تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نکاحِ کتابیہ کی کراہیّت
جو لوگ شریعتِ اسلام کی رُوح سے اچھی طرح واقف تھے، انھوں نے اسی بنا پر اس اجازت کو ہمیشہ رُخصت ہی کے قبیل سے سمجھا اور اس کو پسند نہ کیا کہ مسلمانوں میں کتابیات سے شادی کرنے کا عام رواج ہو۔ شریعت کے سب سے بڑے راز داں اپنے عہد میں حضرت عمرؓ تھے۔ انھوں نے حضرت حذیفہؓ کو جو کچھ لکھا تھا وہ شریعت کے مقصد پر خوب روشنی ڈالتا ہے۔ زمانہ اسلام کے غلبے کا تھا۔ مسلمان علاقۂ شام میں فاتح اور حکمران کی حیثیت سے تھے۔ معاملہ ایک ایسے جلیل القدر مسلمان کا تھا جس نے براہِ راست شمعِ نبوت سے نورِ ایمان کا اکتساب کیا تھا۔ اسلامی اخلاق اور اسلامی تہذیب میں اس سے بڑھ کر اور کون پختہ ہو سکتا تھا! مگر باوجود اس کے حضرت عمرؓ نے حضرت حذیفہؓ کو ایک کتابیہ کے ساتھ ازدواجی تعلق رکھنے سے منع کیا۔ پھر یہ نہیں فرمایا کہ کتابیہ سے شادی کرنا حرام ہے بلکہ یہ فرمایا کہ اس سے مسلمان گھروں میں اہلِ کتاب کی بداخلاق عورتوں کے گھس آنے کا اندیشہ ہے، لہٰذا اس اجازت سے فائدہ نہ اُٹھانا ہی بہتر ہے۔
غور کیجیے کہ جب غلبے کی حالت میں نکاح کتابیہ کے متعلق اسلام کا یہ طرزِ عمل ہے تو ایسی حالت میں کیا طرزِ عمل ہونا چاہیے جب کہ ایک مسلمان کفار سے مغلوب اور مرعوب ہو اور ان کی سوسائٹی میں گھرا ہوا ہو۔ اس وقت تو نکاح کتابیہ کی کراہت اور زیادہ بڑھ جانی چاہیے، کیونکہ دارالکفر میں اس کی مُضرتیں کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ اسلام نے عموماً نکاح کتابیہ کو مکروہ، اور خصوصاً دارالکفر میں نہایت مکروہ قرار دیا ہے۔ شمس الائمہ سرخسی اپنی کتاب المبسوط میں لکھتے ہیں:
<<يجوز للمسلم ان يتزوج كتابية فى دارالحرب ولكنه يكره لانه اذا تزوجها ثَمَّةَ رُبّماً يختار المقام فيهم......واذا ولدت تخلق الولد باخلاق الكفار وفيه بعض الفتنة فيكره لهذا....وسئل على رضى الله عنه عن مناكحة اهل الحرب من اهل الكتب فكره ذالك. (ج ۵ ص ۵۰)>>
مسلمان کے لیے دارالحرب میں کتابیہ سے شادی کرنا جائز تو ہے مگر مکروہ ہے کیونکہ اگر وہ وہاں شادی کرے گا تو ممکن ہے کہ کفار ہی کے ملک میں رہ پڑے...... اور جب کتابیہ کے پیٹ سے اولاد پیدا ہو تو وہ کفار کے اخلاق پر اُٹھے۔ اس میں اور بھی فتنے ہیں، اس لیے یہ مکروہ ہے۔...... حضرت علیؓ سے حربی عورتوں کے ساتھ نکاح کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اس کو مکروہ فرمایا۔
امام ابن جریر طبری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
ذمیہ اور حربیہ دونوں سے نکاح جائز ہے بشرطیکہ نکاح کرنے والا ایسی جگہ نہ ہو جہاں اس کی اولاد کے کفر پر مجبور ہونے کا خوف ہو۔ (جزء سادس، ص ۶۱)
ہدایہ میں ہے کہ:
<<ويجوز تزويج الكتابيات والاولى ان لا يفعل ولا يأكل ذبيحتهم الا لضرورة وتكره الكتابية الحربية اجماعًا لانفتاح باب الفتنة من امكان التعلق المستدعى للمقام معها فى دارالحرب وتعريض الولد على التخلق بأخلاق اهل الكفر. (كتاب النكاح)>>
کتابیات سے نکاح کرنا جائز تو ہے مگر بہتر یہی ہے کہ نہ کیا جائے اور نہ ان کا ذبیحہ کھایا جائے، الاّ یہ کہ کوئی ضرورت آ پڑے۔ اور حربی کتابیہ سے نکاح کرنا تو بالا جماع مکروہ ہے، کیونکہ اس سے فتنے کا دروازہ کھلتا ہے۔ مثلاً یہ کہ عورت سے ایسا گہرا تعلق ہو جائے کہ مسلمان شوہر اسی کے ساتھ کافروں کے ملک میں رہ پڑے اور یہ کہ اس کی اولاد اہل کفر کے اخلاق سے متخلق ہو کر اٹھے۔
اس بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کتابیہ کو حرام اور باطل ٹھیرانا تو درست نہیں ہے، البتہ قانونِ اسلامی کی رُوح اور ائمۂ اسلام کے اجماع سے اس کا مکروہ ہونا اور خصوصاً دارالکفر میں، اور غلبۂ کفار کی حالت میں نہایت درجہ مکروہ ومبغوض ہونا ثابت ہے۔ اس کے ساتھ حضرت عمرؓ کے فعل سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ صرف نکاح کتابیہ ہی کے معاملے میں نہیں بلکہ شریعت کی تمام رخصتوں کے معاملے میں، جن سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کا اندیشہ پایا جاتا ہو، مسلمانوں کے اولی الامر کو امتناعی احکام جاری کرنے کا حق ہے، اور اس قسم کے امتناعی احکام جائز کو ناجائز اور حلال کو حرام کیے بغیر نافذ کیے جاسکتے ہیں، مگر ایسے احکام جاری کرنے والوں میں اتنا تفقّہ ہونا چاہیے کہ وہ قانونِ شریعت کی شانِ اعتدال کو ضائع نہ کریں۔
ترجمان القرآن
(محرم ۱۳۵۶ھ)