مرکزی مواد پر جائیں
تفہیمات کی طرف واپس

تفہیمات – جلد دوم

اشاعت: 1950ء

مجموعہ: تفہیمات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ہیگل اور مارکس کا فلسفۂ تاریخ

جدید تہذیب جن عظیم الشان گمراہیوں کا سیلاب نوع انسانی پر اُمڈالائی ہے، اُس کے فکری ونظری سرچشموں میں سے ایک بڑا سرچشمہ وہ فلسفۂ تاریخ ہے جس کو ہیگل نے پیش کیا اور جس کے مقدمات پر بعد میں کارل مارکس نے اپنی مادّی تعبیر تاریخ کی بنا رکھی۔

ہیگل کے تاریخی فلسفے کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی تہذیب وتمدن کا ارتقا دراصل اضداد کے ظہور، تصادم اور امتزاج سے واقع ہوتا ہے، اور تاریخ کا ہر دَور ایک وحدت، ایک کُل، یا اگر استعارے کی زبان میں کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ گویا ایک زندہ نظام جسمانی ہوتا ہے۔ اس دَور میں انسان کے سیاسی، معاشی، تمدنی واخلاقی، علمی وعقلی اور مذہبی تصورات ایک خاص مرتبے پر ہوتے ہیں۔ ان سب کے اندر ایک مناسبت، ایک ہم آہنگ کلیت ہوتی ہے۔ وہ گویا اس زندہ وجود، یا اس عصری وحدت کے مختلف پہلو یا رُخ ہوتے ہیں، اور ان سب میں اس پورے دَور کی روح طاری وساری ہوتی ہے۔

جب ایک بڑا دَور اپنی رُوح کو انتہائی مدارج تک ترقی دے چکتا ہے اور اس دَور کو چلانے والے اصول، نظریات اور افکار انسانی تہذیب وتمدن کو اپنی قوت واستعداد کی آخری حد تک پہنچا دیتے ہیں، تب خود اسی دَور کی آغوش سے پرورش پا کر اس کا ایک دشمن ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی کچھ نئے افکار، نئے رجحانات، نئے نظریات اور نئے اصول، جو خود اسی رُو بہ زوال دَور کے طبعی تقاضے سے پیدا ہوتے ہیں اور پرانے افکار سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

کچھ مدت تک قدیم اور جدید میں کشمکش جاری رہتی ہے۔ بالآخر کسر وانکسار کے بعد قدیم وجدید میں امتزاج ہو جاتا ہے۔ کچھ قدیم عناصر اور کچھ جدید عناصر کی آمیزش سے ایک نئی عصری تہذیب وجود میں آتی ہے اور اس طرح تاریخ کا ایک دوسرا دور شروع ہو جاتا ہے۔

پھر اس نئے دور کی رُوح بھی جب اپنے انتہائی مدارج تک ترقی کر جاتی ہے تو اس کی آغوش سے پھر ایک دشمن ظاہر ہوتا ہے، پھر ایک کشمکش شروع ہو جاتی ہے اور پھر کسر وانکسار کے بعد ایک نیا مرکب پیدا ہوتا ہے جو ایک نئے دورِ تہذیب و تمدن کی رُوح بن جاتا ہے۔ اس عملِ ارتقا کو ہیگل اپنی اصطلاح میں جدلی عمل (dialectic process) کہتا ہے۔ اس کے نزدیک عرصۂ تاریخ یا میدانِ دہر میں گویا ایک مسلسل منطقی مناظرہ و مجادلہ ہو رہا ہے۔ پہلے ایک دعویٰ (Thesis) سامنے آتا ہے۔ پھر اس کے مقابلے میں جواب دعویٰ (antithesis) پیش ہوتا ہے۔ پھر ایک طویل جھگڑے کے بعد عقلِ کُل یا رُوحِ کُل ان کے درمیان صلح کراتی ہے، یعنی کچھ باتیں اس کی اور کچھ اُس کی قبول کر کے ایک مرکب (synthesis) بنا دیتی ہے۔ آگے چل کر یہ مرکب خود ایک دعویٰ بن جاتا ہے، پھر اس کا جواب دعویٰ مقابلے میں آتا ہے، اور پھر ان کے درمیان لڑائی کے بعد مصالحت ہوتی ہے اور ایک نیا مرکب بنتا ہے۔

ہیگل کے اس نظریے کی رُو سے جدلی عمل ایک کلّی اجتماعی عمل ہے۔ یعنی تاریخ کے ایک دور کی پوری انسانی تہذیب گویا ایک زندہ جسم یا ایک واحد وجود کی حیثیت رکھتی ہے اور افراد اور گروہ گویا اس جسم کے اعضا یا اجزا ہیں۔ اپنے دور کے اجتماعی مزاج یا اپنے دور کے تمدن و تہذیب کی ہمہ گیر رُوح میں سے کوئی فرد اور کوئی گروہ آزاد نہیں ہوسکتا۔ بڑے سے بڑے آدمی، نامور ترین تاریخی اشخاص تک اس جدلی کھیل، اس کُل کی کشمکش باخود میں شطرنج کے پیادوں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اس دریا کے طوفانی بہاؤ میں ”خیالِ مطلق“ ایک شاہانہ شان کے ساتھ بے روک ٹوک تاریخ کی شاہراہ پر خود ہی دعویٰ اور جواب دعویٰ اور بالآخر خود ہی امتزاج بین الاضداد کرتا ہوا بڑھتا ہوا چلا جا رہا ہے۔ عقلِ کل یا جانِ جہاں کی ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اشخاص اور گروہوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتی ہے کہ اس تاریخی ڈرامے میں وہ رہنمایانہ اور کارفرمایانہ پارٹ ادا کر رہے ہیں۔ حالانکہ دراصل جان جہاں انھیں خود اپنی تکمیل ذات کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ [ہیگل دراصل خدا کو عقلِ کل (world spirit)‘ جانِ جہاں (world reason)‘ رُوحِ مطلق (absolute spirit) اور فکرِ مطلق یا خیالِ مطلق (absolute Idea) وغیرہ ناموں سے یاد کرتا ہے۔ اس کے نزدیک انسانی تمدن وتہذیب کے ارتقا میں دراصل رُوحِ کل یعنی ذاتِ خداوندی ترقی کر رہی ہے۔ خدا اس پردے میں آپ اپنی نمائش کر رہا ہے۔ اپنی ذات کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے۔ تاریخ کی شاہراہ پر مارچ کر رہا ہے۔ رہا انسان تو وہ بے چارہ محض خارجی مظہر یا آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔]

کارل مارکس نے ہیگل کے اس فلسفیانہ نظریے میں سے جدلی عمل کا خیال تو لے لیا مگر رُوح یا فکر کا تصوّر، جو ہیگلی فلسفے کی جان تھا، اس سے الگ کر دیا۔ فکر کے بجائے اس نے مادّی اسباب یا معاشی محرکات کو تاریخی ارتقا کی بنیاد قرار دیا۔

اس نے کہا کہ انسان کی زندگی میں اصل اہمیت جس چیز کی ہے، وہ معیشت ہے۔ ایک تاریخی عہد کا معاشی نظام اپنے عہد کی پوری انسانی تہذیب کی شکل وصورت بناتا ہے۔ ہر عہد میں قانون، اخلاق، مذہب، فلسفہ، علوم وفنون اور فی الجملہ تمام انسانی افکار وتصورات (Ideologies) اس نظام معیشت کے اثر سے، یا اس نظام معیشت کو چلانے اور قائم رکھنے کے لیے بنتے ہیں جو اس عہد کی سوسائٹی میں کارفرما ہو۔

مارکس کے نزدیک تاریخ کے دوران میں جدلی عمل اس طرح رُونما ہوتا ہے کہ جب ایک معاشی نظام کے تحت ایک طبقہ اسباب زندگی کی تیاری وفراہمی اور ان کی تقسیم پر قابض ہو کر دوسرے طبقوں کو اپنا دست نگر بنا لیتا ہے تو رفتہ رفتہ ان دبے ہوئے طبقوں میں بے چینی شروع ہو جاتی ہے۔ وہ معاشی پیداوار (production) اور اسباب زندگی کی تقسیم اور ملکیتی تعلقات (property relations) کے ایک نئے نظام کا مطالبہ کرتے ہیں جو ان کے مفاد سے زیادہ مناسبت رکھتا ہو۔ یہ گویا اُس پرانے نظام کا جواب دعویٰ (antithesis) ہے، یا اُس کا وہ دشمن ہے جو خود اس کی آغوش سے پرورش پا کر نکلتا ہے۔ اب دونوں میں کشمکش شروع ہوتی ہے اور اس کشمکش میں حاضر الوقت نظام کے قوانین، مذہب، اخلاق اور تصورات کا پورا مجموعہ اُس نظام کی حمایت کرتا ہے جو اس دَور میں پہلے سے قائم تھا۔ اس کے مقابلے میں نئی اُبھرنے والی طاقتیں، جن کا اصل مطالبہ معاشی نظام ہی کو بدلنے کے لیے ہوتا ہے، اس امر پر مجبور ہوتی ہیں کہ قانونی، مذہبی اور اجتماعی تصورات کے اس پرانے مجموعے کو رد کر دیں اور جواب میں ایک دوسرا مجموعہ مرتب کریں جو ان کے مطلوبہ معاشی نظام سے مناسبت رکھتا ہو۔ ایک مدت تک طبقاتی نزاع (class-struggle) برپا رہتی ہے۔ آخر کار اس نزاع کے نتیجے میں معاشی نظام بدل جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ہی پرانے قانونی، مذہبی، اخلاقی اور فلسفیانہ تصورات کو بھی نئے تصورات کے لیے جگہ خالی کرنی پڑتی ہے۔

یہ ہے مارکس کی وہ مادی تعبیر تاریخ جس کو تاریخی مادیت (historical materialism) یا جدلی مادیت (dialectic materialism) کہا جاتا ہے۔ اس میں انسانی تمدن و تہذیب کے ارتقا اور تاریخ کے تمام تغیرات کا محور اسباب معیشت کی فراہمی اور تقسیم کے سوال کو قرار دیا گیا ہے۔ مارکس کی نگاہ میں پوری انسانی زندگی اسی محور پر گھومتی ہے اور اس کو حرکت دینے والی طاقت دراصل طبقاتی نزاع کی طاقت ہے۔ اس کے نزدیک مذہب، اخلاق اور انسانی تہذیب و تمدن کے لیے کوئی ایسے مستقل اصول موجود نہیں ہیں جو ازلی و ابدی ہوں اور بجائے خود حق اور صدق ہوں۔ اس کے بجائے وہ یہ سمجھتا ہے کہ انسان پہلے اپنے مادی مفاد اور اپنی معاشی اغراض کے لیے ایک طریقہ اختیار کرتا ہے، پھر اس کو مستحکم کرنے اور اچھی طرح کامیابی کے ساتھ چلانے اور برحق بنانے کے لیے ایک مذہب اور ایک فلسفہ اخلاق اور ایک نظام افکار و تصورات گھڑ لیتا ہے۔ اُس کے خیال میں یہ بالکل ایک فطری اور معقول بات ہے کہ انسانوں کا جو طبقہ کسی دوسرے طریقے میں اپنا معاشی مفاد مضمر پائے وہ سابق معاشی نظام کے تحت پچھلے مذاہب و اخلاق اور تہذیبی و تمدنی نظریات کو بھی رد کر دے اور اپنے مفاد کے مطابق دوسرے عقیدے اور اصول گھڑے۔ وہ سمجھتا ہے کہ خود غرضانہ کشمکش عین تقاضائے فطرت ہے اور انسانی تاریخ کے ارتقا کا راستہ بس یہی ایک ہے کہ انسانوں کے مختلف طبقے اپنی اغراض اور اپنے مفاد کے لیے جھگڑیں، ٹکرائیں اور چھین جھپٹ کریں۔ آدمی تاریخ کی شاہراہ پر اسی طرح لڑتا جھگڑتا آ رہا ہے اور اس کا کام یہی ہے کہ آگے بھی یونہی لڑ جھگڑ کر چلے۔ مصالحت اور موافقت کی اگر کوئی بنیاد ہے تو وہ صرف معاشی اغراض کا اتحاد ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں متحد ہوں، انھیں ایک گروہ بننا ہی چاہیے۔ اور جن لوگوں سے اس معاملے میں ان کا اختلاف ہو، ان سے انھیں لڑنا ہی چاہیے۔

اس مضمون میں ہمارے پیشِ نظر ہیگل اور مارکس کے نظریات پر کوئی تفصیلی تنقید کرنا نہیں ہے۔ یہاں ہم جو کچھ بتانا چاہتے ہیں، وہ صرف یہ ہے کہ ان نظریات نے مذہب، اخلاق اور تہذیب و عمران کے متعلق بالعموم موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ لوگوں کا نقطۂ نظر بنیادی طور پر غلط کر کے رکھ دیا ہے۔جو لوگ ہیگل سے متاثر ہوئے ہیں، ان کے دماغ میں دو باتیں گہری جڑوں کے ساتھ بیٹھ گئی ہیں۔

ایک یہ کہ ہر دَور کی پوری تہذیب ایک وحدت ہوتی ہے۔ اخلاق، قوانین، مذہب، سائنس، فلسفہ، آرٹ اور بین الانسانی روابط جو ایک دَور میں پائے جاتے ہیں، سب کے سب اپنے دَور کے اجتماعی مزاج یا اپنے عہد کی کلّی رُوح کے مظاہر ہوتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ جب ایک تہذیب خوب پک چکتی ہے تو خود بخود تاریخی اسباب کی بنا پر اسی تہذیب کے اندر سے رجحانات کا ایک نیا مجموعۂ افکار و نظریات اور تصورات کا ایک نیا لشکر نمودار ہوتا ہے، جو پرانے اصولِ تہذیب و تمدن سے جنگ کرتا ہے، یہاں تک کہ ایک نئی تہذیب وجود میں آتی ہے، جس میں پرانی تہذیب کے صالح عناصر باقی رہ جاتے ہیں اور غیر صالح عناصر کی جگہ نئے رجحانات کے قیمتی اجزا لے لیتے ہیں۔ اس طرح یکے بعد دیگرے جو نئی تہذیبیں وجود میں آتی چلی جاتی ہیں ان میں سے ہر بعد کی تہذیب پرانی تہذیبوں سے افضل ہوتی ہے، کیونکہ وہ پرانی تمام تہذیبوں کے صالح اجزا پر مشتمل ہونے کے ساتھ نئے افکار و نظریات کے قیمتی اجزا بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔

ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے ذہن میں یہ دو خیال جم گئے ہوں، وہ درحقیقت کسی ایسی تعلیم پر ایمان رکھ ہی نہیں سکتے جو اب سے صدیوں پہلے (اُن کے عقیدے کے مطابق ایک گزرے ہوئے تہذیبی دَور میں) دی گئی ہو۔ ان کے سامنے جب ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور محمد علیہم السلام کے نام لیے جائیں گے تو وہ یہی جواب دیں گے کہ یہ سب کے سب اپنے اپنے دَور کی پیداوار تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے عہد کی تہذیب کے مقابلے میں ایک جواب دعویٰ (antithesis) پیش کیا تھا، جو ایک کشمکش کے بعد ایک مرکّب تہذیب (synthesis) کا جز بن گیا۔ اس کے بعد اور کتنے ہی جواب دعویٰ پیش ہو چکے ہیں اور کتنے ہی مرکب بن چکے ہیں، یہاں تک کہ انسانی تہذیب ترقی کرتے کرتے ہمارے اس دَور تک پہنچی ہے۔ ہم اُن لوگوں کی قدر اس لحاظ سے ضرور کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے اپنے عہد میں انسانی تہذیب کو آگے بڑھانے کے لیے کام کیا، مگر اب کسی پرانے جواب دعویٰ کو پھر سے سامنے لانے کا کون سا موقع ہے۔

مارکس کے پیرو ہیگل کے متبعین کے ساتھ مذکورہ بالا دونوں خیالات میں شریک ہیں، اور پھر ایک تیسرے خیال کا اُن کے دماغ پر مزید تسلط ہو گیا ہے۔ وہ ان تمام مذہبی، اخلاقی اور قانونی تصورات کو، جو کسی خاص تاریخی عہد میں پائے جاتے ہوں، اُسی خاص دَور کے معاشی نظام کی پیدا کردہ چیز سمجھتے ہیں، اور ان کا خیال یہ ہے کہ وہ تصوّرات اور اصول و قوانین اپنے ہی دَور کے معاشی نظام کی حمایت و حفاظت کے لیے وضع کیے گئے ہوتے ہیں۔ لہٰذا منطقی طور پر اُن کے اس عقیدے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جب انسان کی معاشی ضروریات مہیا کرنے کا طریقہ (system of production & distribution) بدل جائے تو اس کے ساتھ ہی مذہب، اخلاق، قانون ہر چیز کو بدل جانا چاہیے، کیونکہ ان کا جوڑ صرف پرانے نظامِ معیشت ہی کے ساتھ تھا، نئے نظام کی رُوح سے ان کو کوئی مناسبت نہیں۔

کون کہہ سکتا ہے کہ اس مارکسی نظریے پر جو شخص اعتقاد رکھتا ہو، وہ صدیوں پہلے کی کسی مذہبی تعلیم یا کسی شریعت یا کسی اخلاقی سسٹم پر ایمان رکھ سکتا ہے۔

ابھی حال میں ہمارے ایک اشتراکی بھائی نے ”سوشلزم کیا نہیں ہے“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جس میں انھوں نے ثابت کرنا چاہا تھا کہ سوشلزم اور اسلام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ ممکن ہے اُن کی طرح بعض دوسرے اشتراکی حضرات بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں، اس لیے میں ان سے عرض کروں گا کہ ایک مرتبہ وہ مارکس کی مادّی تعبیرِ تاریخ اور اس کے منطقی نتائج پر اچھی طرح غور کریں اور پھر سوچیں کہ اس نظریے کو تسلیم کرنے کے بعد کسی شخص کے لیے اپنے آپ کو مسلمان کہنے کی کون سی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ ہر شخص کو عقیدے کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔ وہ اگر مارکسی نظریے کو صحیح سمجھتے ہیں تو اُسے ضرور اختیار کریں مگر انھیں کم از کم اپنے دماغ کو تو صاف رکھنا چاہیے۔ ایک عقیدے کی پیروی کے ساتھ یہ دعویٰ کرنا کہ ہم ساتھ ہی اس کی ضد کے بھی معتقد ہیں، سخت دماغی اُلجھاؤ کا پتا دیتا ہے اور یہ البتہ افسوس ناک ہے۔

ہیگل اور مارکس دونوں نے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، مگر دونوں اس کی یافت میں ناکام ہوئے ہیں۔ انھوں نے حقیقت کے صرف ایک جز کو پایا اور اُسے کُل حقیقت قرار دینے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود بھی غلطی میں مبتلا ہوئے اور دوسروں کے لیے بھی غلط فہمیوں کا جال بنا کر چھوڑ گئے۔

ہیگل کے فلسفۂ تاریخ میں جو چیز صحیح ہے، وہ صرف اس قدر ہے کہ تاریخ کے دوران میں انسانی تمدن و تہذیب کا ارتقا، اضداد کی جنگ اور پھر ان کی مصالحت کی صورت میں ہوتا رہا ہے، لیکن اس صحیح خیال کے ساتھ اس نے بہت سے تخیلات کی آمیزش کر کے ایک ایسے نظریے کی عمارت کھڑی کر دی جس کے اکثر ستون محض ہوا پر کھڑے کیے گئے ہیں۔

اس کا خدا کو روح عالم قرار دینا اور یہ کہنا کہ خدا انسان کو خود اپنی تکمیل کا آلہ بنا رہا ہے، اور انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقا کی تاریخ دراصل اپنے منتہائے کمال کی طرف خود خدا کے سفر کی تاریخ ہے، یہ سب کچھ محض ایک مہمل خیال آرائی ہے، جس کے لیے زمین و آسمان میں کوئی ثبوت ...... جسے ثبوت کہا جا سکے ...... موجود نہیں۔

پھر اس کا یہ خیال کہ تاریخ کے تھیٹر میں انسان محض ایک بے شعور، بے اختیار، بے ارادہ ایکٹر ہے، اور یہ کہ دراصل وہ خدا ہی ہے جو انسانوں کے واسطے سے متضاد افکار پیش کرتا ہے، ان کو لڑاتا ہے اور پھر اُن کے درمیان مصالحت سے فکر و خیال کی نئی صورتیں بناتا رہتا ہے، یہ بھی ایک بے ثبوت اور بے بنیاد قیاس ہے، جس کی تائید کسی علمی حقیقت سے نہیں ہوتی۔

یہ ہیگل کی بنیادی غلطیاں ہیں جنھوں نے اس کے پورے فلسفے کو ایک چیستان بنا دیا ہے۔ اس کے بعد جب ہم اس کے جدالی تاریخی کے نظریے کو دیکھتے ہیں، تو باوجود یکہ یہ نظریہ اپنے اندر صداقت کی ایک جھلک رکھتا ہے، ہمیں اس کے اندر قیاس آرائی (speculation) کا عنصر بہت زیادہ اور تاریخ کے حقیقی واقعات سے استشہاد بہت کم نظر آتا ہے۔ اس نے یہاں تک تو ٹھیک اندازہ لگایا کہ تاریخ کے دوران میں متضاد خیالات کے درمیان نزاع برپا رہی ہے، اور پھر ان اضداد کے درمیان مصالحت ہو کر ان کا ایک مرکب انسانی تہذیب وتمدن کا جز بنتا رہا ہے، مگر اس نے واقعات کے اندر اُتر کر یہ تحقیق کرنے کی زحمت نہیں اُٹھائی ہے کہ جن اضداد کے درمیان نزاع ہوتی ہے، ان کی حقیقی نوعیت کیا ہے، پھر ان کے درمیان مصالحت کیوں ہوتی ہے، اور اس مصالحت سے جو مرکب بنتا ہے، وہ آگے چل کر پھر کیوں اپنے اندر سے اپنا ایک دشمن پیدا کر دیتا ہے۔ اس جدلی عمل کا تفصیلی اور تحلیلی مطالعہ کرنے کے بجائے ، ہیگل اس پر یوں نگاہ ڈالتا ہے جیسے کوئی پرندہ فضا میں اڑتے ہوئے کسی شہر کا ایک مجمل جائزہ لیتا ہو۔

مارکس کو اتنی بلند خیالی بھی نصیب نہیں ہوئی جو ہیگل کے حصے میں آئی ہے، وہ انسان کی فطرت، اس کی ساخت اور اس کی ترکیب کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ باہر کے حیوان کو تو دیکھ لیتا ہے جسے معاشی ضروریات لاحق ہوتی ہیں مگر اس کے اندر کے انسان کو نہیں دیکھتا جو اس بیرونی حیوان کے خول میں رہتا ہے، جس کے لیے بیرونی حیوان کو آلہ بنایا گیا ہے، اور جس کی فطرت کے مقتضیات، بیرونی حیوان کی طبیعت سے بہت مختلف ہیں۔ اس کم نظری و کوتاہ بینی نے اس کے تمام عمرانی نظریات کو یکسر غلط کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اندر کا انسان باہر کے حیوان کا تابع اور خادم بلکہ غلام ہے۔ اس کو عقل، استدلال، فکر، جستجو، مشاہدہ، وجدان، تحقیق اور تخلیق کی جو قوتیں دی گئی ہیں، وہ سب کی سب محض بیرونی حیوان کی خواہشات، اغراض اور ضروریات کی خدمت کے لیے ہیں۔ لہٰذا اندر والے انسان نے آج تک اس کے سوا کچھ نہیں کیا، نہ وہ آئندہ کرے گا، نہ وہ اس کے سوا کچھ کر سکتا ہے کہ بس اپنے آقا، یعنی باہر والے حیوان کی خواہشات کے مطابق اخلاق اور قانون کے اصول بنائے، مذہب کے تصورات گھڑے، اور اپنے لیے زندگی کا راستہ معین کرے...... انسان کی حقیقت کا یہ کتنا گھٹیا اندازہ ہے! تہذیب کا یہ کتنا ذلیل تصور ہے! کتنا پست ہے وہ ذہن جس نے اس تصور کو پیدا کیا اور کتنے بلید ہیں، وہ ذہن جو اسے قبول کرتے ہیں !

اس سے انکار نہیں کہ بیرونی حیوان کے احساسات اور مطالبے، اندرونی انسان کی قوت فیصلہ پر اثر ڈالتے ہیں۔ اور اس سے بھی انکار نہیں کہ بہت سے انسان اپنی حیوانیت سے مغلوب ہو جاتے ہیں ، مگر مارکس کا یہ خیال کتنا غلط ہے کہ اندر کا انسان باہر کے حیوان پر کوئی حاکمانہ اثر نہیں ڈالتا۔ اور اس نے تاریخ تہذیب انسانی کو کتنا غلط پڑھا ہے کہ ساری تہذیب اس کو انھی انسانوں کی بنائی ہوئی نظر آتی ہے جن کی انسانیت اپنی حیوانیت کی تابع تھی۔ حالانکہ اگر وہ آزادانہ نگاہ سے دیکھتا تو اسے نظر آتا کہ انسانی تہذیب میں جو کچھ قیمتی اور شریف اور صالح ہے ، وہ سب اُن لوگوں کا عطیہ ہے جنھوں نے حیوانیت کو انسانیت کا تابع اور محکوم بنا کر رکھا تھا، اور جنھوں نے اپنی طاقتور شخصیت سے حیوان صفت انسانوں کی عظیم اکثریت کو متاثر کر کے تہذیب و شائستگی ، اخلاق و روحانیت، اور عدل وانصاف کے مستقل اصول انسانی زندگی میں داخل کیے تھے۔

اگر ہیگل اور مارکس نے قرآن کو پڑھا ہوتا تو انھیں انسان کی حقیقت کو سمجھنے اور ارتقائے تہذیب انسانی کے اساسی قانون کو دریافت کرنے میں وہ ٹھوکریں نہ لگتیں جو انھوں نے خود گمان اور قیاس کے تیر تکے لڑانے کی وجہ سے کھائی ہیں۔ قرآن کا علم الانسان اور فلسفہ تاریخ ان تمام مسائل کو نہایت صحیح اور تشفی بخش طریقے سے حل کرتا ہے جن میں یہ لوگ الجھ کر رہ گئے ہیں۔

قرآن کی رُو سے انسان محض اُس حیوانی (biological) وجود کا نام نہیں ہے جو بھوک، شہوت ، حرص ، خوف، غضب وغیرہ داعیات کا محل ہے بلکہ دراصل ”انسان“ وہ روحانی وجود ہے جو اس اوپر کے حیوانی خول کے اندر رہتا ہے ، اور اخلاقی احکام کا محل ہے۔ اس کو دوسرے حیوانات کی طرح جبلت (Instinct) کا غلام نہیں بنایا گیا ہے بلکہ اسے عقل ، تمیز ، اکتساب علم اور فیصلے کی قوتیں دے کر ایک حد تک خود اختیاری (autonomy) عطا کی گئی ہے۔ دوسرے حیوانات کی طرح قدرت اسے ایک لگے بندھے راستے پر نہیں چلاتی اور نہ اس کی ضروریات کی بالکلیہ خود کفیل بنتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کوشش (سعی) کی قوت دے کر دنیا میں چھوڑ دیا ہے تاکہ وہ جو کچھ حاصل کرے اپنی کوشش سے کرے، اپنی کوشش کے لیے جو رُخ اور جو راستہ چاہے اختیار کرے، اور اپنے اختیار کردہ رُخ پر جہاں تک بڑھ سکتا ہے بڑھتا چلا جائے۔ اسی خود اختیاری کی حامل اور اسی کوشش کی قوت رکھنے والی ، اور اپنی کوشش کے لیے خود ہی سمت اور راستہ منتخب کرنے والی روح کا نام انسان ہے۔

رہا باہر کا حیوان ، تو دراصل وہ اس اندرونی انسان کو خادم اور آلہ کار کے طور پر دیا گیا ہے۔ یہ خادم جاہل ہے۔ اس کے پاس صرف خواہشات اور جسمانی مطالبات ہیں۔ اس کا نصب العین محض اپنے مرغوبات کو حاصل کرنا اور اپنی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے۔ یہ اندر کے انسان کو الٹا اپنا ہی خادم بنانا چاہتا ہے اور اسے مجبور کرتا ہے کہ اپنی عقلی و علمی قابلیتوں سمیت وہ محض اس کے حیوانی مقاصد کی تحصیل کا آلہ کار بن کر رہ جائے۔ یہ اس کی پرواز فکر کو اوپر کے بجائے نیچے کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس کی نگاہ کو تنگ کرتا ہے۔ اسے محسوسات کا غلام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اس کے اندر جاہلیت کے تعصبات پیدا کرتا ہے۔

اس کے برعکس وہ انسان جو اندر بیٹھا ہے، اس کی فطرت تقاضا کرتی ہے کہ اس بیرونی حیوان کو اپنا خادم بنائے ۔ اللہ نے اس کو فجور اور تقویٰ کا الہامی علم دیا ہے۔ نیکی اور بدی کے مختلف راستوں (نجدین) میں تمیز کرنے کی استعداد بخشی ہے۔ اس کے اندر ایک ایسی اخلاقی حس رکھ دی ہے جو اندر ہی اندر تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنی حیوانی ضروریات کو بھی جانوروں کی طرح نہیں بلکہ انسانیت کے شایان شان طریقے سے پورا کرے۔ وہ حیوانی طریقے اختیار کرنے میں آپ سے آپ شرم محسوس کرتا ہے۔ اس کا نصب العین حیوانیت کے نصب العین سے بلند تر ہے۔ وہ ایک زیادہ اعلیٰ درجے کے وجود میں تبدیل ہونا چاہتا ہے۔ اس کے اندر وجدانی طور پر یہ طلب پائی جاتی ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی زندگی کسی اعلیٰ و ارفع مقصد کے لیے ہے۔

پوری انسانی تاریخ دراصل اسی کشمکش کا ایک مرقع ہے جو اندر کے انسان اور باہر کے حیوان میں برپا ہے۔ باہر کا حیوان اندرونی انسان کو نیچے کھینچتا ہے اور اپنا تابع بنا کر زندگی کے وہ ٹیڑھے راستے پیدا کرتا ہے جن میں ظلم اور عدوان ہے ، فحشا اور منکر ہے، گناہ اور بغی ہے، شہوات کی بندگی ہے ، لذات نفس کی غلامی ہے ، انسانی تعلقات اور روابط کی ناہموار ی ہے۔ اندر کا انسان اس حالت سے مطمئن نہیں ہوتا اور اس کے خلاف بغاوت کرتا ہے، مگر بیرونی حیوان کو اپنا تابع بنانے کی کوشش میں وہ کچھ دوسرے ٹیڑھے راستے پیدا کر لیتا ہے جن میں رہبانیت اور ترک دنیا ہے، نفس کشی اور فطری ضروریات سے انحراف ہے، تمدن اور اجتماعی زندگی کے فرائض سے فرار ہے۔ بیرونی حیوان بھی اس کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور انسان کو پھر اپنے ٹیڑھے راستوں کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔

افراط اور تفریط کی یہ دونوں طاقتیں بار بار اپنا زور کرتی ہیں۔ ہر ایک کے اثر سے کچھ ایسے نظریات، اصول اور طریقے پیدا ہوتے ہیں جو ایک عنصر حق کا اور کچھ عناصر باطل کے اپنے اندر رکھتے ہیں۔ کچھ دنوں تک انسان ان مخلوط اصولوں اور طریقوں کا تجربہ کرتا ہے۔ آخر کار اس کی اصلی فطرت، جو شعوری یا غیر شعوری طور پر صراطِ مستقیم کے لیے بے چین رہتی ہے، ٹیڑھے راستوں سے بیزار ہو کر ان کے باطل عناصر کو پھینک دیتی ہے اور ان کے صرف وہ حصے انسانی زندگی میں باقی رہ جاتے ہیں جو حق اور راست ہیں۔ <<كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَ اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ [ ”اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال دیتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اکارت جاتا ہے اور جو انسانوں کے لیے فی الحقیقت نافع ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتا ہے۔“ (الرعد ۱۷:۱۳)]>> (الرعد 17:13) لیکن افراط و تفریط کے ایک مجموعے کی ناکامی کے بعد ایک دوسرا مجموعہ میدان میں آ جاتا ہے، پھر کچھ مدت تک کشمکش برپا رہتی ہے، اور پھر انسانی فطرت اس کو انھی وجوہ سے ردّ کر دیتی ہے جن وجوہ سے وہ پہلے حق و باطل کے مخلوط مجموعوں کو ردّ کرتی رہی ہے۔

اس طرح تاریخ کے دوران میں انسانی تہذیب وتمدن کا ارتقا ایک ایسے خطِ منحنی کی شکل میں ہوتا رہا ہے جو بار بار ایک خطِ مستقیم کے گرد چکر کاٹتا چلا جاتا ہے۔ اس کی مثال اس نقش کی سی ہے:

ا۔۔۔۔۔ب

اس مثال میں (ا ۔ ب) انسانی زندگی کا وہ فطری راستہ ہے جسے قرآن صراطِ مستقیم، رُشد، ہدایت، سواء السبیل اور سبیل ربّ وغیرہ سے تعبیر کرتا ہے۔ انسانیت ابتدا میں اپنی فطری حالت پر تھی كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً (البقرہ 213:2) پھر انسانوں میں اپنی حد جائز سے گزرنے کے میلانات پیدا ہوئے۔ وَمَا اخْتَلَفَ فِيْهِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ (البقرہ 213:2) یہ میلانات انسان کو بار بار صراطِ مستقیم سے ہٹا کر دُور لے جاتے رہے۔ ہر بار تجربات کی تلخی اور انسانی فطرت کی بے چینی اس کو راہِ فطرت کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کرتی رہی۔ مگر انسان راہِ فطرت پر پہنچ کر پھر دوسری طرف دُور نکل جاتا رہا۔ اور پھر فطرت کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوتا رہا۔

ہیگل جن کو دعویٰ اور جواب دعویٰ کہتا ہے وہ وہی انتہا پسندانہ میلانات ہیں جو کبھی خطِ مستقیم کے اس طرف اور کبھی اس طرف انسان کو کھینچ کر لے جاتے ہیں۔ اور وہ جسے ترکیب و امتزاج سے تعبیر کرتا ہے، وہ بعینہٖ وہ نقطے ہیں جہاں یہ خطِ منحنی صراطِ مستقیم کو کاٹتا ہے۔

ہیگل اور مارکس دونوں کو تاریخ میں یہ خطِ منحنی تو نظر آ گیا، مگر وہ اس خطِ مستقیم کو نہ دیکھ سکے جو ازل سے ابد تک سیدھا کھینچا ہوا ہے، جس پر چلنے کے لیے انسان کی اصلی فطرت خود بخود تقاضا کرتی ہے، اور جس کا ان ٹیڑھے راستوں کے درمیان موجود ہونا ایک ایسی حقیقت ہے کہ ہر انسان کا قلب اس کی شہادت دیتا ہے۔ اسی کو تلاش کرنے کی بے چینی ہر سوچنے والے انسان کے اندر موجود ہے۔

صرف انبیاء علیھم السلام ہی وہ لوگ ہیں جن کو یہ صراطِ مستقیم معلوم تھی۔ انھوں نے بار بار آ کر انسان کو اس درمیانی راہِ راست کی طرف بلایا، اور اس سیدھے خط پر انسانی تہذیب کو عملاً قائم کر کے دکھا دیا۔

<< لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ >> الحدید 25:57

ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) اتاری تا کہ لوگ عدل کے طریقے پر قائم ہوں۔

ترجمان القرآن

(جمادی الاخریٰ ۱۳۵۸ھ مطابق اگست ۱۹۳۹ء)