مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نماز کے متعلق ایک عام شبہ

پچھلے مضمون کی اشاعت کے بعد ہمیں ایک خط موصول ہوا جس میں حسب ذیل شبہ کا اظہار کیا گیا ہے:

”جہاں تک اوقاتِ نماز کا تعلق ہے، آپ نے ”حق گو“ کے شبہات کو اس طرح دُور کر دیا ہے کہ کسی بحث و کلام کی گنجائش باقی نہیں رہی، لیکن جہاں آپ نے یہ بتایا ہے کہ انسان کی عملی زندگی پر نماز کا کیا اثر مرتب ہوتا ہے، اور نماز کس طرح انسان کو اطاعتِ احکامِ الٰہی کا خوگر بناتی اور اس میں فرض شناسی کا مادہ پیدا کرتی، اور اسے زندگی کے معاملات میں اسلام کے ڈسپلن کی پابندی کرنے کے قابل بناتی ہیں، وہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے جس کا کوئی جواب میری سمجھ میں نہیں آتا۔ نظریے کی حد تک تو میں مانتا ہوں کہ نماز، اور صرف نماز ہی نہیں، اسلام کی دوسری فرض عبادات بھی اسی غرض کے لیے رکھی گئی ہیں کہ انسان کی عملی زندگی پر ان کا اثر مرتب ہو، اور ان کے لیے جو صورت مقرر کی گئی ہے وہ یقیناً ایسی ہے کہ اس کا وہی اثر اخلاق و سیرت اور کردار پر مرتب ہونا چاہیے جو مقصود ہے، مگر اس کی کیا وجہ ہے کہ آج ہم اس اثر کو مسلمانوں کی عملی زندگی میں مفقود پاتے ہیں؟ چاہیے تو یہ تھا کہ نماز پڑھنے والے، روزہ رکھنے والے، حج اور زکوٰۃ ادا کرنے والے مسلمان اسلامی اخلاق کے نمونے ہوتے، صداقت، امانت، تقویٰ و طہارت کے پتلے ہوتے، مگر واقعہ اس کے خلاف نظر آتا ہے۔ نمازیوں، روزہ داروں اور حاجیوں کو ہم باعتبار اخلاق و معاملات ان لوگوں سے کچھ بھی مختلف نہیں پاتے جو نماز، روزہ اور دوسری عبادات کے تارک ہیں بلکہ بہت سے عبادت گزار لوگوں کا حال تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنی عبادت گزاری کو اپنے معاملات کی خرابی کے لیے سپر بنا رکھا ہے اور ان کے اعمال کی خرابیوں کو دیکھ دیکھ کر اکثر نئے تعلیم یافتہ حضرات خود نماز روزے کی طرف سے بدگمان ہوتے جا رہے ہیں۔“

اس خط میں معترض نے جو شبہ ظاہر کیا ہے وہ آج کل عام طور پر دلوں میں پایا جاتا ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک حد تک واقعات پر مبنی بھی ہے مگر اس میں کوئی ایسا اشکال نہیں ہے جس کے حل میں دشواری ہو۔ معترض خود تسلیم کرتا ہے کہ اسلامی عبادات کا نظریہ اپنی جگہ بالکل درست ہے۔ عقل حکم لگاتی ہے کہ جس غرض کے لیے یہ عبادات فرض کی گئی ہیں وہ اُن سے بدرجہ اتم پوری ہونی چاہیے، کیونکہ انسان کے نفس کو خدا کی طرف متوجہ کرنے اور احکامِ خداوندی کی اطاعت کا خوگر بنانے کے لیے اس سے بہتر کوئی عملی طریقہ نہیں ہوسکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ عالمِ واقعہ میں بھی اس نظریے کی صحت ثابت ہو چکی ہے۔ قرونِ اولیٰ میں اسی نماز، روزے اور حج و زکوٰۃ نے اسلام کے نصب العین کے مطابق عرب و عجم کے لاکھوں، کروڑوں انسانوں کی روحانی و اخلاقی تربیت کی تھی اور ان کے اخلاق و سیرت اور کردار پر وہی اثر ڈالا تھا جو اسلام کا مقصود تھا۔ اب اگر ہم کسی شخص یا جماعت کی عملی زندگی میں ان عبادات کے وہ اثرات نہیں دیکھتے تو ان عبادات کی تاثیر میں شبہہ کرنے کے بجائے ہم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نفوس کی اثر پذیری کی صلاحیت کس وجہ سے ماؤف ہو گئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔ تجربے و مشاہدے کی تکرار نے اس امر میں کسی شبے کی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے کہ آگ کا کام جلانا اور لکڑی کا کام جل جانا ہے۔ اس یقینی علم کے بعد اگر کسی وقت ہم یہ دیکھتے ہیں کہ لکڑی کو آگ پر رکھا جا رہا ہے اور وہ نہیں جلتی تو ہم کو یہ گمان نہیں ہوتا کہ آگ میں جلانے کی خاصیت نہیں رہی ہے، بلکہ ہم یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ لکڑی گیلی ہے، اس میں آگ کا اثر قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جس طریق تربیت و ہدایت کے متعلق از روئے عقل ہم جانتے ہیں کہ نفوس پر اس سے ایک خاص اثر مترتب ہونا چاہیے اور اس کی عین فطرت اس کی مقتضی ہے کہ اس سے نفوس پر وہی اثر مترتب ہو اور تجربے سے ثابت ہو چکا ہے کہ مختلف زمانوں اور مختلف حالات میں بے شمار نفوس پر فی الواقع وہی اثر مترتب ہوا ہے، اس کی تاثیر کو اگر ہم بعض نفوس کے حق میں ناکام دیکھتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہمارے دل میں اس کی تاثیر کے متعلق کوئی شک پیدا ہو؟ کیوں نہ ہم سمجھیں کہ گیلی لکڑی کی طرح ان نفوس میں بھی اثر قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے؟

جہاں تک نماز کی ظاہری صورت کا تعلق ہے، وہ تو اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کہ اوقاتِ مقررہ پر چند جسمانی حرکات کا اعادہ اور چند مقرر الفاظ کی تکرار ہے اور یہی حال دوسری عبادات کا بھی ہے۔ ایک خاص مہینے میں صبح سے شام تک اکل وشرب اور مباشرت سے مجتنب رہے، اس کا نام روزہ ہو گیا۔ سال میں ایک مرتبہ اپنے مال میں سے ایک مقررہ مقدار مخصوص مصارف کے لیے نکال دی، یہ زکوٰۃ ہو گئی۔ ایک خاص زمانے میں حجاز کا سفر کر لیا اور مخصوص مقامات پر چند مناسک ادا کر دیئے، یہ حج ہو گیا۔ ظاہر ہے کہ بجائے خود ان افعال میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو انسان کے نفس پر اثر انداز ہو سکتی ہو، مجرد افعال ہونے کے لحاظ سے نماز اور ایک جسمانی ورزش، روزے اور فاقے، زکوٰۃ اور سرکاری ٹیکس حج اور عام سفروں کے درمیان کچھ بھی فرق نہیں۔ اور کوئی صاحب عقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ ورزش جسمانی سے رُوح میں لطافت پیدا ہوتی ہے، یا فاقہ کرنے سے اخلاقی تربیت ہوتی ہے، یا ٹیکس ادا کرنے اور کسی مقام کا سفر کر آنے سے انسان میں اعلیٰ درجے کے اوصاف پیدا ہو جاتے ہیں۔

مگر جو چیز ان اعمال کو دوسرے افعال سے ممتاز اور ان کو تہذیب اخلاق وتزکیۂ نفس و تصفیۂ رُوح کا ایک بہترین ذریعہ بناتی ہے، وہ ایمان ہے۔ ایمان ہی رکوع وسجود، اور قیام و قعود کو ”نماز“ بناتا ہے۔ وہی فاقے کو ”روزے“ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ وہی ٹیکس کی ماہیت میں انقلاب پیدا کر کے اُسے ”زکوٰۃ“ کا بلند مرتبہ بخشتا ہے اور وہی ایک خاص قسم کے سفر کو سیروسیاحت کے ادنیٰ مقام سے اُٹھا کر ”حج“ کے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیتا ہے۔ درحقیقت ان تمام عبادات کی رُوح اور ان کا جوہر وہی ہے۔ اسی سے ارکانِ عبادت میں معنویت پیدا ہوتی ہے۔ وہی اُن ارکان کو تاثیر کی قوت بخشتا ہے۔ اُسی کی بدولت نفس میں اُن سے متاثر ہونے کی استعداد پیدا ہوتی ہے۔

اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی ایمان رکھتا ہو، خدا کو اپنا خدا سمجھتا ہو، آخرت کی زندگی پر عقیدہ رکھتا ہو، محمدؐ کو اللہ کا رسول مانتا ہو، اور ان کی لائی ہوئی تعلیم کو خدا کی تعلیم سمجھتا ہو تو ممکن نہیں ہے کہ وہ دن میں پانچ وقت نماز کا سبق تازہ کرے اور پھر بھی اس کی لوحِ دل اس سبق کے اثر سے یکسر خالی رہے اور اس کی روزمرہ زندگی میں خوفِ خدا اور اطاعتِ احکامِ الٰہی کا کوئی نشان نمایاں نہ ہو۔ ہر سال پورے ایک مہینے تک سخت ضوابط کے ماتحت پرہیزگاری اور خدا ترسی کی تربیت پاتا رہے اور پھر بھی اس کی زندگی میں قطعاً کوئی انقلاب نہ ہو، حتیٰ کہ وہ بالکل ایسا کورے کا کورا رہ جائے کہ گویا اس نے کوئی تربیت پائی ہی نہیں۔ خالص ایمان بالغیب کی تحریک پر ہر سال اپنے محبوب مال کی قربانی کرتا رہے۔ اور پھر بھی اُسی شُحِّ نفس اور قساوتِ قلب اور حرام خوری و خود غرضی کے مرض میں مبتلا رہے، جو ایک بے ایمان، خود پرست انسان میں پائی جاتی ہے۔ اپنے ربّ کی پکار پر لبیک لبیک کہتا ہوا اپنا گھر بار چھوڑ کر اپنے مفید و محبوب مشاغل ترک کر کے فقیرانہ لباس پہن کر نکلے، ایک مدتِ دراز تک اسی شوق اور عشق کی لگن دل میں لیے ہوئے سفر کرے، یہاں تک کہ مرکزِ اسلام میں پہنچ کر اپنی آنکھوں سے اللہ کی اُن روشن نشانیوں کا مشاہدہ کر لے جو خدا کے سچّے اور مطیع فرمان بندوں کی سرفرازیوں پر اور سرکشوں کی نامرادیوں پر کھلی گواہی دے رہی ہیں، اور پھر بھی جب واپس آئے تو اس سفر کے آثار اور نتائج سے اس کی سیرت ایسی معرا ہو کہ وہ گویا کہیں گیا ہی نہیں اور اس کی آنکھوں نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔

یہ ضرور ہے کہ کمیت و کیفیت کے اعتبار سے ہر نفس پر ان عبادات کی تاثیرات یکساں نہیں ہو سکتیں۔ نفوس کی کم و بیش صلاحیتوں کے لحاظ سے، اور قوتِ ایمانی کی زیادتی اور کمی کے لحاظ سے اُن کا کم و بیش اور شدید و ضعیف ہونا ایک فطری بات ہے، لیکن یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ ایمان کے ساتھ جو عبادت کی جائے وہ بالکل ہی بے اثر ثابت ہو۔ ہم یہ بات قطعیت کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ جو شخص نماز کو فحشا و منکر کے ساتھ جمع کرتا ہے، جس کی زندگی میں روزہ اور فسق ایک ساتھ پائے جاتے ہیں، جس کی سیرت میں حرام خوری اور زکوٰۃ دونوں بہم ہیں، جو حج اور ہتکِ حرمات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا رہا ہے، اس کی نماز، ”نماز“ نہیں ایک عادی حرکت ہے، اس کا روزہ، ”روزہ“ نہیں فاقہ ہے، اس کی زکوٰۃ ”زکوٰۃ“ نہیں چندہ یا ٹیکس ہے، اس کا حج ”حج“ نہیں بلکہ اس کے حق میں ویسا ہی ایک سفر ہے جیسا پیرس اور لندن کا سفر۔

یہ جو کچھ کہا گیا ، اس کے مصداق صرف وہی لوگ ہیں جن کی سیرت اور کردار پر معترض کے بیان کے مطابق ، عباداتِ اسلامی کا کوئی اثر مترتب نہیں ہوتا، لیکن مجھے یہ تسلیم کرنے سے قطعی انکار ہے کہ مسلمانوں میں جتنے نمازی ، روزہ دار، زکوٰۃ کے پابند اور حج ادا کرنے والے ہیں ، سب کے سب ایسے ہی ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک قلیل تعداد ایسے منافقین پر بھی مشتمل ہو، لیکن الحمدللہ کہ اکثریت کا یہ حال نہیں ہے۔ اکثریت جس مرض میں مبتلا ہے وہ نفاق نہیں، بلکہ ضعفِ ایمانی ہے۔ اسی ضعف کا یہ نتیجہ ہے کہ عبادات کی تاثیریں بھی ضعیف ہوگئی ہیں۔ نمازیں پڑھتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں ، حج بھی کرآتے ہیں مگر یہ سب چیزیں دلوں کو مس کرتی ہوئی اس طرح گزر جاتی ہیں جیسے بھاپ آئینے کی سطح پر ایک ہلکی سی نمی چھوڑ کر گزر جائے۔ یہ تاثیر کا عدم نہیں بلکہ اس کا ضعف ہے۔ ایمان کی چنگاریاں دلوں میں دبی چھپی اب بھی موجود ہیں ، اور ان کی حرارت سے عبادتیں کچھ نہ کچھ اثر ضرور کر رہی ہیں ، لیکن وہ اثر اتنا کمزور ہے کہ عبادت گزاروں کی سیرت اور کردار میں اس کے نشانات کچھ بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوتے۔

میں یہ ماننے سے بھی انکار کرتا ہوں کہ مسلمانوں میں جو لوگ عبادات کے پابند ہیں ، ان کا حال عبادت نہ کرنے والوں سے بدتر یا اُن کے برابر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہماری قوم میں اب بھی اگر مجموعی حیثیت سے دیکھا جائے تو اخلاقی حیثیت سے وہی عنصر زیادہ بہتر پایا جائے گا جو نماز روزے کا پابند ہے، مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ دیکھنے والوں کی نگاہوں میں خدا فراموش لوگوں کی بہ نسبت عبادت گزاروں کی برائیاں زیادہ کھٹکتی ہیں۔ ایک تارکِ صوم وصلوٰۃ کی بدسیرتی و بد معاملگی اتنی زیادہ بُری معلوم نہیں ہوتی جتنی ایک پابندِ صوم وصلوٰۃ کی بدسیرتی و بدمعاملگی ۔ بے نمازی سے بُرائی ہی متوقع ہوتی ہے اس لیے جب وہ بُرائی کرتا ہے تو اس کی کچھ زیادہ شکایت نہیں ہوتی ، مگر نمازی سے ہر شخص یہ اُمید رکھتا ہے کہ وہ خدا سے ڈرنے والا اور پرہیز گار ہوگا، اس لیے جب اس سے عام توقعات کے خلاف بُرے اوصاف کا ظہور ہوتا ہے تو یہ معاملہ ہر آنکھ میں کھٹک اور ہر زبان پر شکایت پیدا کر دیتا ہے۔

سفید دیوار پر سیاہی کی ایک چھینٹ بھی ہو تو ہر دیکھنے والا اس عیب پر انگلی اُٹھائے گا۔ باورچی خانے کی سیاہ دیواروں پر جتنا چاہے کوئلہ مل دیجیے، کسی کو بھی اس کی پروا نہ ہوگی۔

بے جا مبالغہ اگر نہ کیا جائے تو حقیقت صرف اتنی ہی ہے کہ ہمارے درمیان ایک عظیم اکثریت ایسے نمازیوں اور عبادت گزاروں اور حاجیوں کی ہے جو ان عبادات سے اصلاح نفس کے وہ پورے فوائد حاصل نہیں کر رہی ہے جو دراصل ان سے حاصل ہو سکتے ہیں اور یہ بات کچھ بے سبب نہیں ہے۔ اس کا ایک اہم سبب ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایمان، جو ان عبادات کی جان اور ان کی تاثیر کا اصل موجب تھا، دلوں میں ضعیف ہو گیا ہے۔

پھر ضعفِ ایمان کا بھی ایک سبب ہے اور وہ ہے قرآن کی تعلیم سے نابلد ہونا۔ خدا نے ایمان کی دعوت دینے کے لیے جس چیز کو ذریعہ بنایا تھا وہ تو یہی قرآن تھا مگر عام مسلمان اسی کے فہم سے محروم اور اسی کی تعلیم سے ناواقف ہیں۔ اب آخر دلوں میں ایمان کا نشو و نما ہو تو کس طرح۔

ایک اور چیز جس کا ہماری عبادتوں کو ضعیف الاثر بنانے میں بڑا حصہ ہے، دین اور دنیا کی علیحدگی کا غلط تخیل ہے۔ یہ دراصل جاہلیت کا اعتقاد تھا جس کو اسلام نے بالکل مٹا دیا تھا، مگر نہ معلوم اس نے کس طرح مسلمانوں میں راہ پالی۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ یہ سمجھتے تھے کہ دین انسانی زندگی کے شعبوں میں سے محض ایک شعبہ ہے جس کا دوسرے شعبوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مذہبی رسوم، عبادات اور قربانیاں محض اس لیے ضروری ہیں کہ خدا یا دیوتاؤں کو خوش کیا جائے، اور زندگی کے معاملات میں اُن کی تائید حاصل کی جائے۔ ان فرائض کو انجام دے کر جب انسان عبادت گاہوں سے باہر نکلے تو مذہب کی طرف سے اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور وہ مختار ہوتا ہے کہ اپنی دنیا کے معاملات جس ڈھنگ پر چاہے، چلائے۔ اسلام نے اس غلط حد بندی کو مٹایا۔ دین کو زندگی کا ایک شعبہ نہیں بلکہ پوری زندگی کا نظام العمل قرار دیا تھا۔ عقائد اور اخلاق کے درمیان، ایمان اور سیرت کے درمیان، عبادات اور معاملات کے درمیان، مذہبی اعمال اور دُنیوی اعمال کے درمیان ایک گہرا ربط قائم کیا۔ اور انسان کی دنیوی زندگی ہی کو بالکلیہ دینی زندگی بنا دیا۔ اس نے بتایا کہ دین اس دنیا کے معاملات سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اسی دنیا کے کاروبار میں اللہ تعالیٰ کے قانون کی پیروی ، اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی، اور اس کی رضا کے اتباع کا نام دین ہے۔ عبادات اور معاملات دو مختلف چیزیں نہیں ہیں بلکہ معاملات ہی میں حدود اللہ کی پابندی اور خوشنودی الٰہی کی طلب ، اور تقرب الی اللہ کی سعی کا نام عبادت ہے۔ نماز، روزہ اور حج و زکوٰۃ کو عبادت اور فرض قرار دینے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ عبادت کو انہی اعمال میں منحصر کر دیا جائے، بلکہ دراصل یہ اعمال انسان کو اُس بڑی عبادت کے لیے مستعد کرنے والے ہیں جس کا دائرہ اُس کی پوری زندگی پر وسیع ہے۔ مسلمان کی عبادت گاہ پوری کائنات ہے۔ اس کی ساری زندگی عبادت ہے۔ اس کو ہر آن خدا کا عبادت گزار بندہ ہونا چاہیے۔ اس کا معبد صرف اس کی مسجد تک محدود نہیں بلکہ مسجد اس کی تربیت گاہ ہے جہاں وہ عبادت کی قابلیت پیدا کرتا ہے۔ اگر اس کی نماز اور اس کے روزے اور اس کی دوسری عبادتوں کا ربط اس کے معاملات سے منقطع ہو جائے اور وہ اپنی زندگی کے اعمال میں قانون الٰہی کے اتباع سے آزاد ہو تو محض صوم و صلوٰۃ کی پابندی سے وہ دین دار اور عبادت گزار بندہ نہیں بن سکتا۔

افسوس ہے کہ دین کا یہ تصور رفتہ رفتہ مسلمانوں کے ذہن سے محو ہوتا جا رہا ہے اور دین و دُنیا کی علیحدگی کا وہی جاہلی تصور اس کی جگہ لے رہا ہے جس کو اسلام نے مٹا دیا تھا۔ اور یہ اسی غلط تصور کا نتیجہ ہے کہ عبادات اور معاملات کا باہمی تعلق منقطع ہو گیا۔ عملی زندگی سے نمازوں کا ربط ٹوٹ گیا۔ معاشیات پر زکوٰۃ کی فرماں روائی باقی نہ رہی۔ سال کے گیارہ مہینے رمضان کی حکومت سے آزاد ہو گئے بلکہ رمضان المبارک غریب خود بھی اپنے حدود میں صرف حلق کا دربان بنا کر رکھ دیا گیا۔ حج کی حیثیت ہندوؤں کی جاترا اور عیسائیوں کے pilgrimage سے زیادہ نہ رہی۔ اور یہ غلط فہمی عام طور پر لوگوں میں پھیل گئی کہ نماز اور فحشاء و منکر، روزے اور فسق و فجور، زکوٰۃ اور حرام خوری اور ہتکِ حرمات ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔

ترجمان القرآن

(شعبان ۱۳۵۴ھ بمطابق نومبر ۱۹۳۵ء)