تفہیمات – جلد دوم
اشاعت: 1950ءمجموعہ: تفہیمات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
تفہیمات کی جلد دوم۔ اس جلد میں 106 مضامین شامل ہیں، جن کی ابتدا «(۱) تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفوس اور تعلیم کتاب وحکمت»، «(۲) تکمیل دین»، «قصّۂ داؤد (علیہ السلام) اور اسرائیلی خرافات»، «حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا»، «دو قاعدے»، «’جن‘ کی لغوی تحقیق» سے ہوتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
فرضیتِ جمعہ
تمام علمائے اُمت کا اس امر پر اجماع ہے کہ جمعہ فرضِ عین ہے۔ فقہائے حنفیہ بھی اس اجماع میں شریک ہیں۔ چنانچہ علامہ سرخسی اپنی کتاب ’’المبسوط‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’جمعہ از روئے کتاب وسنت فرض ہے۔۔۔۔۔۔ اس کی فرضیت پر اُمت کا اجماع ہے‘‘۔
علامہ ابن ہمام، فتح القدیر میں لکھتے ہیں:
’’جمعہ ایک ایسا فرض ہے جس کو محکم کرنے والی چیز کتاب وسنت ہے اور اس کے منکر کے کفر پر اُمت کا اجماع ہے۔ (ج ۱ ص ۴۰۷)
پھر نہایت تفصیل کے ساتھ دلائلِ فرضیت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
”ہم نے فرضیت کے باب میں ایک طرح کے طول کلام سے اس لیے کام لیا ہے کہ بعض جاہلوں کے متعلق سننے میں آیا ہے کہ وہ جمعہ کی عدمِ فرضیت کا خیال مذہب حنفی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اُن کی یہ غلط فہمی دراصل قدوری کے اس قول سے ہوئی جس پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے کہ جس نے جمعہ کے روز بغیر کسی عذر کے گھر ہی پر ظہر کی نماز پڑھ لی اس کی نماز تو ہو گئی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔ اس قول میں مکروہ سے مراد دراصل حرام ہے، اور نمازِ ظہر کے صحیح ہو جانے کا جو مطلب ہے وہ ہم آگے بیان کریں گے۔ بہر حال ہمارے اصحاب (حنفیہ) نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ جمعہ کی فرضیت ظہر کی فرضیت سے بھی زیادہ سخت ہے، اور یہ کہ جمعہ کا منکر کافر ہے۔ (ص ۴۰۸)
علامہ بابرتی شرح العنایہ علی الہدایہ میں لکھتے ہیں:
ہم کو اقامتِ جمعہ کی خاطر نمازِ ظہر چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور ظہر لا محالہ فرض ہے، اور فرض صرف اسی چیز کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے جو اس سے زیادہ فرض ہو۔ (جلد اوّل ص ۴۰۸)
ان اقوال سے معلوم ہوا کہ نمازِ جمعہ استنباطی اور اجتہادی واجبات میں سے نہیں ہے، بلکہ نصوصِ صریحہ نے اس کو مسلمانوں پر فرض کیا ہے، اور اس کی فرضیت اس نوع کی ہے کہ اس سے (یعنی اس کی فرضیت سے) انکار انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے فرض کو مسلمانوں کے کسی گروہ پر سے ساقط کرنے میں سخت احتیاط اور خشیت کی ضرورت ہے۔
اوّل تو فرضِ منصوص کو صرف نص ہی ساقط کر سکتی ہے۔ کسی انسان کا قول اس درجے کی حجت نہیں ہے کہ اس کی بنیاد پر اُسے ساقط کیا جا سکے۔
دوسرے اگر کسی امام یا فقیہ کے کسی قول سے اس کے اسقاط کا پہلو نکلتا ہو تو نہایت احتیاط کے ساتھ یہ تحقیق کرنا چاہیے کہ قائل کا مدعا حقیقت میں ہے کیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جن حالات اور جن وجوہ سے اس نے یہ پہلو اختیار کیا تھا وہ اپنی جگہ درست ہوں، اور ہم وجوہ واحوال سے صرفِ نظر کر کے مجرد اس کے الفاظ کی پیروی کرنے میں غلطی کر رہے ہوں؟
پھر کسی فرض کو کسی حال یا مقام پر غیر فرض قرار دینے میں جتنی احتیاط کی ضرورت ہے، اُس سے بدرجہا زیادہ احتیاط کی ضرورت اُسے ممنوع اور حرام اور گناہ قرار دینے میں برتنی چاہیے۔ فرض منصوص اور حرمت و معصیت کے درمیان بہت بڑی مسافت ہے، اس مسافت کو قطع کرنے کے لیے بڑی محکم سواری کی ضرورت ہے۔ کمزور سواریوں کے بل پر اس راہ میں آگے بڑھنا خطرناک ہے۔