تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
(۵) ترجمان القرآن کا آخری جواب
اسیرانِ جنگ کو غلام بنانے کے خلاف مصنف کے استدلال کا مدار اس آیت پر ہے:
<<حَتّٰٓى اِذَا اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَاِمَّا مَنًّاۢ بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً محمد 47:4>>
یہاں تک کہ جب ان کا زور توڑ لو تو ان کو قید کر لو، پھر یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر۔ [یہ مصنف کا اپنا ترجمہ ہے اس میں ”چھوڑ دو“ کا لفظ ان کا اپنا اضافہ ہے آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس کا یہ ترجمہ ہو۔]
اس آیت سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسیرانِ جنگ کے حق میں دو ہی صورتیں قرآن نے تجویز کی ہیں: یا تو کسی معاوضہ کے بغیر ہی انھیں رہا کیا جائے، یا معاوضہ لے کر، لیکن رہا کرنے کا حکم قطعی ہے، اور غلام بنا کر رکھنا کسی حال میں جائز نہیں ہے۔
اب ہم کو تین حیثیتوں سے اس آیت پر نظر ڈالنی چاہیے:
آیت کے الفاظ سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟
قرآن مجید کی دوسری آیات کی روشنی میں اس کی صحیح تفسیر کیا ہے؟
نبیؐ نے اس کا کیا مفہوم سمجھا اور اس پر کس طرح عمل کیا؟