مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

(۳) ترجمان القرآن کا جواب الجواب

غلامی کے مسئلے میں قرآن مجید نے یہ بات مسلمانوں کے اختیار پر موقوف رکھی ہے کہ خواہ احسان کے طور پر اسیرانِ جنگ کو رہا کریں خواہ فدیہ (بصورتِ نقد یا بصورتِ مبادلۂ اسیران) لے کر چھوڑ دیں۔ یہ کہیں حکم نہیں دیا ہے کہ اگر دوسری صورت نہ ہو تو پہلی صورت پر عمل کرنا لازم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ فطرتِ انسانی سے واقف ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ اگر معاملہ دو چار یا دس پانچ قیدیوں کا ہو تو مسلمان ان کو بطیب خاطر بطورِ احسان رہا کر سکتے ہیں، جیسا کہ انھوں نے عہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ میں بارہا کیا ہے، لیکن اگر سینکڑوں ہزاروں قیدیوں کا معاملہ ہو تو ایسی صورت میں جب کہ مسلمانوں کے بھی سینکڑوں ہزاروں آدمی کفار کے پاس قید ہوں اور ان کو غلام بنا کر رکھا گیا ہو، مسلمانوں کے لیے یہ بہت مشکل ہوگا کہ وہ کفار کے آدمیوں کو محض احسان کے طور پر رہا کر دیں۔ اس دوسری صورت میں اسیرانِ جنگ کی رہائی کے لیے صرف یہی ایک راستہ کھلا ہوا ہے کہ یا تو وہ خود زرِ نقد ادا کر کے رہا ہوں یا ان کی قومی حکومت سے اسیرانِ جنگ کا مبادلہ ہو۔ اب اگر اسیرانِ جنگ زرِ نقد ادا نہ کر سکتے ہوں، اور حکومت سے مبادلہ کا معاملہ طے نہ ہو سکے، اور دشمن کے ملک میں مسلمان قیدیوں کی حیثیت مملوکوں کی سی ہو، جیسی کہ فی الواقع ہزار برس تک بلکہ اس سے بھی زیادہ زمانے تک رہی ہے، تو کیا وجہ ہے کہ اُسی طرح مسلمانوں کو بھی حق نہ ہو کہ وہ کفار کے قیدیوں کو غلام بنا کر رکھیں؟ آپ اس مسئلے پر آج کل کے حالات کی روشنی میں غور فرما رہے ہیں جب کہ غیر مسلم قوموں میں اسیرانِ جنگ کو غلام بنانے کی رسم موقوف ہو چکی ہے۔ مبادلۂ اسیران کا طریقہ عام طور پر دنیا میں رائج ہو چکا ہے اور وہ حالات باقی نہیں رہے جن میں اسیرانِ جنگ کو غلام بنا کر رکھنے پر مسلمان مجبور ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو غلامی کے اسلامی قانون کا جواز تسلیم کرنے میں تامل ہورہا ہے، لیکن اگر آپ اُن حالات پر نظر رکھیں جو اب سے ڈیڑھ سو برس پہلے تک دنیا میں رائج رہے ہیں، تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اسلامی قانون میں غلامی کے لیے جو گنجائش رکھی گئی ہے، وہ بے جا نہیں ہے۔ یہ دراصل قرآن مجید کا کمالِ حکمت ہے کہ اُس نے غلامی کے مسئلے میں ایسا حکم دیا جس میں وقت کے حالات کی رعایت بھی ملحوظ رکھی گئی تھی، اور آئندہ کے لیے ایک اصلاحی قانون بھی بنا دیا گیا تھا تا کہ جب حالات بدل جائیں تو آپ سے آپ نیا قانون نافذ ہو جائے۔

آپ نے غلامی کے مسئلے پر جو اظہارِ خیال فرمایا ہے اس میں ایک طرف آپ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی رُو سے غلامی ناجائز ہے، اور دوسری طرف آپ یہ بھی مانتے ہیں کہ صحابہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم اسیرانِ جنگ کو غلام بناتے رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ اور اہل بیت کا فعل قرآن کے خلاف اور ناجائز تھا۔ آپ تاریخی حدود میں جا کر اور اسباب و حالات کی مجبوریوں پر بحث فرما کر خواہ کیسا ہی کافی و شافی جواب عطا فرمائیں، مگر خود آپ کے اپنے مقدمات سے جو منطقی نتیجہ نکلتا ہے، اس پر آپ کسی طرح پردہ نہیں ڈال سکتے۔ آپ کو نہ صرف یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ خلفائے راشدین، اور اصحابِ رسولؐ اور اہلِ بیت رسولؐ کا فعل قرآن مجید کے خلاف اور ناجائز تھا، بلکہ آپ کو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ معاذ اللہ ! قرآن مجید نے قبل از وقت ایک ایسا غیر حکیمانہ قانون بنا دیا تھا جس میں وقت کے حالات کی کوئی رعایت ملحوظ نہ رکھی گئی تھی، جس پر ۱۲ سو برس تک عمل کرنا دشوار رہا، اور جس پر وہ لوگ بھی عمل درآمد نہ کر سکے جو خاص سرکارِ رسالت مآب کے تربیت یافتہ تھے اور جنھوں نے اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیم کے سانچے میں ڈھالنے کی وہ انتہائی کوشش کی تھی جو کسی انسان کے امکان میں ہے۔

یہ محض منطقی قیاس ہی نہیں ہے بلکہ اگر غور کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے کہ آیت <<فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً>> کے جو معنی آپ بیان فرما رہے ہیں، اگر وہی اسلام کا قانون قرار پائے تو بعض حالات میں وہ مسلمانوں کے لیے سخت نقصان دہ اور قطعاً نا قابلِ عمل ہو سکتا ہے۔ اس قانون پر عمل درآمد کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اگر کسی وقت کفارِ زرِ فدیہ ادا نہ کریں اور اسیرانِ جنگ کا مبادلہ بھی قبول نہ کریں تو مسلمان بہر صورت اُن کے قیدیوں کو رہا کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر مسلمانوں کا قانون یہی ہوتا تو کوئی کافر قوم اتنی احمق نہ تھی کہ زرِ فدیہ ادا کرتی یا مسلمانوں کے قیدیوں کو رہا کر دیتی۔ اس صورت میں لاکھوں مسلمان کفار کے ہاتھ قید ہوتے اور کبھی رہا نہ ہو سکتے، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غلامی کی مصیبت میں گرفتار رہتے، اور اس کے مقابلے میں کافروں کے آدمی ہر لڑائی کے بعد آزاد ہو جایا کرتے۔ آپ ہی فرمائیے کیا ایسا قانون منصفانہ کہا جاسکتا ہے؟ اور کیا کسی زمانے میں اس پر انسان عمل کر سکتے ہیں؟ (ترجمان القرآن ج ۵،ش ۴)