تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نماز اور خطبہ کے مقاصد کا فرق
اس میں شک نہیں کہ خطبہ بھی نماز کی طرح ایک عبادت ہے، لیکن دونوں کے مقاصد مختلف ہیں۔ نماز سے جو کچھ مقصود ہے وہ بغیر اس کے بھی حاصل ہو سکتا ہے کہ انسان اُن عبارات کو سمجھے جن کو وہ نماز میں پڑھتا ہے، اس لیے کہ اس کا خدا کی فرض کی ہوئی عبادت کو فرض سمجھنا، اور نماز کا وقت آنے پر ادائے فرض کے لیے اٹھنا اور اس کا اہتمام کرنا، پھر پوری شرائط اور تمام ارکان کے ساتھ نماز کو اس طرح ادا کرنا کہ گویا اسے اس امر کا شعور ہے کہ خدا اس کی خفی سے خفی باتوں کو بھی سن رہا ہے اور یہ کہ اگر وہ نماز میں کوئی چیز بھی کم کر دے گا تو خدا کو اس کا علم ہو جائے گا، پھر اس کا یہ سمجھنا کہ یہ رکوع و سجود اور قیام و قعود جو کچھ بھی میں کر رہا ہوں، صرف خدا کے لیے ہے، اور خدا کے سوا میں کسی کا عبادت گزار نہیں ہوں، یہ سب اُمور اُس مقصد کی تحصیل کے لیے بالکل کافی ہیں جس کے لیے نماز فرض کی گئی ہے، لیکن خطبہ جس غرض کے لیے مقرر کیا گیا ہے وہ بغیر اس کے حاصل نہیں ہو سکتی کہ سامعین اس کو سمجھیں، اس لیے کہ خطبے کا مقصد محض خدا کی یاد اور ذاتِ حق کی طرف رجوع اور خشیت اور انابت ہی نہیں ہے، بلکہ احکامِ دین کی تبلیغ و تعلیم اور وعظ وتذکیر بھی ہے۔ اور یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ لوگ اُن احکام اور مواعظ کو نہ سمجھیں جو خطبے میں بیان کیے جاتے ہیں۔