۰ ہزار کالج قائم ہو جائیں۔
قربانی کی ایک دوسری مصلحت بھی ہے جس پر قرآن سے روشنی پڑتی ہے۔
نوع انسانی کا ایک گروہ تو وہ ہے جس کا اُوپر ذکر ہوا ہے، یعنی وہ جو خدا کے ساتھ اس کی مخلوق کو اعتقاد اور عبادت میں شریک ٹھیراتا ہے اور خدا کے بخشے ہوئے رزق میں سے غیر خدا کے سامنے نذریں اور قربانیاں پیش کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا گروہ بھی ہمیشہ موجود رہا ہے اور اب بڑھتا جا رہا ہے، اور یہ وہ گروہ ہے جو سرے سے خدا کا قائل ہی نہیں، یا اگر ہے بھی تو محض وجوبِ عقلی کی بنا پر اس کو اس طرح مانتا ہے جیسے ریاضی کے کسی فارمولے کو مانتا ہے۔ باقی رہا خدا سے کوئی تعلق تو وہ ان کے ہاں مفقود ہے۔ ان لوگوں کو یہ احساس تک نہیں کہ دنیا کے جس مال و متاع سے وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس زمین کی پیداوار کھا رہے ہیں، جس دولت وثروت سے لطف اندوز ہورہے ہیں، جن حیوانات سے خدمت لے رہے ہیں، ان میں سے کسی چیز کے بھی وہ مالک نہیں ہیں، نہ کسی چیز پر ان کو ذاتی استحقاق حاصل ہے، بلکہ یہ خدا کی بخشش اور اس کا انعام ہے۔ یہ غفلت جس میں لوگ مبتلا ہیں، اُن کو کیسے کیسے رُوحانی، اخلاقی اور عملی مفاسد میں مبتلا کر رہی ہے اس کے بیان کی حاجت نہیں۔ آج ہر آنکھوں والا اُن خرابیوں کا برائی العین مشاہدہ کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی مفاسد کا سدّ باب کرنے کے لیے مال و دولت اور زمین کی پیداوار میں سے زکوٰۃ کا، اور حیوانی دولت میں سے قربانی کا قاعدہ مقرر کیا، تا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو کچھ رزق عطا فرمایا ہے، اس کا ایک حصہ وہ ہمیشہ خدا کی جناب میں نذر کرتا رہے اور یہ حقیقت اس کو یاد رہے کہ ہم ان چیزوں کے مالک اور مختارِ مطلق نہیں ہیں، بلکہ یہ بغیر کسی استحقاقِ ذاتی کے ہم کو عطا کی گئی ہیں، اور ان میں عطا کرنے والے کی مرضی کے خلاف تصرف کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ دیکھیے اس مضمون کی طرف آیاتِ ذیل میں کس قدر لطیف اشارے کیے گئے ہیں:
<<وَ هُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُکُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ کُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ وَ لَا تُسْرِفُوْا اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ٥ وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا کُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ الانعام 142:6>>
اور وہی ہے جس نے باغ اُگائے ہیں جن میں سے کسی میں بیلیں ٹٹیوں چڑھائی جاتی ہیں اور کسی میں نہیں چڑھائی جاتیں، اور اسی نے نخلستان اور کھیت پیدا کیے ہیں...... جب وہ پھل لائیں تو ان کے پھل کھاؤ اور فصل کاٹتے وقت اس کا (یعنی خدا کا) حق ادا کرو اور حد سے نہ گزرو کہ وہ حد سے گزرنے والوں کو خدا پسند نہیں کرتا۔ اور اسی نے جانوروں میں سے بعض بلند قامت پیدا کیے ہیں جو بار برداری کے کام آتے ہیں اور بعض پست قامت ہیں۔ اللہ نے تم کو جو کچھ دیا ہے، اس میں سے کھاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو۔
<< وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰی مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيمَةِ الْاَنْعَامِ فَإِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهُ اَسْلِمُوْا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَo الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ عَلٰی مَا اَصَابَهُمْ وَالْمُقِيْمِي الصَّلٰوةِ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ الحج 35:22 >>
اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی مقرر کر دی ہے تا کہ وہ اللہ کا نام لیں اُن جانوروں پر جو اللہ نے ان کو بخشے ہیں۔ پس یاد رکھو کہ تمھارا خدا وہی ایک خدا ہے، اسی کی اطاعت میں تم سر تسلیم خم کرو۔ اور اے نبیؐ! اُن عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دو جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز اُٹھتے ہیں اور جو مصیبتوں کے مقابلے میں ثابت قدم رہتے ہیں اور جو نماز پڑھتے ہیں اور ہمارے بخشے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔
یہ رسم قربانی کی دوسری مصلحت ہے۔ اگر کسی کے پاس عقلی ترازو ہو تو وہ ایک پلڑے میں اس کو رکھے اور دوسرے پلڑے میں اُن تمام قومی اداروں اور تجارتی بینکوں اور یتیم خانوں کو رکھے، جنھیں چندہ دینے کے لیے یہ مخالفین حدیث قربانی کو بند کرانا چاہتے ہیں، اور پھر موازنہ کر کے ہمیں بتائیے کہ ان دونوں میں سے کون سا زیادہ وزنی ہے۔
اب ذرا اقتصادی اعتراضات کو بھی جانچ لیجیے۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ اضاعتِ مال ہے، مگر قرآن کہتا ہے: لَكُمْ فِيْهَا خَيْرٌ اور فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ط
’’اس میں تمھارے لیے بھلائی ہے‘‘ اور ’’اس میں سے خود بھی کھاؤ اور مانگنے والے غریب اور مانگنے والے سائل کو بھی کھلاؤ‘‘۔
آج آپ کے اپنے ملک میں لاکھوں اللہ کے بندے ایسے ہیں جنھیں ہفتوں اور مہینوں اچھی قوت بخش غذا نصیب نہیں ہوتی۔ کیا اُن کو صدقہ اور ہدی اور نسک کے ذریعے سے گوشت بہم پہنچانا آپ کی رائے میں اصولِ معیشت کے خلاف ہے؟ لاکھوں انسان اور گلہ بان ہیں جو سال بھر تک جانور پالتے ہیں اور بقرعید کے موقع پر اُن سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ کیا ان کی روزی کا دروازہ بند کرنا آپ کے نزدیک بے روزگاروں کو روزگار مہیا کرنا ہے؟ ہزار ہا غریب ہیں جن کو قربانی کی کھالیں مل جاتی ہیں اور ہزار ہا قصائی ہیں جن کو ذبح کرنے کی اُجرت مل جاتی ہے۔ کیا یہ سب آپ کی قوم سے خارج ہیں کہ آپ ان کی رزق رسانی کو فضول بلکہ مضر اور داخلِ اسراف سمجھتے ہیں؟
پھر یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ کو تمام قومی ضروریات اور سارے فوائد و منافع صرف اسی وقت یاد آتے ہیں جب خدا کے کسی حکم کی پابندی میں روپیہ صرف ہو رہا ہو؟ گویا کہ بینکوں کا قیام اور قومی ادارات کا فروغ اور اعتقاد و اخلاق کی اصلاح اور یتیموں اور بیواؤں کی پرورش کا سارا کام صرف قربانی ہی کی وجہ سے رُکا پڑا ہے۔ ادھر یہ بند ہوئی اور اُدھر قومی اداروں پر روپیہ برسنا شروع ہو جائے گا۔
اور اگر آپ کی قومی تنظیم ایسی ہی مکمل ہے کہ سارے ملک کا روپیہ جمع کر کے آپ ہر سال ایک تجارتی بینک کھول سکتے ہیں تو ذرا سی تکلیف گوارا کر کے پہلے ملک بھر کے سینما ہالوں اور قحبہ خانوں اور بدکاری و اسراف کے دوسرے اڈوں پر تو اپنے ایجنٹ مقرر فرمائیے تاکہ مسلمانوں کا جس قدر روپیہ وہاں ضائع ہوتا ہے وہ قومی فنڈ میں وصول ہونا شروع ہو جائے۔ اس طرح آپ ہر سال نہیں، ہر روز ایک تجارتی بینک کھول سکیں گے۔
پھر اگر آپ میں کچھ تعمیری قوت ہے تو قربانی کی تخریب کے بجائے آپ اُسے زکوٰۃ کی تعمیر ہی میں کیوں نہیں صرف فرماتے کہ تنہا اسی ایک چیز سے آپ وہ تمام قومی ضروریات پوری کر سکتے ہیں، جن کی خاطر قربانی بند کرنے کی تبلیغ آپ نے شروع کی ہے۔
آخری گزارش یہ ہے کہ اگر ایک دفعہ مسلمانوں میں یہ ذہنیت پیدا ہو گئی کہ جن جن مذہبی مراسم میں روپیہ صرف ہوتا ہے اُن کو بند کر کے وہ روپیہ قومی اداروں اور تجارتی بینکوں پر صرف ہونا چاہیے، تو معاملہ صرف قربانی ہی پر رُکا نہ رہ جائے گا۔ کل کوئی اور بندۂ خدا اُٹھ کر کہے گا کہ یہ حج، جس پر کروڑوں روپیہ ہر سال خرچ ہو رہا ہے، اور جس کا کوئی فائدہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا، اسے بند ہونا چاہیے، اور اس روپے سے تجارتی بینک کھلنے چاہییں! سارا معاملہ اصل میں اقدار ہی کا ہے۔ جب ایک دفعہ معیارِ قدر بدل گیا، پھر آج قربانی بند ہوگی اور کل خواہ آپ نے چاہا یا نہ چاہا، حج کی باری آ کر رہے گی۔
ترجمان القرآن
(ذی القعدہ ۱۳۵۵ھ بمطابق جنوری ۱۹۳۷ء)