مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مخلوط شادیوں کی مُضِرّت

دینی نقطۂ نظر سے ہٹ کر خالص عمرانی نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مخلوط شادیوں (Mixed Marriages) سے بڑھ کر کوئی چیز نظامِ معاشرت اور خاندانی زندگی کو فاسد کرنے والی نہیں ہو سکتی۔ دو ایسے میاں بیوی جن کے خیالات میں بُعد المشرقین ہو اور جنھوں نے دو بالکل مختلف ماحولوں میں مختلف روایات اور مختلف معاشرتوں کے زیر اثر پرورش پائی ہو، اپنے باہمی اختلاط سے نہ تو خود اپنی زندگی میں سکون و راحت حاصل کر سکتے ہیں، نہ اپنے گھر کو کسی نظامِ معاشرت کا صالح رکن بنا سکتے ہیں، اور نہ کوئی ایسی نسل پیدا کر سکتے ہیں جو کسی نظامِ تمدن میں اچھی طرح کھپ سکتی ہو۔ یہ ممکن ہے کہ اُن کے درمیان محبت ہو اور آخر تک رہے، مگر اُن کی محبت اور رفاقت زیادہ سے زیادہ صرف اُنھی کی ذات کے لیے لطف ولذت کی موجب ہو سکتی ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا کوئی تمدنی فائدہ نہیں ہے۔ اختلافِ مذہب اور اختلافِ قومیت تو خیر بڑی چیز ہے، خاندانی زندگی کی کامیابی اور نظامِ تمدن کی بہتری کے لیے تو ایسی شادیاں بھی مفید نہیں ہوتیں جن کے دونوں فریق ایک ہی سوسائٹی کے دو مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہوں۔ شہری اور دیہاتی تک کا فرق بارہا ناموافقت کا موجب بن جاتا ہے۔ نباہ کے لیے ضروری ہے کہ زوجین اور ان کے خاندانوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ اُمور میں اتحاد ہو۔ صرف یہی کافی نہیں ہے کہ ان کا دین ایک ہو، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کا طرزِ معاشرت ایک ہو، ان کے خیالات اور اصولِ حیات میں یکسانی ہو، ان کے معاشی اور معاشرتی مرتبے میں ہمواری ہو، اور ان کی خاندانی روایات ایک دوسرے سے بہت زیادہ مختلف نہ ہوں۔ یہی چیز ہے جس کو اصطلاحِ شریعت میں ’’کفاءت‘‘ کہتے ہیں۔ شارع نے مناکحت میں کفو کو جو اہمیت دی ہے، وہ اسی لیے ہے کہ زوجین میں زیادہ سے زیادہ مماثلت ہو، کیونکہ مماثلت صرف زوجین ہی کے لیے مودّت ورحمت کی موجب نہیں ہے بلکہ پوری سوسائٹی کے لیے مفید ہے اور آئندہ نسلوں کی بہتری بھی اسی پر موقوف ہے۔ جن زوجین میں مماثلت نہیں ہوتی ان کی مواصلت محض ایک جسمانی مواصلت ہے، جو تمدن وتہذیب کے نقطۂ نظر سے قطعی بانجھ یا قریب قریب بانجھ ہوتی ہے۔