تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
چند خطب ماثورہ
اس مطلب کی توضیح کے لیے ہم نبیؐ کے چند خطبات یہاں نقل کرتے ہیں جن سے معلوم ہوگا کہ شارع کی نگاہ میں خطبۂ جمعہ کی دراصل کیا حیثیت تھی۔
<<عن عبيد بن السباق مرسلا قال قال رسول الله ﷺ في جمعة من الجمع يا معشر المسلمين ان هذا يوم جعله الله عيدا فاغتسلوا ومن كان عنده طيب فلا يضره ان يمس منه عليكم بالسواك.>> (موطا، ابن ماجہ)
عبید ابن السباق سے مرسلاً مروی ہے کہ حضورؐ نے ایک مرتبہ جمعہ کے خطبے میں فرمایا : اے مسلمانو! اس دن کو اللہ نے عید مقرر کیا ہے، لہٰذا تم آج کے دن غسل کیا کرو اور جس کے پاس خوشبو موجود ہو، وہ اگر استعمال کر لے تو کیا نقصان ہے اور دیکھو مسواک ضرور کرو۔
ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضورؐ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مجھے تمھارے حق میں سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ زمین کی برکات ہیں۔ کسی نے پوچھا: یا رسولؐ اللہ! زمین کی برکات سے کیا مراد ہے؟ حضورؐ نے جواب دیا : دنیا کی زینت وشوکت۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! کیا بھلائی سے بھی برائی آتی ہے؟ حضورؐ سن کر کچھ دیر خاموش رہے، یہاں تک کہ لوگوں نے گمان کیا کہ کوئی چیز آپؐ پر اتر رہی ہے۔ پھر آپؐ نے اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا اور فرمایا: وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں حاضر ہوں! آپؐ نے فرمایا: بھلائی صرف بھلائی سے آتی ہے۔ اس دنیا کا مال بہت خوشنما اور شیریں ہے۔ فصلِ بہار میں جب یہ خوب پھلتی ہے تو اسے پیٹ بھر کر کھانے والا جانور بدہضمی سے مر جاتا ہے یا مرنے کے قریب جا لگتا ہے۔ البتہ وہ جانور بچ جاتا ہے جس نے دیکھا کہ کھاتے کھاتے کوکھیں پھول گئی ہیں تو کھانا چھوڑ دیا، دھوپ میں چلا پھرا، کچھ جگالی کی، کچھ بول و براز کی راہ سے نکالا اور جب پیٹ خالی ہوگیا، تب دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوا۔ اس مال کو جو شخص حق کی راہ سے لے گا اور حق کی راہ میں نکال دے گا، اس کے لیے تو یہ بہترین مددگار ہے اور جو حق کے بغیر لے گا، اس کی مثال اُس شخص کی سی ہے جو کھاتا چلا جائے اور شکم سیر نہ ہو۔ (بخاری، کتاب الرقاق وکتاب الزکوٰۃ)
عمرو بن تغلب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضورؐ کے پاس کچھ مال آیا تھا جس کو آپ نے بعض لوگوں میں بانٹ دیا اور بعض کو چھوڑ دیا۔ بعد میں آپؐ کو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے انھیں رنج ہے۔ اس کے متعلق آپؐ نے خطبے میں فرمایا میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور دوسرے کو نہیں دیتا۔ جس کو میں نہیں دیتا وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے جس کو میں دیتا ہوں۔ ایک جماعت کو دیتا ہوں جبکہ ان کے دلوں میں بے تابی اور بے چینی دیکھتا ہوں۔ اور ایک جماعت کو اس کی بے نیازی اور نیکی کے حوالے سے دیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہے۔ (بخاری)
مشہور حدیث ہے کہ ایک شخص نمازِ جمعہ میں حاضر ہوا۔ آنحضرتؐ خطبہ دے رہے تھے۔ آپؐ نے پکار کر اس سے پوچھا: اے شخص! کیا تو نماز پڑھ چکا ہے؟ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو اُٹھ اور نماز پڑھ۔ دراصل یہ شخص پھٹے حالوں تھا۔ آپؐ کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اس کی بدحالی کو دیکھ لیں۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو آپ نے لوگوں کو صدقے کی ترغیب دلائی۔ اس حدیث کے اطراف قریب قریب تمام صحاح اور سنن اور مسانید میں آئے ہیں۔ امام احمد نے جو حدیث نقل کی ہے، اُس میں خود حضورؐ کے یہ الفاظ منقول ہیں کہ یہ شخص جب مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ بہت شکستہ حال ہے، اس لیے میں نے اسے حکم دیا کہ دو رکعت نماز پڑھ لے۔ میں چاہتا تھا کہ کوئی شخص اس کی حالت دیکھ لے اور اس کو کچھ صدقہ دے دے۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ حضورؐ خطبہ دے رہے تھے۔ دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کے اوپر سے پھاندتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ آپؐ نے پکار کر فرمایا: بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی۔ (ابوداؤد، نسائی)
حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ ایک روز حضورؐ خطبہ دے رہے تھے اور قحط سالی کا زمانہ تھا۔ ایک شخص نے فریاد کی کہ یارسولؐ اللہ! جانور مر گئے اور بال بچے فاقے کر رہے ہیں، اللہ سے دعا فرمائیے کہ بارش ہو جائے۔ آپؐ نے اسی وقت دعا فرمائی۔ خدا کے فضل سے بارش شروع ہو گئی اور دوسرے جمعہ تک لگاتار جاری رہی۔ پھر دوسرے جمعہ کو آپؐ خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو وہی شخص پھر اٹھا اور بولا کہ یا رسولؐ اللہ! مکان گر گئے اور مال و اسباب تباہ ہو رہے ہیں۔ خدا سے دعا فرمائیے۔ آپؐ نے پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔
مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ خطبہ دے رہے تھے۔ اتنے میں حضرت عثمانؓ تشریف لائے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد نماز کے لیے آنے میں دیر کرتے ہیں۔ پھر حضرت عثمانؓ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: یہ کون سا وقت ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں کام میں لگا ہوا تھا۔ اذان کی آواز سنی تو گھر جانے کے بجائے وضو کر کے سیدھا یہاں چلا آ رہا ہوں۔ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرمایا: خوب! آنے میں دیر تو لگائی ہی تھی۔ اب معلوم ہوا کہ آپ صرف وضو ہی پر اکتفا کر کے آئے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ رسول اللہؐ نے جمعہ کے روز غسل کرنے کا حکم دیا ہے۔ (بخاری، موطا، مسلم)
یہ اُن کثیر التعداد خطبوں میں سے چند ہیں جو معتبر روایات میں آنحضرتؐ اور صحابہ سے منقول ہیں۔ ان کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کا خطبہ جن کے متواتر عمل کی بدولت مشروع سمجھا گیا ہے، اُن کے ہاں خطبے کے معنی محض ذکر اللہ کے نہ تھے بلکہ وہ اس سے تبلیغ، تعلیم، اصلاح، ہدایت اور بہت سے قومی و شخصی معاملات کی انجام دہی کا کام لیتے تھے۔ دراصل یہ چیز اس لیے مشروع نہیں کی گئی تھی کہ لوگ ہفتے میں ایک بار نماز سے پہلے رسمی طور پر اسی قسم کی ایک چیز سن لیں جیسی مسیحی گرجاﺅں میں درس (sermon) کے نام سے سنائی جاتی ہے بلکہ اس کو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا ایک متحرک اور کارفرما پرزہ بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ ہفتے میں ایک مرتبہ لازمی طور پر تمام مسلمانوں کو جمع کر کے اللہ کے احکام سنائے جائیں، دین کی تعلیمات ان کے ذہن نشین کی جائیں، اُن کی جماعت میں یا اُن کے افراد میں جو کچھ خرابیاں رُونما ہوں، ان کی اصلاح کی جائے اور قومی فلاح و بہبود کے کاموں کی طرف انھیں توجہ دلائی جائے۔ نیز مرکزِ حکومت میں امام (head of the state) براہِ راست خود اپنی حکومت کی پالیسی پبلک کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہیں عوام الناس میں سے ہر ایک کو اُس سے سوال کرنے اور اس کے سامنے اپنی بات کہنے کا موقع حاصل ہو۔