مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قرآنی اشارات

میں آپ کو اُن قرآنی اشارات کی طرف توجہ دلاؤں گا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جس خلافت سے سرفراز کیا گیا ہے، وہ دراصل خلافتِ الٰہی ہے۔

قرآن مجید کا بیان ہے کہ اللہ نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ (التین 4:95) اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا، قَالَ يٰۤاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (ص 75:38) اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی، ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ (السجدہ 9:32) اس کو علم کی نعمت سے سرفراز کیا، وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا (البقرہ 31:2) اور زمین و آسمان کی ساری چیزوں کو اس کے حق میں مسخر کر دیا، وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ (الجاثیہ 13:45)

ان صفات کے ساتھ جب انسان کی تخلیق پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کے آگے سجدہ کریں۔ یہ حکم سورۂ ص کے آخر میں جس انداز سے بیان کیا گیا ہے، وہ خاص طور پر قابل غور ہے:

<< اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِيْنٍ ۝ فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ ۝ فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ ۙ اِلَّا اِبْلِيْسَ ؕ اِسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ ۝ قَالَ يٰۤاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنٍ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌ >> ص 77:38-71

جبکہ تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں، پس جب میں اس کو پورا بنالوں اور اس کے اندر اپنی رُوح سے کچھ پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ چنانچہ تمام ملائکہ نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ گھمنڈ میں پڑ گیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس! کس چیز نے تجھے اس ہستی کو سجدہ کرنے سے منع کیا ہے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ تو نے اپنے آپ کو بڑا سمجھ لیا ہے یا واقعی تو کچھ بڑے لوگوں میں سے ہے۔ اس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے بنایا ہے۔ اس پر اللہ نے فرمایا: یہاں سے تو نکل جا کیونکہ تو مردود ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو سجدہ کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا تھا۔ یعنی وہ قدرت اور صنعتِ الہی کا مظہرِ اتم تھا۔ اور اس کے اندر خود اپنی طرف سے ایک خاص رُوح پھونکی تھی اور ایک محدود پیمانے پر اس میں وہ صفات پیدا کر دی تھیں جو بدرجۂ فوق التمام خود باری تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ اس شان اور ان صفات پر انسان کو پیدا کرنے کے بعد اعلان کیا گیا کہ ہم اس کو زمین میں خلیفہ بنانے والے ہیں۔ جیسا کہ سورۂ بقرہ کے چوتھے رکوع میں ارشاد ہوا ہے۔ فرشتوں نے اس معاملے میں کچھ اپنے شکوک پیش کیے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے انسان کی سب سے افضل صفت یعنی علم کا مظاہرہ کرایا۔ اس طرح جب خلافت کے لیے انسان کی اہلیت ثابت کر دی گئی تو فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس کی خلافت تسلیم کرو اور علامتِ تسلیم کے طور پر اسے سجدہ کرو۔ تمام فرشتوں نے اسے تسلیم کیا اور سر بسجود ہو گئے، مگر شیطان نے اس کی خلافت ماننے سے انکار کیا، اس لیے اس کو راندۂ درگاہ کر دیا گیا۔

یہ تمام اشارات کیا ظاہر کر رہے ہیں؟ تمام مخلوقات پر انسان کی فضیلت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ عام مقابلے میں اس کی فضیلت ثابت کی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ہماری صفات کا مظہرِ اتم ہے اور ہم نے اس میں اپنی طرف سے خاص رُوح پھونکی ہے۔ حکم ہوتا ہے اور وہ بھی کس کو؟ فرشتوں کو کہ اس کو سجدہ کرو۔ ان سب باتوں کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم اس کو خلیفہ بنانے والے ہیں۔ ان تیاریوں کے ساتھ جس خلیفہ کی خلافت کا اعلان کیا گیا، کیا وہ محض پُرانے ساکنینِ ارض ہی کا خلیفہ تھا؟ اگر بات صرف اتنی ہی تھی کہ پرانے بسنے والوں کی جگہ کسی دوسرے کو بسایا جا رہا تھا تو اس کے لیے فرشتوں کے سامنے اس کی خلافت کا اعلان کرنے اور یوں اس کی فضیلت کا مظاہرہ کرانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور پھر ملائکہ کو یہ حکم کیوں دیا گیا کہ اس کرۂ خاکی کے نو آباد کار کو، جو فقط دوسرے لوگوں کی جگہ لینے کے لیے جا رہا تھا، سجدہ کریں؟