مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قربانی کا حکم حدیث میں

اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ نبیؐ نے قرآن مجید کے اس حکم کا منشا کیا سمجھا اور اس پر کیا عمل فرمایا۔ کیا آپؐ نے صرف حج ہی میں قربانی کی ہے، یا مدینہ طیبہ میں بھی آپؐ عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرتے رہے؟ اور کیا آپؐ نے بقر عید پر قربانی کبھی کبھار کی ہے، یا بالالتزام کرتے رہے؟ اور کیا آپؐ نے محض بذات خود اس پر عمل کیا ہے یا مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا ہے؟ اس باب میں جو مستند روایات ہم تک پہنچی ہیں، میں انھیں بے کم و کاست یہاں نقل کیے دیتا ہوں:

<< (۱) عن البراء قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اوّل ما نبدأ به فى يومنا هذا ان نصلى ثم نرجع فننحر... من فعله فقد اصاب سنتنا ومن ذبح قبل فانما هو لحم قدمه لاهله ليس من النسك فى شىء۔ >>

<< (۲) وفى رواية من ذبح بعد الصلوة تم نسكه واصاب سنة المسلمين۔ >>

(بخاری، کتاب الاضحی)

براء بن عازب کہتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: سب سے پہلا کام جس سے ہم آج کے روز ابتدا کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں پھر واپس جا کر قربانی کرتے ہیں[صریح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ فصل لربک وانحر اور ان صلوتی ونسکی کی تفسیر ہے۔ نبیؐ نے ٹھیک ٹھیک قرآن کی ہدایت کے مطابق یہ طریقہ مقرر فرمایا ہے کہ پہلے نماز پڑھی جائے‘ پھر قربانی کی جائے۔]۔ جس نے اس پر عمل کیا اس نے ہمارے طریقے کے مطابق کیا، اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا تو اس کا شمار قربانی میں نہیں ہے بلکہ وہ ایک گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے مہیا کیا۔

دوسری روایت میں ہے کہ جس نے نماز کے بعد ذبح کیا، اس کی قربانی پوری ہوئی اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ پا لیا۔

ظاہر ہے کہ یہ روایت بقر عید ہی سے متعلق ہے۔ اور اس کا کوئی تعلق حج سے نہیں ہے، کیونکہ حج میں کوئی خاص نماز ایسی نہیں ہے جس سے پہلے قربانی کرنا اس سنت مسلمین کے خلاف اور بعد قربانی کرنا اس سنت کے مطابق ہے۔

<<(۳) قال یحیی بن سعید سمعت ابا امامۃ بن سھل قال لنا نسمن الاضحیہ بالمدینۃ وکان المسلمون یسمنون۔>> (بخاری، کتاب الاضاحی)

یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے ابو امامہ ابن سہل انصاری سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم لوگ مدینہ میں قربانی کے جانور کو خوب کھلا پلا کر موٹا کرتے تھے اور عام مسلمانوں کا یہی طریقہ تھا۔

<<(۴) عن انس بن مالك قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يضحی بكبشين وانا اضحی بکبشین۔>> (بخاری، کتاب الاضاحی)

نبیؐ کے خادم خاص انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو ہی مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں۔

<<(۵) عن عائشة قالت الاضحية كنا نملح منه فتقدم به الى النبی صلى الله عليه وسلم بالمدينة۔>> (بخاری، کتاب الاضاحی)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم مدینہ میں قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر رکھ دیا کرتے تھے اور پھر نبیؐ کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔

<<(۶) عن ابی عبید مولی بن ازھر انه شهد العيد يوم الاضحى مع عمر بن الخطاب فصلی قبل الخطبة ثم خطب الناس فقال ايها الناس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد نهاكم عن صيام هذين العيدين اما احدهما فيوم فطركم من صيامكم واما الاخر فيوم تاكلون من نسككم۔>> (بخاری، کتاب الاضاحی)

ابو عبید مولیٰ ابن ازہر کہتے ہیں کہ انھوں نے بقر عید کے روز حضرت عمرؓ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے پہلے نماز پڑھائی۔ پھر خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ لوگو! رسولؐ اللہ نے تم کو ان دونوں عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک عید تو تمھارے لیے افطار کا دن ہے، رہی یہ دوسری عید تو اس میں تم قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔

یہاں یہ بات جان لینی چاہیے کہ حج میں بقر عید کی نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے۔

لہٰذا حضرت عمرؓ کا یہ خطبہ یقینی طور پر مدینہ طیبہ میں ہوا ہے اور جو حکم انھوں نے بقر عید کی قربانی کے متعلق بیان کیا ہے، اس کا تعلق بھی لازماً مکہ سے باہر دوسرے مقامات سے ہے:

<<(۷) قال ابو الزبير انه سمع جابر بن عبدالله يقول صلى بنا النبى صلى الله عليه وسلم يوم النحر بالمدينة فتقدم رجال فنحروا وظنوا ان النبى صلى الله عليه وسلم قد نَحَر فامر النبى صلى الله عليه وسلم من كان نحر قبله ان يعيد بنحرٍ آخر ولا ينحروا حتى ينحر النبى صلى الله عليه وسلم.>> (مسلم، باب وقت الاضحية)

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہؓ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ نبیؐ نے ہمیں یوم النحر کو مدینہ میں نماز پڑھائی۔ پھر بعض لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ حضورؐ قربانی کر چکے ہیں، آگے بڑھ کر اپنے جانور قربان کر لیے۔ اس پر حضورؐ نے حکم دیا کہ جس نے مجھ سے پہلے قربانی کر لی ہے، اسے پھر دوسری قربانی کرنی چاہیے اور آیندہ کوئی شخص اس وقت تک قربانی نہ کرے جب تک کہ میں نہ کرلوں۔

<<(۸) عن جابر قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عيد الاضحى فلما انصرف اتى بكبش فذبحه فقال بسم الله والله اكبر اللّٰهم هذا عنى وعمن لم يضح من امتى.>>

(مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی)

جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کے ساتھ بقرعید کی نماز پڑھی۔ پھر جب آپؐ پلٹے تو آپؐ کی خدمت میں ایک مینڈھا پیش کیا گیا اور آپؐ نے اسے ذبح کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کے نام پر اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ! یہ میری طرف سے اور میری اُمت کے اُن سب لوگوں کی طرف سے ہے جنھوں نے قربانی نہ کی ہو۔

<<(۹) عن على بن الحسين عن ابى رافع ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا ضحى اشترى كبشين سمينين اقرنين املحين فاذا صلى وخطب الناس اتى باحدهما وهو قائم فى مصلاه فذبحه بنفسه بالمدينة.>> (مسند احمد)

علی بن حسینؒ ابو رافع سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ بقرعید کے موقع پر دو مینڈھے خریدتے تھے، خوب موٹے تازے بڑے سینگوں والے اور چتکبرے، پھر جب آپؐ نماز پڑھ چکتے اور خطبے سے فارغ ہو لیتے تو ان میں سے ایک مینڈھا پیش کیا جاتا اور آپؐ اپنے مصلے پر کھڑے کھڑے اس کو ذبح فرما دیتے۔

<<(۱۰) عن ابى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من وجد سعة فلم يضح فلا يقربن مصلانا.>> (مسند احمد، ابن ماجہ)

ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: جو شخص استطاعت رکھتا ہو، پھر قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔

<<(۱۱) عن ابن عمر قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة عشر سنين يضحى.>> (ترمذی)

ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ دس سال مدینہ میں رہے اور ہمیشہ قربانی کرتے رہے۔

یہ گیارہ روایتیں مختلف صحابیوں سے حدیث کی ۶ معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ نبیؐ نے قرآن کے مذکورہ بالا احکام کا منشا یہ سمجھا تھا کہ قربانی صرف حاجیوں کے لیے مخصوص نہ ہو بلکہ ذی استطاعت مسلمان بھی اپنی اپنی جگہ بقر عید کے موقع پر قربانی کرتے رہیں۔ اس طریقے پر حضورؐ خود عامل رہے ۔ دوسرے مسلمانوں کو حکم دیا اور اسے سنّتِ اسلام کے طور پر مسلمانوں میں جاری کیا۔