تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مسلمہ اور غیر مسلم کے نکاح کی حرمت
سب سے پہلے تو یہ بات طے کر دی گئی کہ غیر مسلموں کے ساتھ شادی کرنے کی رخصت صرف مردوں کو دی جاسکتی ہے، عورتوں کے لیے یہ دروازہ قطعاً مسدود ہے۔
<<لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ>> الممتحنہ 10:60
نہ مسلمان عورتیں کافر مردوں کے لیے حلال ہیں اور نہ کافر مرد مسلمان عورتوں کے لیے حلال۔
یہ اس لیے کہ عورت کی فطرت ایک انفعالی فطرت ہے۔ اس میں ڈھال لینے سے زیادہ ڈھل جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ مرد کے اثرات اور اپنے ماحول کے اثرات کو زیادہ شدت کے ساتھ قبول کرتی ہے اور خانگی زندگی میں وہ عموماً شوہر سے مغلوب ہی ہو کر رہتی ہے۔ ایک غیر مسلم مرد سے اس کی شادی ہونے میں کم از کم ۹۰ فی صد خطرہ اس بات کا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اسلام اور اس کی تہذیب سے کٹ جائے گی، اور یہ خطرہ تو سو فی صدی ہے کہ اس کے پیٹ سے جو اولاد پیدا ہوگی، وہ ملتِ کفر پر رہے گی۔ پس تمام مصالح و حکم اس بات کے مقتضی تھے کہ مسلمان عورتوں کے لیے غیر مسلموں کی زوجیت قطعی طور پر حرام کر دی جائے ، اور رخصت کا دروازہ اگر کھولا بھی جائے تو وہ صرف مردوں کے لیے ہو۔