تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
کلامِ عرب کی شہادت
لغت کے بعد کلامِ عرب پر نظر ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ قرآن مجید نے بطور خود یہ کوئی نئی اصطلاح وضع نہیں کی تھی۔ اہلِ عرب پہلے سے ایک ایسی فوق الطبیعی مخلوق کو ’جِنّ‘ کے نام سے یاد کرتے تھے جو بالاصل غیر مرئی و غیر محسوس تھی، مگر کبھی کبھی ان کو مختلف شکلوں میں نظر آتی تھی، جس کے متعلق ان کا خیال یہ تھا کہ وہ غیر معمولی افعال پر قادر ہے اور عالمِ طبیعت و اجسام پر مختلف طریقوں سے اثر انداز ہوتی ہے۔ اُن کا خیال تھا کہ خاص خاص مقامات پر یہ مخلوق قابض ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ایسے مقامات کو وہ ارضِ مجنّہ کہا کرتے تھے۔ سنسان جنگلوں اور بیابانوں کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ وہ کسی نہ کسی جِنّ کے قبضے میں ہوتے ہیں، چنانچہ جب وہ کسی بیابان میں رات کو پڑاؤ کرتے تو کہتے: <<نَعُوْذُ بِعَزِيْزِ هٰذَا الْوَادِیْ مِنْ الْجِنِّ اللَّيْلَةَ مِنْ شَرِّ مَا فِيْهِ>> ”یعنی ہم اس وادی کے مالک جن کی پناہ مانگتے ہیں کہ وہ آج رات ہمیں یہاں خیریت سے ٹھہر جانے دے“۔ خالی مکانوں کے متعلق ان کا اعتقاد تھا کہ ان میں جنوں کا تسلط ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جو شخص کسی خالی مکان میں رات گزارتا، اس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ رات کو جنوں کا مہمان تھا۔ اخطل کہتا ہے: <<زَبَّتْنَا كَأَنَّا ضَيْفُ جِنٍّ بِلَيْلَةٍ>> جہلائے عرب جب کوئی نیا مکان بنواتے تو پہلے وہاں جنوں کے لیے قربانی کرتے تاکہ وہ ساکنین مکان کو نہ ستائیں۔ اس کی طرف حدیث میں اشارہ ہے کہ <<انه نهى عن ذبائح الجن>>۔ نبیؐ نے جنوں کے لیے قربانی کی ممانعت کر دی۔
جب کوئی انسان پاگل ہو جاتا تو عرب یہ سمجھتے تھے کہ اس پر جن مسلط ہو گیا ہے۔ اسی لیے وہ اس کو مجنون کہتے تھے۔ قرآن مجید میں بھی ان کے اس خیال کو بیان کیا گیا ہے کہ <<أَفْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ>> (سبا 8:34) یعنی مشرکین نبیؐ کے متعلق کہتے تھے کہ یہ شخص یا تو خدا پر افترا باندھتا ہے یا اس پر جنّ آتا ہے۔
جب گائے پانی نہ پیتی تھی تو اس کے نر کو مارا جاتا تھا کیونکہ اعتقاد یہ تھا کہ جن ان کے سر پر سوار ہو جاتا ہے اور وہ مادہ کو پانی پینے سے روکتا ہے۔
ان کا وہم تھا کہ ایک جن ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کو وہ ”تابع“، یعنی ہمزاد کہا کرتے تھے۔ ہر غیر معمولی چیز جنوں کی طرف منسوب کی جاتی تھی۔ چنانچہ جو شخص کام میں بہت تیز ہوتا اس کے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ جن اس میں سما جاتا ہے، اس لیے اس کو جِنّی (یعنی منسوب بہ جِنّ، نہ کہ خود ”جِنّ“) کہا جاتا تھا۔ ہر شاعر کا ایک خاص جن ہوتا تھا اور وہی اس کو شعر کہلوایا کرتا تھا۔ جب کسی شخص کا زور ٹوٹ جاتا تو کہتے کہ نَفَرَتْ جِنُّهُ یعنی اس کا جن، جس کے زور سے وہ کام کر رہا تھا، بھاگ گیا۔ جو عورت بہت جمیل ہوتی اس کو مجازاً أجْنِيَه یعنی ”پری“ کہتے تھے کیونکہ جن عورتوں کا جمال اُن کے نزدیک فوق الانسانی جمال تھا۔
جنوں کی انھی فوق الانسانی صفات اور قدرتوں کی بنا پر اہل عرب خدا سے اُن کا نسب ملاتے تھے۔ چنانچہ قرآن میں ہے: <<وَجَعَلُوْا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا[ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری قرار دے لی ہے۔]>> (الصّٰفّٰت 158:37)
اور اسی بنا پر وہ عبادت میں ان کو خدا کا شریک بناتے تھے۔ <<بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ>> [ بلکہ وہ جنوں کی پرستش کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انھی کے معتقد بنے ہوئے تھے۔] (سبا 41:34) <<وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهُ بَنِيْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَيْرِ عِلْمٍ>> [ اور انھوں نے اللہ کے ساتھ جن شریک ٹھہرا لیے ہیں حالانکہ اللہ ان کا خالق ہے اور انھوں نے علم کے بغیر خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تجویز کر لی ہیں۔] (الانعام 100:6) نیز وہ مصیبت اور خوف کے وقت انھی جنوں سے پناہ مانگتے تھے۔ <<كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ>>[ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ واضح ہو کہ اس آیت میں ایک ہی جگہ انس اور جن کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور صاف ظاہر کہ جن ہرگز انسانی جنس سے تعلق نہیں رکھتے۔ لہٰذا یہ آیت مولانا کے اس بیان کی صریح تردید کرتی ہے کہ ”قرآن میں جہاں جہاں جن اور انس کے الفاظ ساتھ ساتھ آئے ہیں وہاں جن سے مراد آتشی جن نہیں بلکہ انسانوں ہی کا ایک طبقہ ہے“۔] (الجن 6:72)
وہ ملائکہ کو بھی جن کہتے تھے۔ چنانچہ اعشی کا قول ہے:
<<وَ سَخَّرَ مِنْ جِنِّ الْمَلٰٓئِكِ تِسْعَةً قِيَامًا لَدَيْهِ يَعْمَلُوْنَ بِلَا اَجْرٍ>>
اس نے ملائکہ جن میں سے نو کو تابع کر لیا جو اس کے حضور کھڑے رہے ہیں اور مفت خدمت کرتے ہیں۔
فرشتوں کے متعلق جہلائے عرب کا خیال تھا کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ چنانچہ اس کی طرف متعدد مقامات پر قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے، مثلاً: <<وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا>> [ انھوں نے ملائکہ کو جو رحمٰن کے بندے ہیں لڑکیاں (یا دیویاں) قرار دیا ہے۔] (الزخرف 19:43) اور <<اَفَاَصْفٰكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِيْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا>> [ کیا تمھارے رب نے تم کو تو بیٹوں سے سرفراز کیا اور خود اپنے لیے بیٹیاں رکھیں؟] (بنی اسرائیل 40:17)
ان شہادتوں کے مقابلے میں ایک شہادت بھی عرب کی روایات سے ایسی پیش نہیں کی جاسکتی جس سے معلوم ہوتا کہ عرب کبھی لفظ جن کا اطلاق حقیقی معنوں میں انسان پر بھی کر دیتے تھے۔ اس کے برعکس تمام شواہد یہی بتاتے ہیں کہ اہل عرب ”جن“ اور ”انس“ کو دو مختلف نوع کی مخلوقیں سمجھتے تھے۔ مثال کے طور پر بدر بن عامر کہتا ہے:
<<وَلَقَدْ نَطَقْتُ قَوَافِیا اِنْسِیَّةً وَلَقَدْ نَطَقْتُ قَوَافِى التَّجْنِیْنِ>>
اور عمران بن حطان الحروری کہتا ہے:
<<قَدْ كُنْتُ عِنْدَكَ حَوْلًا لَا تَرُوعُنِى فِیْهِ رَوَائِعُ عَنْ اِنْسٍ وَلَا جَانِ>>
اس کے بعد ائمہ لغت کی یہ متفقہ شہادت ملاحظہ ہو۔ جوہری اپنی کتاب الصحاح میں کہتا ہے:
<<اَلْجِنُّ خِلَافُ الْإِنْسِ سُمِّیَتْ بِذٰلِكَ لِاَنَّهَا تُخْفٰی وَلَا تَریٰ[جن بخلاف انس، اس نام سے اس لیے موسوم ہوئے کہ وہ پوشیدہ ہیں، نظر نہیں آتے۔]>>
اور ابن سیدہ کہتا ہے:
<<اَلْجِنُّ نَوْعٌ مِّنَ الْعَالَمِ سُمُّوا بِذٰلِكَ لِاجْتِنَانِهِمْ عَنِ الْاَبْصَارِ وَلِاَنَّهُمْ اِسْتَجَنُّوْا مِنَ النَّاسِ فَلَا یَرَوْنَ [ جن ایک نوع کی مخلوق ہے جس کا یہ نام اس لیے پڑا کہ وہ نگاہوں سے مخفی ہے، دکھائی نہیں دیتا۔]>>
ابن درید کہتا ہے:
<<وَالْجِنُّ خِلَافُ الْإِنْسِ۔>>