مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

آیت کا مفہوم

آیت میں مَنًّا اور فِدَاءً دونوں کے ساتھ لفظ امّا ہے، جو یا تو تخییر کے معنی میں ہے یا اباحت کے معنی میں۔ یعنی اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ تمھیں اختیار ہے چاہے احسان کرو چاہے فدیہ لے لو، یا یہ مطلب ہے کہ تمھارے لیے احسان کرنا بھی جائز ہے اور فدیہ لینا بھی۔ اس سے کسی طرح بھی یہ مطلب نہیں نکلتا کہ تم ان دونوں صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرنے پر مجبور ہو۔ حکم قطعی تو صرف اس حد تک تھا: << فَإِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۖ حَتّٰى إِذَا أَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ >>۔ یعنی جب کافروں سے تمھاری مڈبھیڑ ہو تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب مار چکو اور ان میں مقابلے کی طاقت باقی نہ رہے تو بقیۃ السیف لوگوں کو باندھ لو۔ اس حکم کے بعد اب مسلمانوں کو اختیار دیا جاتا ہے یا ان کو مجاز کیا جاتا ہے کہ چاہے قیدیوں کے ساتھ احسان کریں، چاہے فدیہ لے لیں۔

اس کے بعد لفظ مَنّ قابلِ غور ہے۔ مَنّ کے معنی صرف احسان کے ہیں۔ ”احسان رکھ کر چھوڑ دو“ مترجم کا اپنا اضافہ ہے۔ اگرچہ احسان کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ قیدیوں کو رہا کر دیا جائے، لیکن ایک صورت یہ بھی ہے کہ قید کی حالت میں اُن کے ساتھ احسان کا برتاؤ کیا جائے۔ اس صورت کی نفی، اور صرف رہائی میں مفہوم احسان کا انحصار، کہاں سے نکلتا ہے؟ اگر قرآن میں کوئی لفظ یا اشارہ ایسا ہے جس سے یہ مفہوم نکلتا ہو کہ احسان سے مراد صرف رہا کر دینا ہے، تو براہِ کرم اس کو بیان کیا جائے۔